The Grapes Of Wrath
دا گریپس آف ریتھ

ہر قوم کی تاریخ میں کچھ ایسے برس ضرور آتے ہیں جب زمین اپنی زرخیزی کھو دیتی ہے، بازار اپنی رونق گنوا بیٹھتے ہیں، کارخانے خاموش ہو جاتے ہیں اور لاکھوں لوگ ایک ایسے سوال کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں جس کا جواب ان کے پاس نہیں ہوتا: اب زندہ کیسے رہا جائے؟ ایسے زمانوں میں انسان کا اصل امتحان صرف بھوک نہیں ہوتی بلکہ اس کی عزتِ نفس بھی آزمائش سے گزرتی ہے۔ خوش حال دور میں ہر معاشرہ انصاف، مساوات اور انسان دوستی کے دعوے کرتا ہے، لیکن جب قحط، بے روزگاری اور معاشی بحران آتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان دعوؤں کی بنیاد کتنی مضبوط تھی۔ یہی وہ پس منظر تھا جس میں "دا گریپس آف ریتھ" وجود میں آیا۔ اس کے مصنف "جان اسٹین بیک" نے ایک ایسے خاندان کی داستان لکھی جو اپنی زمین، اپنا گھر، اپنی شناخت اور اپنا ماضی چھوڑ کر صرف زندہ رہنے کی امید میں ہزاروں میل کا سفر کرتا ہے۔ بظاہر یہ ایک خاندان کی کہانی ہے، لیکن حقیقت میں یہ ہر اس انسان کی کہانی ہے جسے حالات نے اپنے وطن، اپنے گھر یا اپنی روزی سے محروم کر دیا ہو۔
انیس سو تیس کی دہائی میں امریکا شدید معاشی بحران کا شکار تھا۔ کھیت بنجر ہو رہے تھے، قرض بڑھ رہے تھے، بینک زمینیں ضبط کر رہے تھے اور ہزاروں کسان اپنے ہی گھروں میں اجنبی بن چکے تھے۔ جن لوگوں نے نسلوں تک زمین کو آباد رکھا، وہی ایک دن اس زمین سے بے دخل کر دیے گئے۔ "جان اسٹین بیک" نے اس دکھ کو صرف بیان نہیں کیا بلکہ محسوس بھی کرایا۔ ان کے کردار جب ٹوٹی ہوئی گاڑی میں اپنا مختصر سا سامان رکھ کر نئے مستقبل کی تلاش میں روانہ ہوتے ہیں تو قاری صرف ان کے سفر کا گواہ نہیں بنتا بلکہ خود بھی اس سفر کا مسافر بن جاتا ہے۔ راستے کی دھول، بھوک کی شدت، بچوں کی معصوم امیدیں، بزرگوں کی خاموش آنکھیں اور مزدوری کی تلاش میں دربدر پھرنے کی اذیت، سب کچھ اس انداز سے سامنے آتا ہے کہ ناول ختم ہونے کے بعد بھی اس کے کردار ذہن سے نہیں نکلتے۔
یہ ناول صرف غربت کی داستان نہیں بلکہ طاقت اور کمزوری کے تعلق کا بھی بے رحم تجزیہ ہے۔ "جان اسٹین بیک" دکھاتے ہیں کہ جب دولت چند ہاتھوں میں جمع ہو جائے اور قانون بھی انہی ہاتھوں کی حفاظت کرنے لگے تو کمزور انسان کی محنت بھی اس کا سہارا نہیں بن سکتی۔ کسان دن رات محنت کرتا ہے لیکن منافع کسی اور کی تجوری میں جاتا ہے۔ مزدور پسینہ بہاتا ہے لیکن اس کی اولاد بھوکی سوتی ہے۔ یہ منظر صرف ایک ملک یا ایک دور کا نہیں بلکہ انسانی تاریخ کا بار بار دہرایا جانے والا المیہ ہے۔ اسی لیے "دا گریپس آف ریتھ" کسی مخصوص زمانے کی کتاب نہیں بلکہ ہر اس معاشرے کی کتاب ہے جہاں ترقی کے ثمرات سب تک یکساں نہیں پہنچتے۔
لیکن اگر اس ناول میں صرف مایوسی ہوتی تو شاید یہ اتنا عظیم نہ بنتا۔ اس کی اصل عظمت یہ ہے کہ شدید ترین مصیبت کے درمیان بھی انسانیت کا چراغ بجھنے نہیں دیتا۔ ایک بھوکا انسان دوسرے بھوکے کے ساتھ اپنی روٹی بانٹ لیتا ہے۔ ایک بے گھر خاندان دوسرے بے گھر خاندان کو اپنے قریب جگہ دے دیتا ہے۔ ایک ماں اپنی بھوک بھول کر بچوں کا پیٹ بھرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ایک نوجوان اپنے مستقبل کی قربانی دے کر اپنے بزرگوں کا سہارا بنتا ہے۔ "جان اسٹین بیک" گویا یہ بتاتے ہیں کہ معاشرے کو صرف حکومتیں نہیں بچاتیں، انسان بھی انسان کو بچاتا ہے۔ قانون ضروری ہے، انصاف ضروری ہے، معاشی اصلاحات ضروری ہیں، لیکن اگر دلوں سے رحم نکل جائے تو بہترین نظام بھی بے روح ہو جاتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں فکشن اپنی سب سے بڑی خدمت انجام دیتا ہے۔ ایک اقتصادی ماہر معاشی بحران کے اعداد و شمار پیش کر سکتا ہے، ایک مورخ اس کی وجوہات بیان کر سکتا ہے، ایک سیاست دان اس کے حل تجویز کر سکتا ہے، لیکن ایک ناول ہی انسان کو اس بحران کے اندر لے جا سکتا ہے۔ "دا گریپس آف ریتھ" پڑھنے والا صرف یہ نہیں جانتا کہ بے روزگاری کیا ہوتی ہے، وہ اسے محسوس بھی کرتا ہے۔ وہ صرف یہ نہیں سمجھتا کہ ہجرت کتنی تکلیف دہ ہوتی ہے بلکہ وہ خود اس درد سے گزرنے لگتا ہے۔ یہی احساس قوموں کو بدلتا ہے۔ جب تک دکھ صرف خبر رہتا ہے، تبدیلی پیدا نہیں ہوتی، لیکن جب وہ کسی کردار کی زندگی بن جاتا ہے تو معاشرے کا ضمیر جاگنے لگتا ہے۔
ہمارے اپنے معاشرے میں بھی ایسے کتنے ہی خاندان ہیں جو روزگار کی تلاش میں گاؤں چھوڑ کر شہروں کا رخ کرتے ہیں۔ کتنے نوجوان بہتر مستقبل کی امید میں اپنے وطن سے دور چلے جاتے ہیں۔ کتنے کسان قرضوں کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں، کتنے مزدور سارا دن مشقت کرنے کے باوجود شام کو بچوں کی ضروریات پوری نہیں کر پاتے۔ ہم یہ سب کچھ روز دیکھتے ہیں، مگر شاید اس لیے بے حس ہو چکے ہیں کہ یہ ہمارے لیے معمول بن گیا ہے۔ اگر ہمارے ادیب ان زندگیوں کو اسی سچائی، اسی درد اور اسی دیانت کے ساتھ ناولوں میں ڈھالیں جس طرح "جان اسٹین بیک" نے کیا تھا تو شاید ہم بھی دوسروں کے دکھ کو صرف خبر نہیں بلکہ اپنا دکھ سمجھنے لگیں۔ ادب کا سب سے بڑا کمال یہی ہے کہ وہ اجنبی انسان کو اپنا بنا دیتا ہے۔
"دا گریپس آف ریتھ" کی اشاعت کے بعد امریکا میں اس پر شدید تنقید بھی ہوئی۔ بعض صنعت کاروں اور بااثر لوگوں نے اسے مبالغہ قرار دیا، کچھ نے اسے خطرناک کتاب کہا، لیکن وقت نے ثابت کیا کہ "جان اسٹین بیک" نے معاشرے کے زخم پر انگلی رکھی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج یہ ناول امریکی ادب کے عظیم ترین شاہکاروں میں شمار ہوتا ہے۔ اس نے صرف ایک ادبی انعام نہیں جیتا بلکہ لاکھوں قارئین کا اعتماد بھی حاصل کیا۔ اس نے یہ ثابت کیا کہ ادب کا کام اقتدار کی تعریف کرنا نہیں بلکہ سچائی کی گواہی دینا ہے، خواہ وہ سچائی کتنی ہی تلخ کیوں نہ ہو۔
"دا گریپس آف ریتھ" ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ کسی قوم کی اصل عظمت اس کے امیروں کی دولت سے نہیں بلکہ اس کے کمزور لوگوں کے وقار سے پہچانی جاتی ہے۔ اگر ایک کسان عزت کے ساتھ زندہ رہ سکتا ہے، اگر ایک مزدور اپنے بچوں کا پیٹ بھر سکتا ہے، اگر ایک بے روزگار انسان کو امید میسر ہے، تو وہ معاشرہ واقعی ترقی یافتہ ہے۔ لیکن اگر ترقی کے شور میں کمزور انسان کی آواز دب جائے تو پھر بلند ترین عمارتیں بھی قوم کی عظمت کا ثبوت نہیں بن سکتیں۔ "جان اسٹین بیک" نے اسی حقیقت کو ایک ایسی کہانی میں ڈھال دیا جو آج بھی دنیا بھر کے انسانوں کو یہ یاد دلاتی ہے کہ روٹی صرف جسم کی ضرورت نہیں، عزت بھی انسان کی بنیادی غذا ہے اور جس معاشرے میں عزت چھن جائے وہاں خوشحالی بھی ادھوری رہ جاتی ہے۔

