Gsp Plus, Europi Sharaait Aur Hamari Mashi Baqa
جی ایس پی پلس، یورپی شرائط اور ہماری معاشی بقاء

اکیسویں صدی کی عالمی معیشت میں کسی بھی ملک کی معاشی خودمختاری کا بنیادی انحصار اس بات پر ہے کہ وہ بین الاقوامی تجارت، قانون کی حکمرانی اور عالمی منڈیوں کے اصولوں سے کتنا ہم آہنگ ہے۔ دنیا میں تجارتی رعایتیں محض دوستانہ تحفہ نہیں ہوتیں، بلکہ یہ مخصوص معاشی، قانونی اور معاشرتی اصولوں کی پاسداری سے مشروط ہوتی ہیں۔ اسی تناظر میں یورپی یونین نے "جنرل سسٹم آف پریفرنس" (GSP) کا نظام وضع کیا، تاکہ معاشی طور پر غریب یا درمیانے درجے کے ملکوں کو ترجیحی بنیادوں پر اپنی منڈیوں تک رسائی دی جا سکے۔ اس کا بنیادی مقصد ان ملکوں میں صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دینا، معیشت کو سہارا دینا اور عوام کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔
یورپی یونین اس نظام کے تحت 65 ممالک کو تین مختلف درجوں میں تقسیم کرتی ہے۔ عمومی جی ایس پی، اس پہلے درجے میں بھارت سمیت 11 ممالک شامل ہیں، جنہیں یورپی یونین میں سامان بھیجنے پر کسٹم ڈیوٹی میں کچھ حد تک رعایت ملتی ہے۔
جی ایس پی پلس، اس دوسرے درجے میں پاکستان سمیت آٹھ ممالک شامل ہیں۔ اس درجے کے تحت آنے والی بیشتر مصنوعات پر یورپ میں کوئی ڈیوٹی وصول نہیں کی جاتی اور اگر کچھ مصنوعات پر عائد کی بھی جائے تو وہ عام شرح کی نسبت 66 فیصد تک کم ہوتی ہے۔ پاکستان اس تجارتی رعایت سے فائدہ اٹھانے والا سب سے بڑا ملک ہے۔
تیسرے اور سب سے نیچے والے درجے میں دنیا کے 46 غریب ترین ممالک شامل ہیں، جنہیں یہ اجازت حاصل ہے کہ وہ ہتھیاروں کے علاوہ ہر قسم کی مصنوعات بغیر کسی ڈیوٹی کے یورپ میں بیچ سکتے ہیں۔ بنگلہ دیش اسی درجے میں شامل ہے اور اس نے اسی سہولت کو بنیاد بنا کر ریڈی میڈ گارمنٹس کی اتنی بڑی اور فعال صنعت قائم کی ہےکہ وہ اس شعبے میں پاکستان سے بہت آگے نکل گیاہے۔
پاکستان کے لیے جی ایس پی پلس کا درجہ صرف ایک دستاویز یا معاشی اصطلاح نہیں ہے، بلکہ یہ ہماری ملکی معیشت کے لیے ایک آکسیجن سلنڈر کا درجہ رکھتا ہے۔ اس سہولت کے طفیل پاکستان ہر سال تقریباً 8 ارب ڈالر کے کپڑے، چمڑے کی مصنوعات اور دیگر سامان صرف یورپی یونین کے 27 رکن ممالک کو برآمد کرتا ہے۔ عالمی سطح پر یا دنیا کی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے سالانہ بزنس کے مقابلے میں شاید 8 ارب ڈالر کی رقم بہت بڑی نہ لگے، لیکن معاشی بحران، تجارتی خسارے اور زرمبادلہ کے محدود ذخائر کا شکار پاکستان کے لیے یہ رقم زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ اس تجارتی سہولت کے ہماری قومی زندگی پر دو انتہائی بنیادی اثرات مرتب ہوتے ہیں، اگر یہ 8 ارب ڈالر برآمدات کے ذریعے پاکستان نہ آئیں تو ملکی زرمبادلہ کا توازن بری طرح بگڑ جائے گا اور روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں نا قابلِ برداشت حد تک گر جائے گی، جس سے ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان جنم لے گا۔
معاشی ماہرین اور تجارتی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی یورپی یونین کے لیے 8 ارب ڈالر کی برآمدات اگر بند ہو جائیں یا ان میں شدید کمی آ جائے تو پاکستان میں تقریباً 26 لاکھ مزدور اور صنعتوں سے وابستہ افراد فوراً بے روزگار ہو جائیں گے۔ اس وقت پاکستان کو ملنے والی یہ تجارتی رعایت دسمبر 2027 میں ختم ہو رہی ہے۔ اس رعایت کی تجدید کے لیے پاکستان کو جنوری 2027 سے یعنی پانچ ماہ بعدیورپی یونین کی طرف سے عائد کردہ نئی اور سخت شرائط پر عمل درآمد شروع کرناہوگا۔
یورپی یونین نے واضح کیا ہے کہ آئندہ جی ایس پی پلس کے درجے کی تجدید صرف معاشی یا صنعتی پیشرفت پر نہیں ہوگی، بلکہ اس کا انحصار آئینی اور انسانی حقوق کی شرائط پر پورا اترنے پر ہوگا، ملک میں آزادیِ اظہار رائے کی آزادی کو یقینی بنایا جائے، کیونکہ پیکا جیسے قوانین کے ذریعے صحافیوں اور عام شہریوں کی آواز کو دبانے کی کوششوں پر عالمی سطح پر شدید تحفظات پیدا ہوئے ہیں۔
ملک میں ایک بالکل آزاد اور خودمختار عدالتی نظام قائم ہونا چاہیے۔ یورپی یونین کی نظر میں 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے بعد عدالتوں کے آزادانہ کردار اور ساخت پر سنگین سوالات اٹھے ہیں۔
عام شہریوں اور سیاسی کارکنوں کے مقدمات ملٹری کورٹس (فوجی عدالتوں) میں چلانے کے عمل کو مکمل طور پر بند کیا جائے۔ قانون کو سیاسی مخالفین کو دبانے کے لیے نہ بنایا جائے اور نہ ہی ریاستی طاقت سے سیاسی تحریک کو روکا جائے۔ سیاسی اور سماجی کارکنوں کو لاپتا کرنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ یورپی یونین نے 2024 کے عام انتخابات کی شفافیت اور ساکھ پر گہرے سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ آئندہ اس ترجیحی نظام کا حصہ رہنے کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں انتخابی عمل مکمل طور پر شفاف، آزادانہ اور دھاندلی سے پاک ہو۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے اندرونی مسائل اور عالمی تقاضوں کو الگ الگ کرکے دیکھتے ہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ آج کی جدید دنیا میں معاشی ترقیاں قانون کی حکمرانی اور سیاسی استحکام سے جڑی ہوئی ہیں۔ ہم ہر معاشی بحران کے وقت عالمی اداروں سے قرضے مانگ لیتے ہیں یا عارضی سہولتوں کی ڈوبتی کشتی کا سہارا لیتے ہیں، لیکن جن بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہوتی ہے، ان سے انحراف کرتے ہیں۔
اگر ہم نے جنوری 2027 سے یورپی یونین کی شرائط پر عمل درآمد کے لیے ٹھوس پیشرفت نہ کی تو پاکستان نہ صرف 8 ارب ڈالر کی سالانہ برآمدات سے محروم ہو سکتا ہے، بلکہ اس کے نتیجے میں 26 لاکھ خاندانوں کی زندگی کا چولہا بھی بجھ سکتا ہے۔
اس سنگین معاشی اور سیاسی بحران سے نکلنے اور معاشرے میں ایک مثبت اور پائیدار تبدیلی لانے کے لیے فوری طور پر ٹھوس اور ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے، پیکا (PECA) جیسے قوانین میں ترمیم کی جائے جو صحافیوں، شہریوں اور اختلافِ رائے رکھنے والوں کی آواز کو دبانے کا باعث بنتے ہیں۔ آزادیِ اظہار پر عائد تمام غیر قانونی اور غیر آئینی پابندیاں ختم کی جائیں۔ 26ویں اور 27ویں آئینی ترمیم کے ان نکات کا دوبارہ تنقیدی جائزہ لیا جائے جو عدلیہ کی آزادی اور خودمختاری پر اثر انداز ہوتے ہیں، تاکہ عدلیہ کا عوام اور عالمی برادری کے سامنے آزادانہ امیج بحال ہو سکے۔
عام شہریوں کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل فوراً بند کرکے انہیں عام سول عدالتوں کے ذریعے آئین کے مطابق اپنے دفاع کا موقع دیا جائے۔ جبری طور پر لاپتا کیے گئے سیاسی و سماجی کارکنوں کا مسئلہ ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے اور اس عمل میں ملوث عناصر کی روک تھام کے لیے ٹھوس قانون سازی کی جائے۔
الیکشن کمیشن کو مکمل طور پر آزاد اور خودمختار بنایا جائے تاکہ آنے والے کسی بھی الیکشن پر ملکی یا بین الاقوامی سطح پر کوئی سوال نہ اٹھ سکے۔ 2024 کے انتخابات کی خامیوں کا جائزہ لے کر ایک شفاف انتخابی فریم ورک قائم کیا جائے۔ پاکستان کو محض ٹیکسٹائل اور چمڑے کی روایتی مصنوعات پر انحصار ختم کرنا ہوگا۔ بنگلہ دیش کی طرز پر ریڈی میڈ گارمنٹس، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ کے شعبوں میں نئی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ مقامی سطح پر پیداوار بڑھانے کے لیے صنعت کاروں کو بجلی، گیس اور ٹیکسوں میں سہولت دی جائے تاکہ وہ بین الاقوامی مارکیٹ میں مقابلے کی فضا قائم رکھ سکیں۔
تمام سیاسی جماعتیں ذاتی اور وقتی سیاسی مفادات کی سیاست کو ترک کریں۔ روایتی الزامات کی سیاست کے بجائے ایک متفقہ "میثاقِ معیشت و حقوق" تشکیل دیا جائے جس کا مقصد ملکی معیشت کی بقاءاور قانون کی حکمرانی کو آئندہ پانچ سے دس سالوں کے لیے تحفظ دینا ہو۔ جنوری 2027ء ہم سے صرف چند ماہ کے فاصلے پر ہے۔ اگر ہم نے وقت کی نزاکت کو نہ سمجھا اور اصلاحات کی بجائے وقتی تسلیوں اور سیاسی جوڑ توڑ پر انحصار جاری رکھا تو معاشی زوال کی جو نئی لہر آئے گی، اس کی ذمہ داری کسی ایک حکومت پر نہیں بلکہ پوری ریاست اور اس کے سیاسی و انتظامی ڈھانچے پر عائد ہوگی۔ اب وقت روایتی نعروں کا نہیں بلکہ ٹھوس عملی اقدامات کا ہے۔

