Sunday, 26 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Qari Usama Ashrafi
  4. Ummeed Nahi Allah Tala Par Kamil Yaqeen Rakhte Hain

Ummeed Nahi Allah Tala Par Kamil Yaqeen Rakhte Hain

امید نہیں، اللہ تعالیٰ پر کامل یقین رکھتے ہیں

ہم میں سے اکثر لوگ اللہ تعالیٰ سے امید تو رکھتے ہیں، مگر کامل یقین نہیں رکھتے۔ ہم دعا کرتے ہیں، ہاتھ اٹھاتے ہیں، آنکھوں سے آنسو بہاتے ہیں، زبان سے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ کر سکتا ہے، لیکن دل کے کسی کونے میں یہ خوف بھی چھپا ہوتا ہے کہ شاید یہ کام نہ ہو سکے، شاید میری مشکل حل نہ ہو، شاید میری دعا قبول نہ ہو۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہمارا ایمان کمزور پڑ جاتا ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کو قادرِ قدیر مانتے ضرور ہیں، مگر اپنے حالات کو اس کی قدرت سے بڑا سمجھنے لگتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت، کوئی مشکل، کوئی بیماری، کوئی قرض، کوئی رکاوٹ اور کوئی ناممکن کام اللہ تعالیٰ کی قدرت سے بڑا نہیں۔

امید وہاں رکھی جاتی ہے جہاں کامیابی کے ساتھ ناکامی کا بھی امکان ہو، مگر اللہ تعالیٰ کے بارے میں صرف امید نہیں بلکہ یقین ہونا چاہیے۔ انسان کسی انسان سے امید رکھتا ہے، کیونکہ وہ انسان ہے، آج وعدہ کر سکتا ہے اور کل مجبور ہو سکتا ہے، آج ساتھ دینے کا ارادہ کر سکتا ہے اور کل اس کے حالات بدل سکتے ہیں، آج طاقتور ہو سکتا ہے اور کل کمزور ہو سکتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات ایسی نہیں۔ وہ ہمیشہ سے ہے، ہمیشہ رہے گا، اس کی قدرت کامل ہے، اس کا علم کامل ہے، اس کی رحمت کامل ہے اور اس کا اختیار کامل ہے۔ وہ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب کے محتاج نہیں ہوتا۔ وہ چاہے تو کمزور کو طاقتور بنا دے، بیمار کو شفا دے دے، بے روزگار کے لیے رزق کے دروازے کھول دے، مقروض کے لیے ادائیگی کا انتظام فرما دے، بے اولاد کو اولاد عطا کر دے، ٹوٹے ہوئے دل کو سکون دے دے اور بند راستوں میں ایسے دروازے کھول دے جن کا انسان نے کبھی تصور بھی نہ کیا ہو۔

ہماری سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے اپنی مشکل کو دیکھتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی قدرت کو نہیں۔ ہم قرض دیکھتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ رزق کے خزانے اللہ کے پاس ہیں۔ ہم بیماری دیکھتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ شفا دینے والا اللہ ہے۔ ہم رکاوٹ دیکھتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ راستے بنانے والا اللہ ہے۔ ہم اپنی کمزوری دیکھتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ طاقت کا اصل مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ ہم کہتے ہیں: "یہ کام بہت مشکل ہے"، حالانکہ مؤمن کا دل کہنا چاہیے: "کام مشکل ہو سکتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ کے لیے مشکل نہیں"۔

کبھی کبھی اللہ تعالیٰ ہماری دعا فوراً قبول نہیں فرماتا، تو ہم سمجھتے ہیں کہ شاید ہماری دعا قبول نہیں ہوئی۔ حالانکہ دیر، انکار نہیں ہوتی۔ کبھی اللہ تعالیٰ ہمیں وہ چیز نہیں دیتا جو ہم مانگ رہے ہوتے ہیں، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ہمارے لیے بہتر کیا ہے۔ کبھی وہ ہماری دعا کے بدلے کوئی مصیبت ٹال دیتا ہے، کبھی آخرت کے لیے اجر محفوظ کر دیتا ہے اور کبھی ہمیں اس چیز سے بھی بہتر عطا فرماتا ہے جس کا ہم نے سوال کیا تھا۔ بندے کا کام دعا کرنا، کوشش کرنا اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنا ہے، نتیجہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنا ہے۔ کامل یقین کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنی مرضی کا نتیجہ لازماً حاصل کر لیں گے، بلکہ کامل یقین یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جو فیصلہ فرمائے گا، وہ ہمارے لیے بہتر ہوگا۔

حضرت ابراہیمؑ کے سامنے آگ تھی، ظاہری اسباب کے اعتبار سے بچنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی، مگر اللہ تعالیٰ نے آگ کو حکم دیا کہ وہ ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جائے۔ حضرت موسیٰؑ کے سامنے سمندر تھا اور پیچھے دشمن، ظاہری نگاہ سے کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا تھا، مگر اللہ تعالیٰ نے سمندر کو چیر کر راستہ بنا دیا۔ حضرت یوسفؑ کنویں سے قید خانے تک پہنچے، مگر وہی قید خانہ ان کے لیے عزت اور اقتدار کا راستہ بن گیا۔ یہ واقعات ہمیں بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے ہماری محدود سوچ کے پابند نہیں۔ جس جگہ ہمیں اختتام نظر آتا ہے، اللہ تعالیٰ وہیں سے آغاز کر سکتا ہے۔ جس جگہ ہمیں دیوار نظر آتی ہے، اللہ تعالیٰ وہیں سے دروازہ کھول سکتا ہے۔

اس لیے جب زندگی میں کوئی مشکل آئے تو صرف یہ نہ کہیں: "مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ میری مشکل حل کر دے گا" بلکہ دل سے کہیں: "مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ میری حالت سے باخبر ہے، میری دعا سن رہا ہے، میری تکلیف کو جانتا ہے اور وہ میرے لیے بہترین فیصلہ فرمائے گا"۔ جب دعا کریں تو ایسے کریں جیسے آپ اپنے رب کے سامنے کھڑے ہیں جس کے لیے کچھ بھی ناممکن نہیں۔ جب کوشش کریں تو ایسے کریں کامیابی کے دروازے اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔ جب دیر ہو تو صبر کریں، جب آزمائش آئے تو ثابت قدم رہیں اور جب راستے بند ہوں تو مایوس نہ ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے لیے راستہ بنانے کے لیے پہلے سے راستہ موجود ہونا ضروری نہیں۔

یاد رکھیے! اللہ تعالیٰ سے امید رکھنے والا کبھی بالکل خالی نہیں لوٹتا، مگر اللہ تعالیٰ پر کامل یقین رکھنے والا آزمائش کے دوران بھی ٹوٹتا نہیں۔ امید انسان کو دعا تک لے جاتی ہے، لیکن یقین انسان کو دعا کے بعد بھی ثابت قدم رکھتا ہے۔ امید کہتی ہے: "شاید اللہ تعالیٰ مدد فرمائے"، جبکہ یقین کہتا ہے: "اللہ تعالیٰ ضرور مدد فرمائے گا، خواہ اس کی مدد کا وقت اور طریقہ میری سمجھ سے باہر ہو"۔ یہی یقین دل کو سکون دیتا ہے، آنکھوں کو آنسوؤں کے باوجود روشن رکھتا ہے اور انسان کو مشکل ترین حالات میں بھی اللہ تعالیٰ سے جوڑے رکھتا ہے۔

پس اپنی دعاؤں میں صرف الفاظ نہ رکھیں، یقین بھی رکھیں۔ سجدے میں صرف اپنی حاجت نہ رکھیں، اپنا دل بھی اللہ تعالیٰ کے حوالے کریں۔ اپنے حالات کو اللہ تعالیٰ کی قدرت سے بڑا نہ سمجھیں۔ یاد رکھیں، ہم کمزور ہیں، اللہ تعالیٰ طاقتور ہے، ہم بے خبر ہیں، اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے، ہم محدود ہیں، اللہ تعالیٰ کی قدرت لامحدود ہے۔ اس لیے آج سے اللہ تعالیٰ سے صرف امید نہیں، کامل یقین کے ساتھ مانگیں، کیونکہ وہ قادرِ قدیر ہے، وہ چاہے تو لمحوں میں حالات بدل دے اور جب وہ کسی بندے کے ساتھ ہو تو دنیا کی کوئی طاقت اسے حقیقی طور پر شکست نہیں دے سکتی۔

Check Also

Andhere Ko Kosne Ki Bajaye Aik Chiragh Jalayen

By Asma Hassan