Sunday, 26 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Tehsin Ullah Khan
  4. Kainat Aur Ghaibi Taqat

Kainat Aur Ghaibi Taqat

کائنات اور غیبی طاقت

آپ نے اپنی زندگی میں جو کچھ بھی دیکھا ہے، وہ صرف 4 فیصد کائنات ہے 96 فیصد کائنات پوشیدہ ہے ہر پہاڑ، ہر سمندر، ہر ستارہ ہر سیارہ اور ہر کہکشاں مل کر کائنات کا صرف 4 فیصد حصہ بناتا ہے باقی 96 فیصد کائنات مکمل طور پر ہماری نظروں سے پوشیدہ ہے۔ سائنس دان اسے ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی کہتے ہیں ہم انہیں اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتے۔

زمین یا خلا میں کوئی ٹیلیسکوپ ان کی براہ راست تصویر نہیں لے سکتی۔۔ ماہرین فلکیات کا خیال ہے کہ وہ کائنات پر غلبہ رکھتے ہیں۔۔ بہت عجیب بات نہیں ہے کہ زیادہ تر کائنات کسی ایسی چیز سے بنی ہے جسے ہم ابھی تک پوری طرح سے جانتے بھی نہیں ہیں

ڈارک میٹر عام مادے کی طرح چمکتا نہیں ہے اور نہ ہی ڈارک میٹر روشنی کو جذب کرتا ہے۔ اس لیے ہم اسے دیکھ نہیں سکتے ہیں یہ ہم سے خود کو مکمل پوشیدہ رکھتے ہیں۔ تاہم سائنس دان جانتے ہیں کہ کہکشائیں اتنی تیزی سے گھومتی ہیں کہ انہیں الگ ہو جانا چاہیے، لیکن وہ ایسا نہیں کرتے۔ کوئی غیبی طاقت انہیں اکٹھا کر رہی ہے۔۔ ستارے اپنی کہکشاؤں کے اندر محفوظ طریقے سے چکر لگاتے رہتے ہیں، کیوں کہ ان کے گرد غیبی طاقت کی ایک بہت بڑی مقدار موجود ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ڈارک میٹر کے بغیر بہت سی کہکشائیں اپنی سرپل شکل برقرار نہیں رکھتیں اور شاید اربوں سال پہلے ٹوٹ چکی ہوتیں، اس کا مطلب ہے کہ اندر ایک ایسی طاقت موجود ہے۔ جیسے ہم خود دیکھ نہیں سکتے، لیکن ہم پوری کائنات میں اس کے طاقتور اثرات کو واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ ڈارک انرجی بھی موجود ہے اور اس سے بھی زیادہ حیران کن ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے ہے کہ یہ پوری کائنات کا تقریباً 68 فیصد ہے، یہ کشش ثقل کے بالکل مخالف طاقت ہے یہ کشش ثقل جیسی چیزوں کو ایک ساتھ کھینچنے کے بجائے کائنات کو الگ کرتی دکھائی دیتی ہے، سائنس۔ دانوں نے محسوس کیا ہے کہ کائنات کا پھیلاؤ "سست" نہیں ہو رہا ہے، بلکہ یہ مسلسل تیز ہو رہا ہے۔۔ اس کا مطلب ہے کہ کہکشائیں تیزی سے ایک دوسرے سے دور ہو رہی ہیں۔۔ کوئی بھی نہیں جانتا کہ ڈارک انرجی کیا ہے؟ اور یہ کہاں سے آتی ہے؟ ہم انہیں دیکھ نہیں سکتیں، لیکن دونوں کو ہم باقاعدگی سے محسوس کرسکتے ہیں یہ جدید فلکیات کے سب سے بڑے جواب طلب سوالات میں سے ایک ہے اور یہاں تک کہ دنیا کے بہترین سائنس دان بھی اس کا جواب تلاش کر رہے ہیں۔

سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ انسانوں نے جو کچھ بھی مطالعہ کیا ہے ایٹموں سے لے کر ملکی وے کہکشاں تک یہ کائنات کے صرف چار فیصد ہے اور ان چار فیصد کائنات میں بھی ہم نے 0.00001 فیصد کائنات بھی نہیں دیکھا ہے ہم نے سیاروں سے آگے خلائی جہاز بھیجے ہیں، مریخ پر روبوٹ اتارے ہیں۔ طاقتور ٹیلیسکوپ سے دور دراز کی کہکشاؤں کی کھوج کی ہے اور یہاں تک کہ بلیک ہولز کا بھی پتہ لگایا ہے پھر بھی ہم ابھی تک کائنات کے 96 فیصد حصے کے بارے کچھ بھی نہیں جانتے ہیں ہم اس قدر کمزور ہے اگر انسان لاکھوں یا کروڑوں سال تک زندہ رہے، تب بھی پوری نظر آنے والی کائنات کی کھوج تقریباً ناممکن رہے گی۔۔

Check Also

Andhere Ko Kosne Ki Bajaye Aik Chiragh Jalayen

By Asma Hassan