Black Hole Information Paradox
بلیک ہول انفارمیشن پیراڈوکس

فرض کریں آپ کے پاس ایک کتاب، ایک کمپیوٹر، یا صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے جس پر چند الفاظ لکھے ہوئے ہیں۔ اگر یہ سب کسی بلیک ہول میں گر جائیں تو ان میں موجود معلومات کا کیا ہوگا؟ کیا وہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں گی، یا کسی نہ کسی شکل میں باقی رہیں گی؟ بظاہر یہ ایک سادہ سوال لگتا ہے، لیکن یہی سوال جدید فزکس کے سب سے گہرے معمہ، بلیک ہول انفارمیشن پیراڈوکس، کی بنیاد ہے۔
فزکس میں "انفارمیشن" سے مراد صرف تحریری معلومات نہیں ہوتی۔ اس سے مراد کسی بھی ذرّے یا جسم کی تمام بنیادی خصوصیات ہیں، جیسے اس کی توانائی، کمیت، برقی بار، اسپن اور وہ تمام کوانٹم معلومات جو اس کی شناخت بناتی ہیں۔ کوانٹم میکینکس کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ معلومات کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتیں۔ وہ اپنی شکل بدل سکتی ہیں، لیکن کائنات سے غائب نہیں ہوتیں۔
دوسری طرف بلیک ہول کا تصور ہمیں بالکل مختلف تصویر دکھاتا ہے۔ جب کوئی چیز ایونٹ ہورائزن کے اندر داخل ہو جاتی ہے تو وہ واپس نہیں آ سکتی۔ باہر موجود کسی بھی مشاہدہ کرنے والے کے لیے ایسا لگتا ہے کہ وہ معلومات ہمیشہ کے لیے بلیک ہول کے اندر قید ہوگئی ہیں۔ اگر بلیک ہول ہمیشہ موجود رہتا تو شاید یہ اتنا بڑا مسئلہ نہ ہوتا، لیکن کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔
سن 1974 میں Stephen Hawking نے ثابت کیا کہ بلیک ہول نہایت آہستہ آہستہ توانائی خارج کرتے ہیں، جسے آج ہاکنگ ریڈی ایشن کہا جاتا ہے۔ اربوں یا کھربوں سال بعد ایک بلیک ہول مکمل طور پر بخارات بن کر ختم بھی ہو سکتا ہے۔
یہیں سے اصل تضاد پیدا ہوتا ہے۔ اگر بلیک ہول آخرکار ختم ہو جائے اور اس سے خارج ہونے والی ہاکنگ ریڈی ایشن میں گرنے والی چیزوں کی معلومات موجود نہ ہوں، تو اس کا مطلب ہوگا کہ وہ معلومات ہمیشہ کے لیے مٹ گئیں۔ لیکن کوانٹم میکینکس کہتی ہے کہ ایسا ممکن ہی نہیں۔ ایک طرف آئن اسٹائن کی عمومی اضافیت ہے، دوسری طرف کوانٹم میکینکس اور دونوں اس سوال پر ایک دوسرے سے متفق نہیں۔
گزشتہ کئی دہائیوں میں اس مسئلے کے متعدد حل پیش کیے گئے ہیں۔ کچھ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ معلومات کسی نہ کسی صورت ہاکنگ ریڈی ایشن میں چھپ کر واپس آ جاتی ہیں۔ کچھ کے مطابق وہ بلیک ہول کی سطح، یعنی ایونٹ ہورائزن، پر محفوظ رہتی ہیں۔ بعض نظریات ہولوگرافک پرنسپل کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جس کے مطابق تین جہتی معلومات دو جہتی سطح پر محفوظ ہو سکتی ہیں۔ حالیہ برسوں میں کوانٹم ایکسٹریم سرفیسز اور پیج کرو جیسے نظریات نے بھی اس معمہ کو سمجھنے میں اہم پیش رفت کی ہے، لیکن مکمل اتفاقِ رائے اب بھی موجود نہیں۔
یہ پراڈوکس صرف بلیک ہولز کے بارے میں نہیں ہے۔ اگر اس کا درست جواب مل گیا تو شاید ہمیں پہلی بار یہ سمجھ آ جائے کہ کائنات کے دو عظیم ترین نظریات، یعنی عمومی اضافیت اور کوانٹم میکینکس، ایک دوسرے کے ساتھ کیسے مطابقت رکھتے ہیں۔ یہی وہ مقصد ہے جسے حاصل کرنے کے لیے سائنس دان ایک مکمل کوانٹم گریویٹی کا نظریہ تلاش کر رہے ہیں۔

