Wednesday, 24 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Nanga Tourism Nahi Chahiye

Nanga Tourism Nahi Chahiye

ننگا ٹورزم نہیں چاہیے

پہاڑ صرف برف سے نہیں ڈھکے ہوتے تہذیب سے بھی ڈھکے ہوتے ہیں دریا صرف پانی نہیں بہاتے نسلوں کی روایات بھی اپنے ساتھ لیے چلتے ہیں اور وادیاں صرف سیاحوں کی تصویروں کے لیے نہیں ہوتیں وہاں لوگوں کی عزتیں اقدار اور صدیوں پرانی ثقافت بھی سانس لیتی ہے۔ گلگت بلتستان کو اللہ نے حسن کی وہ دولت عطا کی ہے جسے دیکھنے کے لیے دنیا کے کونے کونے سے لوگ آتے ہیں ہم مہمان نوازی کو عبادت سمجھتے ہیں آنے والے ہر شخص کو خوش آمدید کہتے ہیں اس کے لیے اپنے گھر کے دروازے بھی کھول دیتے ہیں مگر مہمان نوازی کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ میزبان کی تہذیب کو پامال کیا جائے۔

افسوس یہ ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں سیاحت کے نام پر ایک ایسا رویہ فروغ پا رہا ہے جس نے مقامی آبادی کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے بعض سیاح، خواہ وہ پنجاب سے ہوں کراچی سے ہوں یا ملک کے کسی بھی دوسرے حصے سے یہاں آ کر ایسے لباس اور طرزِ عمل کا مظاہرہ کرتے ہیں جو اس خطے کی سماجی اور مذہبی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتا یہ اعتراض کسی علاقے یا قوم پر نہیں بلکہ ایک رویے پر ہے۔ بے حیائی کا کوئی صوبہ نہیں ہوتا اور حیا کی بھی کوئی جغرافیائی حد نہیں ہوتی آزادی کا مطلب بے حیائی نہیں ہے جو بھی سیاح آتے ییں وہ یہاں کی روایات کی پاسداری کریں عریانیت اور بے حیائی کو فروغ نہ دیں اپنے اپنے علاقوں میں جس طرح کے کپڑے ہیں مگر یہاں ایسی روایات مت ڈالیں جو معاشرے میں خرابی کا سبب بنیں اور معصوم ذہن آلودہ ہوجائیں۔ محرم الحرام جیسے مقدس مہینے میں بھی اگر تفریح کے نام پر ایسی حرکات دیکھنے کو ملیں جو مقامی لوگوں کے مذہبی جذبات اور سماجی حساسیت کو مجروح کریں تو سوال اٹھنا فطری ہے کیا سیاحت کا مطلب صرف یہ رہ گیا ہے کہ انسان اپنی ہر حد بھول جائے؟ کیا آزادی کا مطلب دوسروں کی تہذیب کو نظر انداز کرنا ہے؟

دنیا کے ہر مہذب ملک میں سیاحوں کو بتایا جاتا ہے کہ مقامی ثقافت، مذہبی روایات اور لباس کا احترام کریں اگر آپ کسی مسجد، مندر، گرجا یا مقدس مقام پر جائیں تو وہاں کے اصولوں کی پابندی کرتے ہیں پھر گلگت بلتستان کی وادیوں کو یہ حق کیوں حاصل نہیں کہ ان کی تہذیب کا بھی احترام کیا جائے افسوس کی بات یہ ہے کہ متعلقہ ادارے، ضلعی انتظامیہ، سیاحتی محکمے اور مقامی قیادت اکثر خاموش دکھائی دیتے ہیں شاید انہیں لگتا ہے کہ چند دن کے سیاح زیادہ اہم ہیں اور صدیوں پرانی تہذیب کم اہم مگر یاد رکھیے اگر ثقافت ختم ہو جائے تو صرف پہاڑ باقی رہ جاتے ہیں۔

قومیں نہیں جب کسی معاشرے میں عریانیت پنپنے لگتی ہے تو وہاں اللہ کا عذاب بھی نازل ہونے میں دیر نہیں لگتے ہمیں سیاحت چاہیے مگر تہذیب کے ساتھ ہمیں معیشت چاہیے مگر اقدار کی قیمت پر نہیں ہمیں مہمان چاہیے۔ مگر ایسے مہمان جو میزبان کے گھر کے آداب بھی جانتے ہوں لہٰذا وقت آ گیا ہے کہ سیاحتی مقامات پر واضح ضابطۂ اخلاق نافذ کیا جائے آگاہی مہم چلائی جائے اور ہر آنے والے کو بتایا جائے کہ گلگت بلتستان صرف ایک خوبصورت منظر نہیں۔ بلکہ ایک زندہ تہذیب ہے جہاں چادر، چار دیواری، حیا اور احترام آج بھی معاشرتی شناخت کا حصہ ہیں۔

ہم دنیا کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن اپنی شناخت کی قیمت پر نہیں ہمیں سیاحت چاہیے، ننگا ٹورزم نہیں۔

Check Also

Musalsal Zawal Ki Zad Mein Aaya Bartania

By Nusrat Javed