Sunday, 26 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Iffat Navaid
  4. Bare Wazir Ke Sahib Ji, Maut Ko Izzat Do

Bare Wazir Ke Sahib Ji, Maut Ko Izzat Do

بڑے وزیر کے صاحب جی، موت کو عزت دو

اس ملک کی پچھتر فی صد آبادی دیہات میں رہتی ہے، جسے نہ دین کا پتہ ہے نہ دنیا کا۔ وہ اللہ کو جانتے ہیں نہ بھگوان کو۔ وہ صحابہ کو جانتے ہیں نہ اماموں کو، انہیں تاریخ اسلام کا پتہ ہے، نہ حالات حاضرہ سے واقفیت۔ انہیں نہیں معلوم ان کا فرقہ کون سا ہے۔ ایک مسجد ہے، سو اس سے بھی فرقہ طے نہیں کیا جا سکتا، ان کے پاس عاقبت سنوارنے کو فرصت ہے نہ تربیت۔۔ آئین کس چڑیا کانام ہے، منشور کیا بلا ہے۔ یہ سمجھانے کو ایک زندگی چاہیے۔

ان کا مائی باپ تو وہ وڈیرہ یا زمیندار ہے جو ان کے پیٹ کی دو وقت غرض کے لیے انہیں گندم دیتا ہے اور جس کی الیکشن کے وقت دعوتِ عام میں ایک مسکراہٹ کے نام پر وہ چار پہیوں والے اس ٹرک میں، جن پر ان کا مال لادا جاتا ہے۔ اس کی مرضی کے نشان پر ووٹ ڈالنے جاتے ہیں۔ یہ ووٹر بھی ان کا وہ مال ہیں جو انہیں قدرت کی جانب سے غنیمت میں ملا ہے اور پھر اسی ٹرک میں بیٹھ کر واپس آجاتے ہیں اور پھر پانچ سال ان ہی باتوں کو دہرا کر لذِتِ طعام کا مزا تازہ کرنے کے ساتھ اگلے الیکشن کا انتظار کرتے ہیں۔ یوں ہر دو سال یا پانچ سال بعد الیکشن کے طفیل ان کی پارٹی اور پکنک ہو جاتی ہے۔

ان ہی لوگوں کی اکثریت اس نشان کو ووٹ ڈالوا دیتی ہے۔ جس کا حامل الیکشن میں اکثریتی ووٹ لے کر سرکاری ٹی وی پر لکھی ہوئی تقریر میں عوام کے شکریے کے ساتھ ملک کو ترقی کی راہ پر لے جانے کا عزم کرکے اپنا ا ہم فرض ادا کر دیتا ہے اور پھر اپنے ساتھ سو دوسو افراد کو لے کر اپنی تھکن اتارنے کے لیے عمرہ پر چلا جا تا ہے۔ اب ان غریب لوگوں کے گھروں میں ٹی وی ہو بھی تو کیبل نہیں ہوتا کیبل ہو تو بجلی نہیں ہوتی، بجلی ہو تو وقت نہیں ہوتا۔ ان کے پاس ایک ہی انمول دولت ہوتی ہے وہ ہے نیند۔ چاند طلوع ہونے اور غروب ہونے تک وہ نیند کی وادیوں کے اندھے غاروں میں خوشیاں ٹٹولتے رہتے ہیں اور صبح سویرے کام پر نکل جا تے ہیں۔۔ اپنی ٹھپ قسمت پر قانع، انہیں کوئی غرض نہیں ان کے ٹھپوں نے کسے کہاں پہنچایا ہے۔

انہیں نہ ملک کے بڑے، چھوٹے وزیر کا علم ہوتا ہے نہ ہی صدر کا۔ تو ان بے چاروں کو کیا علم کہ پاکستان میں بھی ایک سے ایک اچھے ہاسپٹل ہیں۔ انہیں تو موت کے وقت ہی سرکاری ہسپتال میں داخل ہونے کی نوبت آتی ہے۔ جہاں ان کے عزیز رشتے داروں کو ان کی عیادت کے بہانے ایک تفریح ہاتھ لگ جاتی ہے۔ بس یہاں پر ہی وہ اور ان کے حکمرانوں کے حالات میں مما ثلت نظر آتی ہے۔ ہمارے حکمران بھی ہوا کے دوش پر بیرونِ ملک، ہسپتال میں جا کر لیٹ جاتے ہیں اور ثبوت کے طور پر کچھ تصاویر بھی وائرل کروا دیتے ہیں۔ ہمارے غریب عوام بھی ہوا کے دوش پر پلنگ پر سوار ہو کر اسپتال میں پڑ جاتے ہیں اور پھر واپسی بھی اسی طرح ہوتی ہے اور گاؤں کی قبر میں ہمیشہ کے لیے لیٹ جاتے ہیں۔

موت سے ہر کوئی ڈرتا ہے۔ لیکن یہ تو زندگی سے بھی خوف ذدہ نہیں ہوتے۔ موت ایسے بے حسوں کے پاس آنے کا اعلان نہیں کرتی۔ انہیں موت بھی گہری نیند کی طرح اچانک آلیتی ہے۔ ان کے آرام کے ابدی دنوں کے آغاز کی خوشی میں ان کے گھر والوں کا بھی یہ دن زرا مختلف گزرتا ہے اور پھر وہی تلخئی زیست میں لاعلمی اور اپنا جگر چبانے کے مزے لوٹتے یہ انسان نما بے حس جانور۔ جن سے ہمیں بھی کوئی ہمدردی نہیں کیوں کہ جنہیں احساسِ قید ہی نہ ہو ان کی آزادی کی کوششیں محض وقت کا ضیاع ہیں۔ انہیں تو یہ خبر بھی نہیں انہوں نے جس نشان پر ٹھپہ لگایا تھا وہ ووٹ کہلاتا ہے۔ اگر بڑے وزیر کے صاحب اپنی تقریر میں یہ کہتے کہ ٹھپے کو عزت دو۔ تب بھی انہیں یہ سمجھ نہ آتا۔ کیوں کہ ٹھپہ تو ہاتھوں سے لگایا جا تا ہے اور ہاتھ انسانوں کے ہوتے ہیں۔

انسان اور عزت یہ وہ الفاظ ہیں، جن تک رسائی کمی کمینوں کی اوقات ہے نہ قسمت۔ کیوں کہ انہیں کیا معلوم انسان کیا ہوتا ہے۔ وہ تو کمی کمین ہیں، اگر بڑے وزیر کے صاحب یہ اعلان کرتے کہ کمی کمین کو عزت دو تب بھی انہیں کیا فرق پڑنا تھا۔ عزت دینے سے بھلا کمی کمین کو گندم زیادہ مل جا ئے گی یا پینے کو صاف پانی مل جائے گا۔ سورج اس کے سر پر آگ کی تپش ہلکی رکھے گا، بارش اس کی جھونپڑی پر نہ برسے گی۔ یاسیلاب راستہ بدل دے گا۔

عزت کے مفہوم سے وہ آشنا ہوتے ہیں جو خواب میں خواب دیکھتے ہیں۔۔ ان کے تو خواب بھی حقیقت کا عکس ہوتے ہیں۔ ان کی ذلت سے شناسائی اب یاری میں بدل چکی ہے۔ یہ تو اپنوں سے محبت کا اظہار بھی گالی دے کر کرتے ہیں۔ انسان کو دردِ دل کے واسطے پیدا کیا گیا ہے اور عوام دردِ دل کے واسطے اپنا رہنما چنتے ہیں۔ لیکن ان کمی کمینوں کے لیے یہ ہی اعزاز بڑا ہے کہ جی حضوری کے لیے رہنماؤں نے انہیں منتخب کیا ہے۔

بڑے وزیر کے صاحب جی! آپ کیوں ان کے ٹھپوں کے واسطے عزت مانگ رہے ہو۔ انہیں عزت نہیں بس اپنے جیسی موت کا انتظام کرکے دے دو۔ بس ایک موت کا سوال ہے۔ ورنہ یہ تو ٹھپّے لگاتے رہیں گے، اورہوا کے دوش پر پلنگ پہ سوار ہو کے ہسپتال سے قبر تک کا سفربھی کرتے رہیں گے۔

About Iffat Navaid

Iffat Navaid is an author, columnist, fiction writer and teacher.

She started his practical life as an advocate. Ever since marriage, she has been involved in teaching.

Her autobiography "Deep Jalte Rahe" has come out. You can hear her autobiography on YouTube in the form of an audio book on @iffatnavaid6253.

Check Also

Bare Wazir Ke Sahib Ji, Maut Ko Izzat Do

By Iffat Navaid