Kabhi Ke Din Bare Kabhi Ki Raatein
کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں

گذشتہ دنوں حج سے واپسی پر بہت سے حجاج کرام نے بتایا کہ سعودی عربیہ کا موسم بھی بدل رہا ہے۔ حیرت انگیز طور پر بڑھتی ہوئی تاریخی بارشیں سیلابی پانی اور خوشگوار ہواوں کی وجہ سے خشک پہاڑیوں پر اب سبزہ دکھائی دینے لگا ہے۔ سعودی عرب کی روائتی اور شدید گرمی کے باوجود موسمی تبدیلی کی ہوا چل پڑی ہے۔ کئی مقامات پر تو موسم شدید گرمیوں کے باوجود بھی خوشگوار محسوس ہوتا ہے۔ سعودی عرب کی سخت اور منفرد گرمی کا زور ٹوٹ رہا ہے۔ سعودی عرب کے صحرا میں بارشوں کا بڑھنا اور پہاڑوں کا سبزہ اوڑھ لینا کئی زایویوں سے ایک اہم پیغام ہے۔
سائنسی اعتبار سے یہ موسمیاتی تبدیلی یا فضائی گردش میں تبدیلی یا بعض علاقوں میں کچھ برسوں میں غیر معمولی بارشوں اور سعودی عرب کی شجر کاری کوششوں کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے۔ حالیہ برسوں میں بارشوں نے کئی علاقوں کی بنجر وادیوں اور پہاڑی ڈھلوانوں کو عارضی طور پر سرسبز بنا دیا ہے جو ماحول کو بہتری کی جانب لے جارہے ہیں۔ جبکہ عرب کے صحرا پر برستی بارشیں صرف ریت کو ہی نہیں بھگوتیں بلکہ پہاڑوں پر اگنے والی ہریالی کا اعلان بھی کرتی ہیں کہ قدرت جب چاہے صحرا کو گلستان او گلستان کو صحرا بنا دئے۔
موسموں کا یہ بدلتا رنگ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ زمین کا اصل مالک وہ نہیں بلکہ وہ ذات ہے جو "کن" کہتی ہے تو بنجر زمین سے بھی زندگی پیدا ہو جاتی ہے اور ایک ہی "کن" سے سرسبز و شاداب دھرتی بنجر ہو سکتی ہے۔ روحانی اور دینی زاویے سے بہت سے مسلمان اسے اس مشہور حدیث کی یاد دہانی سمجھتے ہیں کہ "عرب کی سرزمین دوبارہ چراگاہوں اور نہروں والی ہو جائے گی"۔ دنیا کے موسم کیوں بدل رہے ہیں؟ کیا یہ صرف موسمیاتی تبدیلیوں کا کیا دھرا ہے؟ ہرگز نہیں یہ نظام قدرت ہے کہ کبھی کے دن بڑے ہوتے ہیں تو کبھی کی راتیں بڑی ہو جاتی ہیں۔ دنیا بھر میں بدلتے موسم ناصرف زمین کے ماحول کو نئے رنگ اور روپ عطا کرتے ہیں بلکہ انسانی زندگی کے ہر پہلو پر بھی اپنے گہرئے اثرات چھوڑتے ہیں۔ دنیا کی تہذیبیں اور ثقافتیں بھی وہاں کے موسم کی ہی مرہون منت ہوا کرتی ہیں۔ ہر خطے کی اپنی کیفیت اور اپنا مزاج موسموں کے اثر سے ہی بنتا ہے۔
دوسری جانب ایک خبر کے مطابق یورپ میں گرمی کی لہر ایک دہشت بن گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپ کے رہائشی مکانات، اسکول اور دفاتر کی تعمیر اس انداز میں نہیں ہوئی تھی کہ وہ اتنے شدید درجہ حرارت کو برداشت کرسکیں۔ اس لیے یہ گرمی کی شدت ایک "خاموش قاتل" ثابت ہو رہی ہے۔ صرف فرانس میں ہی اس ہیٹ ویو کے دوران تین دنوں میں بےشمار اضافی اموات رپورٹ موصول ہوئی ہیں۔ وہاں کے ٹریفک سگنل اور سڑکیں تک پگھل رہی ہیں اور اب یورپ میں جان لیوا گرمی کی اس لہر کی مشرقی ممالک کی جانب بڑھنے کی خبریں بھی آرہی ہیں۔
جب پاکستان میں گرمیوں سے نڈھال اور پریشان غریب لوگ ہلکے سے سایے کے لیے بھی پریشان ہوتے ہیں تو ایلیٹ کلاس کے بڑے لوگ اپنے بچوں سمیت گرمیوں کے یہ سخت دن یورپ اور لندن میں گزارنا اپنی شان سمجھتے ہیں۔ یورپ میں تعطیلات گزارنے اور ان چند دن بسر کرنے کے لیے اپنی اپنی قیمتی اور شاہانہ رہائش گاہیں بناتے ہیں۔ یورپ اور لندن کا موسم انہیں اپنی جانب کھینچ لیتا ہے جہاں یہ لوگ یہاں کی جھلستی گرمی اور دھوپ سے بچنے، ٹھنڈی ہواوں کا لطف اٹھانے اور معتدل موسم کا مزا لینے وہاں کا رخ کرتے ہیں۔ لیکن موسمیاتی تبدیلیوں نے اس مرتبہ تو کایا ہی پلٹ دی ہے۔ گرمی سے بچنے والے وہاں بھی گرمی سے محفوظ نہ رہ سکے۔ آج کل یورپ ہی نہیں بلکہ لندن بھی شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے۔ کئی ممالک میں درجۂ حرارت معمول سے کہیں زیادہ پہنچ چکا ہے اور وہ لوگ جو عموماً معتدل موسم کے عادی تھے، اس غیر معمولی گرمی سے پریشان اور بوکھلائے ہوئے نظر آتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شمالی افریقہ سے آنے والی گرم ہوا ایک "ہیٹ ڈوم" کی صورت میں یورپ پر چھا گئی ہے یورپ کے کئی ممالک تو شدید گرمی کی لہروں، جنگلاتی آگ اور خشک سالی کا سامنا کر رہے ہیں۔ جرمنی، اسپین، فرانس میں تو شدید گرمی کی لہر نے نیا ریکارڈ قائم کردیا ہے جہاں درجہ حرارت بیالیس سنٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے اور لوگ پنکھوں اور ائرکنڈیشنڈ کے لیے مارے مارے پھر رہے ہیں۔ اس تاریخی شدید گرمی سے مرنے والوں کی ایک بڑی تعداد بتائی جارہی ہےجن میں گرمی سے بچنے کے لیے پانی میں ڈوب کرمرنے والے بھی شامل ہیں اور یہاں کے ہسپتالوں پر شدید دباو ہے جبکہ وہاں ہونے والی بیشتر تقریبات منسوخ کردی گئی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہی علاقوں میں گرمیوں کے موسم میں دن بہت طویل اور راتیں مختصر ہو جاتی ہیں، جبکہ سردیوں میں یہی منظر الٹ جاتا ہےاور راتیں لمبی اور دن مختصرہوتے ہیں۔ ابھی تو اس شدید گرمی سے پگھلنے والی برف اور گلیشیرز کا کردار بھی سامنے آنے والا ہے۔
آج یوں محسوس ہوتا ہے کہ موسم اپنی پہچان کھو رہے ہیں اور ہواوں کا رخ بدل رہا ہے۔ یہ منظر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ فطرت ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی۔ کبھی دھوپ اپنی شدت دکھاتی ہے، کبھی سایہ اپنی رحمت۔ انسان جب اپنے وسائل اور ترقی پر بے حد ناز کرنے لگتا ہے تو موسم کی ایک لہر، گرمی کی ایک شدت یا سردی کی ایک یخ بستہ رات اسے اس کی محدود حیثیت کا احساس دلا دیتی ہے۔ یہ تبدیلی محض درجۂ حرارت کا اتار چڑھاؤ نہیں، بلکہ اس بات کا اشارہ ہے کہ قدرت اپنے توازن کی طرف متوجہ کر رہی ہے۔ جس خطے کو کبھی ٹھنڈک کی علامت سمجھا جاتا تھا، آج وہی گرمی کی شدت سے بے حال ہے۔
یہ منظر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زمین کے موسم کسی ایک قوم، ملک یا براعظم کی جاگیر نہیں، جب قدرت کا توازن بگڑتا ہے تو اس کی لپیٹ میں سب آتے ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس بدلتے ہوئے موسم کو صرف ایک خبر نہ سمجھیں، بلکہ ایک تنبیہ جانیں۔ اگر انسان نے فطرت کے ساتھ اپنا تعلق ذمہ داری، اعتدال اور احترام پر استوار نہ کیا تو آنے والے برسوں میں شاید دنیا کا کوئی خطہ بھی خود کو ایسی موسمیاتی تبدیلیوں سے محفوظ نہ سمجھ سکے گا۔ یاد رہے کہ یورپ کی معیشت کا انحصار سیاحت پر قائم ہے اور سیاحت کے فروغ کی وجہ وہاں کا خوشگوار اور ٹھنڈا موسم ہوتا ہے۔ یقیناََ وہاں کا خوشگوار موسم ان کا حق نہیں بلکہ خدا کی عطا کردہ ایک نعمت ہے۔ جس کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
شاید یہی اس دور کی سب سے اہم اور بڑی خبر ہے کہ قدرت انسان کو مسلسل خبردار کر رہی ہے کہ وہ زمین کے ساتھ اپنا رویہ بدلے ورنہ موسم خود انسان کی زندگی کا نقشہ بدل دے گا۔ آج کا بدلتا موسم صرف فطرت کے معمولات تک محدود نہیں بلکہ انسانی سرگرمیوں نے بھی قدرتی توازن کو متاثر کیا ہے۔ زمین اور فضاوں سے انسان کی چھیڑ چھاڑ بہت مہنگی پڑنے جارہی ہے۔ یقیناََ بدلتے موسم ہمیں قدرت کی طاقت اور اللہ کی حکمت کا احساس دلاتے ہیں اور موسموں کی یہ گردش ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زندگی جامد نہیں بلکہ ایک مسلسل سفر ہے جو ہر لمحے دھوپ چھاوں کی طرح چلتا اور بدلتا رہتا ہے اور قدرت کا یہی ایک اٹل اصول ہے کہ "کوئی موسم ہمیشہ نہیں رہتا"۔
ہوا کا رخ یا موسم کا مزاج بدلنے سے انسان بھی بدل جاتے ہیں اور جب انسان بدلتے ہیں تو تاریخ بھی نئی ہجرتوں، بدلتی معیشتوں، نئے نئے مختلف بحرانوں کے نئے باب کا آغاز کرتی ہے۔ شاید ہماری دنیا بھی ایسے ہی ایک دوراہے پر کھڑی ہے جہاں بدلتے موسم آنے والی تہذیب کی مثبت یا منفی تمہید لکھ رہے ہیں۔

