Cigarette
سگریٹ
کہتے ہوئے جھجک آتی ہے کہ سگریٹ جیسی نیچ شے پر پیسے خرچ ہو رہے ہیں۔ سگریٹ! لہو سے پانی نچوڑتے، گلے میں کسیلا ذائقہ اور کپڑوں میں دھویں کی تہہ چھوڑتے کش! تف ہے، مگر پھر ایک ڈبی ختم ہوتے ہی دوسری خریدنے کی لعنت لگ جائے تو ضمیر اندر سے چیختا ہے، بھونکتا ہے، حساب لے آتا ہے اور کہتا ہے کہ اس خرید کو جسٹیفائی کر! کیسے کریں؟
سگریٹ جو تجسس میں جلے، اس کی بات الگ، مگر جو سگریٹ تنہائی نے پکڑائے، وہ تشویش ناک ہوتے ہیں کیونکہ یہ اس تنہائی کا حل کبھی نہیں بنے، پینے والے جانتے ہیں۔
سگریٹ جو اوائلِ عمری میں پینے لگتے ہیں، ان کی سمجھ آتی ہے، مگر پچیس، چھبیس کی پختہ عمر میں، جہاں عادتیں لگنا بند ہو جاتی ہیں، وہاں سے کوئی پینا شروع کرے تو افسوس ہوتا ہے کہ اس آدمی نے نہ تو دوستوں کو دیکھ کر پینا شروع کیا، نہ کسی فلم کو دیکھ کر، نہ تجسس میں، بس ایک شام پینا شروع کیا اور عادت کے خدا کے سامنے عاجز آ گیا۔ خدا جس کا کوئی سرا ہاتھ نہیں آتا۔
سگریٹ کے حق میں کوئی بولے تو خون کھولتا ہے۔ شرمناک بات یہ ہے کہ خلاف بولنے والوں کو بھی زیادہ دیر برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ ایک طرف یہ کہ تندرست اعضا قبر میں لے جانے پر اضافی پوائنٹس بھی کوئی نہیں اور جیتے جی اپنے بگڑے اعضا کی ہولناکی کے گواہ خود بن کر دیکھنا بھی کوئی دلکش منظر نہیں۔
ٹریگر پوائنٹ کا پتہ سگریٹ جانتے ہیں یا سگریٹ ہی ٹریگر پوائنٹس ہیں، کہنا مشکل ہے، مگر ان کا ساتھ یقینی ہے۔ عادت چھوڑنے کی جستجو بھی آدمی کی زندگی کا مقصد ہو سکتی ہے۔ اسی جستجو میں کتنوں نے سگریٹ کے بھرے پیکٹ پاؤں سے مسل کر کہا کہ بس اب اور نہیں۔ جتنے سگریٹ "بس آخری" کہہ کر جلے، ان کا شمار کیا جائے تو کتنے سگریٹس کے فلٹر اس زمین سے برآمد ہوں، اندازہ ہے آپ کو!
بچپن میں تایا ابو کو سگریٹ پیتے دیکھ کر خیال آتا تھا کہ یہ آخر کون سی لذت، لطف اور خوراک ہے؟ یہ دھواں، قبیح مہک، ایک سرے پر انگارہ، دوسرے سرے پر لعاب، یہ کیسے کسی کا رزق ہو سکتا ہے! تایا ابو سے لگاؤ تھا، مگر اس لگاؤ کی شدت ٹھیک اس لمحے زائل ہو جاتی جب وہ سگریٹ جلاتے، دھواں ناک، منہ سے چمبیلی کے آنگن میں پھیلاتے۔
تایا ابو ہر جلتے سگریٹ میں یاد آنے لگے ہیں، جیسے مسکرا کر گھور رہے ہوں اور پوچھ رہے ہوں کہ اپنے آنگن کی چنبیلی کو آلودہ کرنے کے لیے میں کافی نہیں تھا، مرے بچے!

