Sukh Bias Shayad Ab Sukh Ka Saans Lay
سُکھ بیاس شاید اب سُکھ کا سانس لے

سُکھ بیاس کو نئی زندگی دینے کا خواب شاید اب پورا ہو جائے کیوں کہ پنجاب اریگیشن کے انجینئرز نے ایک ایسا کامیاب اور دلچسپ عملی تجربہ مکمل کرلیا ہے جسے اگر پوُرے پنجاب پر پھیلا دیا جائے تو نہ صرف کئی مُردہ دریا دوبارہ زندہ ہوسکتے ہیں بلکہ سیلابی پانی کی تباہ کاریوں سے بھی بچا جاسکتا ہے۔
پچھلے سال (2025) کے سیلاب میں ان انجینیئرز نے تقریباً 12,000 ایکڑ فٹ پانی کو دریائے ستلج سے نکال کر ایک متروکہ سیلابی نہر (اولڈ میلسی کینال) کے 14 کلومیٹر لمبائی میں نہر کے 150 فُٹ چوڑے پیندے سے زیرِزمین جذب کروا دیا جس سے زیرزمین پانی کی سطح اوسطاً 5 فُٹ بلند ہوگئی۔ کئی جگہوں پر تو گروانڈ واٹر ٹیبل 11 فُٹ تک بھی اُوپر اُٹھ آیا۔
محکمہ آب پاشی کے ریسرچ انجینیئرز اس منصوبے کی تیاری سیلاب سے پہلے ہی کر چکے تھے۔ اس مقصد کے لئے اس متروکہ سیلابی نہر کو باقاعدہ صفائی کرکے بحال کیا گیا، اس کے پیندے کے اوپر پڑی گاد کو نہ صرف صاف کیا گیا بلکہ ساڑھے چار کلومیٹر کی لمبائی میں 144 پانی چُوس کنویں بھی بنائے گئے۔
پوری نہر کی کھدائی کرکے اس کو تین بڑے ری چارج تالابوں کی شکل دے دی گئی جن میں سے ہر تالاب کی لمبائی بالترتیب 5.8,3.4 اور 4.6 کلومیٹر تھی۔ نہر کے ان طویل و عریض تالابوں کے اندر نہ صرف زیرِ زمین پانی کا لیول پڑھنے کے لئے پیزو میٹر لگائے گئے بلکہ ری چارج ہونے والے پانی کی کوالٹی چیک کرنے کے آلات بھی نصب کیے گئے جن کی مدد سے کئی مہینوں تک گراونڈ واٹر ٹیبل اور واٹر کوالٹی پر نظر رکھی گئی۔ زیرِ زمین مٹی کی تہوں کو جانچنے کے لئے نہ صرف ڈرلنگ کی گئی بلکہ الیکٹرک ریزسٹیویٹی ٹیسٹ بھی کیے گئے۔
جب انجینیئرز نے اتنی محنت کی تو مالک کی ذات نے دریائے ستلج میں سیلابی پانی بھی چلا دیا جس سے اس منصوبے کے بنتے ہی اس کو جانچنے کا فوری موقع مل گیا اور مہینوں کی اس جانچ کا نتیجہ کامیابی کی صورت میں ملا۔ ایک ہی سیلاب میں اس متروکہ نہر کے صرف 14 کلومیٹر لمبائی سے 12,000 ایکڑ فٹ پانی زیرِ زمین ریچارج ہوگیا اور زائد پانی سُکھ بیاس میں بہہ گیا۔
اس تجربے نے پنجاب کی سینکڑوں نہروں سے سیلابی پانی کے ری چارج کی راہ ہموار کردی ہے جوکہ یا تو متروک ہوچُکی ہیں یا پھر کبھی کبھی ہی چلتی ہیں۔
اولڈ میلسی کینال دریائے ستلج پر اسلام بیراج سنہ 1924 میں زائد سیلابی پانی کو موڑنے کے لئے بنائی گئی تھی تاہم 1960 کے سندھ طاس معاہدے کے بعد دریائے ستلج میں پانی نہ آنے کی وجہ سے یہ متروک ہوگئی تھی اور 1965 میں اسے باقاعدہ طور پر ختم کردیا گیا تھا۔
یہ ریسرچ آرٹیکل عالمی امپیکٹ فیکٹر کے ریسرچ جرنل کے جون 2026 کے شمارے میں پبلش بھی ہوچکا ہے جس کی کڑی نیچے کمنٹس میں دے دی ہے۔ سائنٹسٹ حضرات مکمل آرٹیکل وہاں ملاحظہ کرسکتے ہیں۔

