Dehshat Gardi Ke Khilaf Jang Ka Sharaqpuri Doctrine
دہشت گردی کے خلاف جنگ کا شرقپوری ڈاکٹرائن

امام غزالی لکھتے ہیں کہ "حکمت کا تقاضا ہے کہ معاشرے میں امن قائم رہے کیونکہ خوف اور بے امنی دین و دنیا دونوں کو برباد کرتے ہیں"۔ دہشت گردی کی وجوہات اگر بیرونی ہیں تو کچھ اندونی اور بدقسمتی پاکستان دونوں اقسام کا شکار، مقامی حکومتوں کے عدم وجود کا ایک نقصان یہ بھی کہ فوج دہشت گردوں کے خلاف براہ راست برسرپیکار مگر ملک کی 95 فی صد آبادی اس سے لاتعلق جبکہ منتخب نمائندگان مذمت و تعزیت تک محدود! جس سے شہادتوں کے باوجود نتائج حاصل نہیں ہو پا رہے۔
دہشت گردی کی اندرونی وجوہات کو براہ راست دو عناصر نظریاتی و فکری طور پر پروان چڑھاتے ہیں اندرونی دہشت گردی میں لسانی، مذہبی و کچھ حد تک سیاسی عناصر کارفرما، گرچہ سیاسی عناصر براہ ملوث نہیں مگر وہ دہشت گردوں و انتہا پسندوں کے بیانیہ کو پروان چڑھا کر بالواسطہ ان کو مدد فراہم کرتے ہیں۔
گزشتہ دنوں برادر اکبر عبدالمنان راجہ کے ہمراہ معروف روحانی علمی و سیاسی شخصیت کے دولت کدہ پر ان کی والدہ محترمہ کی وفات پر تعزیت کے لیے حاضری ہوئی۔ صاحبزادہ میاں جلیل احمد سابق ممبر قومی اسمبلی اور ضلع ناظم شیخوپورہ بھی رہ چکے اس دوران انہیں نہ صرف مقامی حکومتوں کے قیام کے مقاصد کا بغور جائزہ کا موقع ملا بلکہ نچلی سطح تک امن و امان، تعمیر و ترقی کا قیام اور تخریب کاری و دہشت گردی کے اسباب و وجوہات کا بنظر عمیق مطالعہ اور اس کے لیے عملی اقدامات کا موقع بھی میسر آیا پھر روحانی و علمی خانوادے سے تعلق نے ان کی سوچ کو مثبت، تعمیری اور بامقصد بنا دیا۔ بطور طالب علم مجھے انکی کتاب دوستی نے متاثر کیا اگر یہ کہا جائے کہ میاں جلیل شرقپوری نے لائیبریری کو دفتر کا درجہ دے رکھا تھا تو بے جا نہ ہوگا۔
دوران گفتگو مختلف موضوعات کی کتب پر نظر رہی مگر مطالعہ کے لیے جس کتاب پہ ہاتھ غیرارادی طور بڑھا وہ دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے ان کی مطبوعہ تجاویز تھیں۔ میاں جلیل احمد کی تحریر عملی اقدامات و تجربات کا مجموعہ اور طاقتور اور ذمہ دار حلقوں کی توجہ دہشت گردی کے خلاف اگر شرقپوری ڈاکٹرائن کی طرف مبذول ہوتی ہے تو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نہ صرف قوم کا ہر فرد فورسز کے شانہ بشانہ بلکہ تھوڑے وقت میں دہشت گردی و جرائم پر قابو پایا جانا بھی ممکن۔ میاں جلیل کی تجاویز کے لیے نہ تو کوئی اضافی اخراجات اور نہ حکومت کو نئی فورس ہا بھرتیوں کی ضرورت ہاں مگر نیت اور اخلاص درکار!
یہ حقیقت ذمہ داران کے پیش نظر رہنی چاہیے کہ ریاستی اداروں کے پاس لا محدود وسائل نہیں اور غربت و افلاس، مہنگائی و بے امنی اور بدانتظامی و کرپشن نے عوام کو نڈھال کر رکھا ہے میاں جلیل کا استدلال کہ مسائل میں گھرے عوام کے لیے ضروری ہے کہ اختیارات کو نچلی سطح پر تقسیم اور مقامی حکومتوں کو فراہمی انصاف، تعمیر و ترقی، قیام امن سمیت بنیادی مسائل کے حل کے لیے بروئے کار لایا جائے۔
میاں جلیل شرقپوری کی اس بات سے انکار کیسے ممکن؟ کہ اندرون ملک دہشت گردوں کی پناہ گاہیں کرائے کے مکانات، ویران عمارات، مقامی لوگ تو کہیں مدارس و مساجد ہوتی ہیں اور مائیکرو مینجمنٹ کے ذریعے ان تمام پر نہ صرف نظر رکھی بلکہ فوری اقدامات بھی کیے جا سکتے پیں۔
نچلی سطح پر اختیارات کی عملی تقسیم کے لیے ناظم / چئیرمین یونین کونسل پہلی اکائی کہ جسے امن و امان اور ترقیاتی منصوبہ جات میں بااختیار بنا کر نتائج کا حصول ممکن بنایا جا سکتا ہے مگر اس کو دہائیوں سے صرف نظر کیا جا رہا ہے۔ کیوں؟ جیسے حکومت نے امن و امان کو بہتر بنانے کے لیے کرایہ داروں کا ریکارڈ مرتب کرنے کی ذمہ داری بھی پولیس کی لگا رکھی ہے نفرئی اور وسائل کی کمی کا شکار پولیس فورس آج تک اس کے خاطر خواہ نتائج نہ دے سکی شرقپوری ڈاکٹرائن میں یہ امور ناظم یونین کونسل کے سپرد اور اس سے 100 فی صد نتائج لیے جا سکتے ہیں کہ مقامی ذمہ داران گلی محلہ کی سطح تک نہ صرف روابط کا نیٹ ورک رکھتے ہیں بلکہ کونسلرز کے ذریعے وہ اس نظم و نسق کو بہتر طریقہ سے چلانے کی اہلیت بھی۔
اس کے ذریعے کرایہ داری ریکارڈ، کریکٹر سرٹیفکیٹس، مساجد مدارس کی رجسٹریشن و تعلیمی سرگرمیاں، جرائم پیشہ افراد کے خلاف عوامی تحریک اور اپنی ٹیم کے ذریعے گلی محلے میں انٹیلی جنس کا موثر نیٹ ورک قائم کر سکتے ہیں۔ مگر سوال پھر یہ کہ سیکورٹی اداروں کی کوششوں اور شہادتوں کے ثمرات کو بارآور بنانے اور قربانیوں کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے بنیادی سطح پر اقدامات کیوں نہیں اٹھائے جا رہے؟ کیوں حکومت ضلعی نظام حکومت کو فعال نہیں کر رہی اور اختیارات کی نچلی سطح تک تقسیم میں کون سے عوامل مانع؟
ان سوالات کے جواب اور عملی اقدامات کے بغیر اربوں کے وسائل اور نفری کی محنت ضیاع ہی تو ہے۔ نہ جانے کیوں مقتدرہ کے عالی دماغ صوبائی حکومتوں کو اس تجویز پر عمل درآمد کے لیے قائل و مائل نہ کر سکے کہ جب تک گلی محلہ کی سطح تک دہشت گردوں کے خلاف تنگ نہیں کی جاتی نتائج کا حصول مشکل کہ دہشت گردی صرف گولی سے ہی نہیں درست معلومات اور عوامی شرکت سے رکتی ہے اور اس کے لیے چئیرمین یونین کونسلز اور مقامی حکومتیں اہم ذریعہ۔
حکومت اور سیکورٹی فورسز کے ذمہ دارانہ جانتے ہیں کہ پاکستان کے ہر گلی محلہ میں نہ فورس کھڑی کی جا سکتی ہے اور نہ انٹیلی جنس کا جال بچھانا ممکن۔ رات کے اندھیروں میں کون کہاں سے آتا ہے، پناہ لیتا ہے اس بارے معلومات مقامی سطح پر بذریعہ یونین کونسل حاصل کی جا سکتی ہیں جبکہ یہ بھی کھلی حقیقت ہے کہ مقامی حکومتوں کی عملا شرکت کے بغیر دہشت گردی و جرائم کے تدارک کے لیے پولیس ناکے اور پولیس پر انحصار کے تجربات اب تک ناکام رہے کہ پولیس کے پاس ایک طرف وسائل کی کمی تو دوسری طرف تربیت کا فقدان، جلیل شرقپوری کے مطابق افواج سرحدوں یا انتہائی ضرورت کے تحت شورش زدہ علاقوں میں بلائی جا سکتی ہیں جبکہ پولیس ہمہ وقت جرائم و دہشت گردی کے خلاف متحرک اور فرنٹ لائن پہ ہوتی ہے۔ مقاصد و نتائج کے حصول کے لیے پولیس اصلاحات اب ہر صورت لازم کہ پولیس فورس کی تربیت افواج کی طرز پر اور مراعات بھی اس کے مطابق کی جانی چاہیے۔ ڈیوٹی کے اوقات کار مقرر، مناسب رہائش، پولیس فورس کے جوانوں و اہل خانہ کے لیے علاج و تعلیم کا یکساں نظام، سیاسی مداخلت ختم اور پیشہ وارانہ و اخلاقی تربیت کا مسلسل اہتمام ہی پولیس فورس کی کارکردگی کو مثالی بنا سکتی ہے اور پھر محکمانہ احتساب کا کڑا نظام اس کی کارکردگی کو چار چاند لگا سکتا ہے۔
ایک توجہ طلب مسئلہ اور بھی کہ مدارس و مساجد کو قومی دھارے میں لایا جانا ضروری اور ان میں پڑھنے والے طلبہ کا ریکارڈ مقامی انتظامیہ کے پاس جمع کروانا لازم قرار دیا جائے جبکہ مدارس و مساجد کے آڈٹ کے نظام پر بھی توجہ کی ضرورت تا کہ بیرونی و مقامی فنڈنگ کے غیر قانونی استعمال کو روکا جا سکے مگر اس پر عمل اس لیے مشکل کہ مدارس اسے دین پر حملہ تصور کرکے ایسا ماحول بنا دیتے ہیں کہ حکومتیں قانون پر عمل روکنے پر مجبور مگر یہ سلسلہ شروع کیا جانا لازم۔ کہ اب کے پی، پنجاب و سندھ میں سینکڑوں نہیں ہزاروں مساجد و مدارس رجسٹرڈ نہیں نہ مقامی انتظامیہ کے پاس انکا ریکارڈ اور دہشت گرد قانون کی انہی کمزوریوں کو بروئے کار لاتے ہیں۔

