Aalmi Adam Ke 100 Azeem Novel
عالمی ادب کے سو عظیم ناول

کتابوں کی دنیا میں بعض فہرستیں محض فہرستیں نہیں ہوتیں بلکہ پوری تہذیب کے ادبی شعور کا آئینہ بن جاتی ہیں۔ چند برس قبل برطانیہ کے معروف اخبار گارڈین نے ایک ایسا ہی دلچسپ اور اہم ادبی سروے شائع کیا جس میں تقریباً ایک سو بہتر ناول نگاروں، نقادوں، ادیبوں اور ادبی شخصیات سے ان کے پسندیدہ ناولوں کے بارے میں رائے طلب کی گئی۔ ان آراء کی بنیاد پر دنیا کے سو عظیم ترین ناولوں کی ایک فہرست مرتب کی گئی۔ اس فہرست کی اہمیت صرف اس لیے نہیں کہ اس میں مختلف زبانوں اور ملکوں کے شاہکار ناول شامل ہیں بلکہ اس لیے بھی کہ یہ جدید عالمی ادبی ذوق اور تنقیدی شعور کی نمائندگی کرتی ہے۔
اس فہرست میں جارج ایلیٹ کا "مڈل مارچ" سرفہرست ہے جبکہ ٹونی موریسن کا "دلاری"، جیمز جوائس کا "یولیسس"، ورجینیا وولف کا "لائٹ ہاؤس کی سیر"، مارسل پروست کا "وقتِ گزشتہ کی تلاش"، لیو ٹالسٹائی کا "آنا کریننا" اور "جنگ اور امن"، شارلٹ برونٹے کا "جین ائیر" اور جین آسٹن کا "تکبر و تعصب" جیسے لازوال ناول بھی اس میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ یہ فہرست محض مغربی ادب کی نمائندہ نہیں بلکہ اس میں افریقی، لاطینی امریکی، ایشیائی اور مشرقی یورپی ادب کے متعدد شاہکار بھی شامل ہیں۔
اردو کے سنجیدہ قارئین کے لیے اس فہرست کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس میں شامل کئی عظیم ناول اردو زبان میں منتقل ہو چکے ہیں۔ اگرچہ ابھی تک تمام سو ناولوں کے تراجم دستیاب نہیں، تاہم یہ حقیقت خوش آئند ہے کہ اردو مترجمین نے عالمی ادب کے اہم حصے کو اردو قارئین تک پہنچانے میں قابلِ قدر کردار ادا کیا ہے۔ "دلاری"، "یولیسس"، "لائٹ ہاؤس کی سیر"، "آنا کریننا"، "جنگ اور امن"، "جین ائیر"، "تکبر و تعصب"، "مادام بوواری"، "گیٹسبی"، "موبی ڈک"، "مسز ڈیلووے"، "انیس سو چوراسی"، "ودرنگ ہائیٹس" اور "تنہائی کے سو سال" جیسے ناولوں کے اردو تراجم نے ہزاروں قارئین کو ان عالمی شاہکاروں سے متعارف کرایا۔ یہی نہیں بلکہ چینوا اچیبے کے افریقی شاہکار "بکھرتی دنیا"، میگوئل دی سروانتیس کے کلاسیکی ناول "خدائی فوجدار"، فیودر دوستوئیفسکی کے "کرامازوف برداران" اور "جرم و سزا"، میری شیلی کے "فرینکسٹائن" اور جوزف کونراڈ کے "قلبِ ظلمات" جیسے اہم ناول بھی اردو دنیا میں اپنا مقام بنا چکے ہیں۔
ترجمہ دراصل تہذیبوں کے درمیان ایک پل کا کام کرتا ہے۔ ایک اردو قاری شاید کبھی روس، فرانس، آئرلینڈ، کولمبیا، نائجیریا یا جاپان نہ جا سکے، لیکن ایک اچھا ترجمہ اسے ان معاشروں کے دل و دماغ تک رسائی عطا کر دیتا ہے۔ جب کوئی قاری "جنگ اور امن" پڑھتا ہے تو وہ صرف روسی اشرافیہ کی زندگی نہیں دیکھتا بلکہ انسانی تاریخ کے ایک عظیم عہد کا مشاہدہ کرتا ہے۔ "تنہائی کے سو سال" اسے لاطینی امریکہ کے جادوئی حقیقت نگارانہ ماحول میں لے جاتا ہے، "بکھرتی دنیا" افریقہ کی نوآبادیاتی تاریخ سے روشناس کراتی ہے، جبکہ "دلاری" غلامی کے المناک تجربے کو انسانی احساسات کی گہرائی کے ساتھ پیش کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ادب کے تراجم کسی بھی زبان کی فکری وسعت اور ادبی بلوغت کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ اردو زبان خوش قسمت ہے کہ اس نے گزشتہ کئی دہائیوں میں عالمی ادب کے بے شمار شاہکار اپنے دامن میں سمیٹے ہیں۔
تاہم یہ سفر ابھی مکمل نہیں ہوا۔ گارڈین کی اس فہرست میں شامل متعدد اہم ناول ایسے ہیں جن کے اردو تراجم یا تو موجود نہیں یا عام قارئین کی دسترس میں نہیں ہیں۔ "مڈل مارچ"، "وقتِ گزشتہ کی تلاش"، "بلیک ہاؤس"، "ایما"، "قائل کرنا"، "مسٹر بسواس کے لیے ایک گھر"، "آدھا زرد سورج"، "سفید دانت"، "زندگی اور تقدیر" اور "میرا شاندار دوست" جیسے ناول ابھی بھی اردو دنیا میں زیادہ توجہ کے منتظر ہیں۔ اگر اردو کے ناشرین، مترجمین اور ادبی ادارے ان ناولوں کی طرف توجہ دیں تو اردو قارئین عالمی ادب کے ایک اور وسیع ذخیرے سے فیض یاب ہو سکتے ہیں۔ خصوصاً نئی نسل کے مترجمین کے لیے یہ ایک وسیع میدان ہے جہاں وہ اپنی علمی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکتے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ترجمہ محض لفظوں کی منتقلی کا نام نہیں۔ ایک اچھا مترجم زبان کے ساتھ ساتھ تہذیب، تاریخ، نفسیات اور ادبی اسلوب کا بھی ماہر ہوتا ہے۔ بعض ناول ایسے ہوتے ہیں جن کا ترجمہ اصل تخلیق سے کم مشکل نہیں ہوتا۔ "یولیسس"، "وقتِ گزشتہ کی تلاش" اور "لائٹ ہاؤس کی سیر" جیسے ناول اپنی پیچیدہ ساخت اور اسلوب کی وجہ سے دنیا کی مشکل ترین ادبی تخلیقات میں شمار ہوتے ہیں۔ اسی طرح "مڈل مارچ" یا "جنگ اور امن" جیسے ضخیم ناولوں کا ترجمہ صرف زبان دانی نہیں بلکہ برسوں کی محنت اور گہری ادبی بصیرت کا تقاضا کرتا ہے۔ اس تناظر میں اردو مترجمین کی خدمات اور بھی زیادہ قابلِ تحسین محسوس ہوتی ہیں جنہوں نے محدود وسائل کے باوجود عالمی ادب کے اتنے بڑے خزانے کو اردو قارئین تک پہنچایا۔
گارڈین کی یہ فہرست دراصل ایک دعوت ہے، مطالعے کی دعوت، جستجو کی دعوت اور اپنے ادبی افق کو وسیع کرنے کی دعوت۔ اس فہرست میں شامل سو ناول انسان کے تجربات، خوابوں، شکستوں، محبتوں، جنگوں، امیدوں اور المیوں کی سو مختلف کہانیاں ہیں۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کم از کم چونتیس شاہکار اردو لباس پہن کر ہمارے درمیان آ چکے ہیں۔ ممکن ہے اس تعداد میں مزید اضافہ ہو چکا ہو اور کئی تراجم میری اور آپ کی نظر سے نہ گزرے ہوں۔ اگر ایسا ہے تو اہلِ کتاب اور صاحبانِ مطالعہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان معلومات کو یکجا کریں تاکہ اردو قارئین کے لیے عالمی ادب کے دروازے مزید کشادہ ہو سکیں۔ آخرکار زبانیں صرف بولنے کے لیے نہیں ہوتیں، وہ دنیا کو سمجھنے کے لیے بھی ہوتی ہیں اور عالمی ادب کے تراجم ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ انسان خواہ کسی بھی سرزمین، نسل یا زبان سے تعلق رکھتا ہو، اس کے دکھ، خوشیاں، امیدیں اور خواب بنیادی طور پر ایک جیسے ہیں۔

