Wednesday, 01 July 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Shams Muneer Gondal
  4. Abu, Kya Main Mehfooz Hoon?

Abu, Kya Main Mehfooz Hoon?

ابو، کیا میں محفوظ ہوں؟

میرا ایک دوست بتا رہا تھا کہ کچھ دن پہلے ایک جاننے والا میرے پاس آیا۔ وہ عام دنوں میں بہت خوش باش آدمی ہے۔ اچھی ملازمت، خوبصورت گھر اور دو پیاری بیٹیاں۔ لیکن اس دن اس کے چہرے پر عجیب سی ویرانی تھی۔ میں نے پوچھا، "خیریت ہے؟" وہ خاموش رہا۔ میں نے دوبارہ پوچھا، "سب ٹھیک تو ہے؟" اس نے موبائل نکالا، اپنی سات سالہ بیٹی کی تصویر دکھائی اور بولا، "کل رات اس نے مجھ سے ایک سوال کیا اور میں آج تک اس کا جواب تلاش کر رہا ہوں"۔ میں نے پوچھا، "کیا سوال؟" اس کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ وہ بولا، "اس نے پوچھا، ابو! کیا میں محفوظ ہوں؟"

میں چند لمحوں تک اس کی طرف دیکھتا رہا۔ میرے پاس بھی اس سوال کا کوئی آسان جواب نہیں تھا۔ سوچیے! ایک سات سالہ بچی، جسے گڑیوں کی شادی، تتلیوں کے رنگ اور کارٹونوں کی دنیا میں رہنا چاہیے، اگر وہ اپنی سلامتی کے بارے میں سوچنے لگے تو سمجھ لیجیے کہ معاشرے کے اندر کوئی بہت بڑا زلزلہ آ چکا ہے۔ پاکستان اس وقت ایک ایسے کرب سے گزر رہا ہے جس نے ہر حساس دل کو زخمی کر دیا ہے۔ کمسن بچیوں اور بچوں کے ساتھ جنسی درندگی کے واقعات محض کرائم رپورٹس نہیں رہے، یہ ہماری اجتماعی ناکامی، اخلاقی زوال اور سماجی بے حسی کی خوفناک داستان بن چکے ہیں۔ ہر چند دن بعد ایک بچی لاپتہ ہو جاتی ہے، کسی ویرانے سے ایک معصوم کی لاش ملتی ہے، ایک ماں کی گود اجڑ جاتی ہے اور ایک باپ کی کمر ہمیشہ کے لیے ٹوٹ جاتی ہے۔ پھر کیا ہوتا ہے؟ ٹی وی اسکرینیں چیخنے لگتی ہیں، سوشل میڈیا پر غصے کا طوفان آ جاتا ہے، مذمتی بیانات جاری ہوتے ہیں اور چند دن بعد سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔

مجھے کبھی کبھی لگتا ہے کہ ہمارے ملک میں سب سے سستی چیز انسان کا درد اور سب سے مختصر چیز ہماری اجتماعی یادداشت ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ یہ درندے کون ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ یہ درندے پیدا کیوں ہو رہے ہیں؟ اگر ہمارا ملک ایک اسلامی نظریے کی بنیاد پر بنا تھا تو یہ جبر اور ظلم کا نظام کیوں۔ اتنے ظالم تو درندے بھی نہیں ہوتے کہ معصوموں سے پہلے اپنی ہولناک ہوس پوری کریں پھر ان کو بے رحمی سے قتل کرکے کسی دریا یا گٹر میں بہا دیں یا کوڑے میں دبا دیں تب تک کہ تعفن خود بتائے کہ یہاں کوئی سر بریدہ لاش یا آلائشیں موجود ہیں۔ اس کے پیچھے کہانی کیا ہے آئیں سمجھتے ہیں۔

اس کی پہلی وجہ اخلاقی انحطاط یا زوال ہے۔ جب معاشرے میں اچھائی اور برائی کی لکیر دھندلی پڑ جائے، جب والدین کی تربیت کی جگہ موبائل فون لے لے اور جب شرم و حیا کو کمزوری سمجھا جانے لگے تو انسان آہستہ آہستہ اپنی انسانیت کھونے لگتا ہے۔ دوسری وجہ فحاشی اور غیر اخلاقی مواد تک بے لگام رسائی ہے۔ مسلسل گندگی دیکھنے والا ذہن ایک وقت کے بعد حقیقت اور جرم کے درمیان فرق کھو دیتا ہے۔ تیسری وجہ خاندانی نظام کی کمزوری ہے۔ ہم اپنے بچوں کے لیے مہنگے کپڑے، اچھے اسکول اور جدید موبائل تو خرید لیتے ہیں، مگر ان کے ساتھ بیٹھ کر روز دس منٹ بات نہیں کرتے۔ انکی ترجیعات کو نہیں سمجھتے۔

چوتھی وجہ منشیات ہیں۔ آئس اور دیگر نشے انسان کے اندر موجود رحم، خوف اور شرم کو ختم کر دیتے ہیں۔ نشے کے پاگل پن میں نئے تجربات کرنے کے لیے معصوم پھولوں یا کلیوں کے بانکپن کو کچل دینے میں قباحت نہیں سمجھتے۔ پانچویں وجہ قانون کے نفاذ میں کمزوری ہے۔ جزا اور سزا کے نظام کو اس سختی سے اور میرٹ پر نافذ کیا جائے کہ کسی کی سفارش بھلے کوئی کتنا طاقتور کیوں نہ ہو کسی حقیقی مجرم کو رعایت دلوا سکے اور نہ کسی بے گناہ کے گلے میں کسی اور کا پھندا فٹ کیا جاسکے۔ لیکن کیا اس مسئلے کا حل ہے؟ جی ہاں اور اگر ہم سنجیدگی اختیار کریں تو اس کا حل موجود ہے۔

سب سے پہلے گھر کو محفوظ قلعہ بنانا ہوگا۔ والدین اپنے بچوں کے دوست بنیں۔ بچوں سے روزانہ بات کریں، ان کا دکھ سکھ محسوس کریں۔ ان کی سرگرمیوں میں دلچسپی لیں اور انہیں یہ اعتماد دیں کہ وہ کسی بھی خوف یا پریشانی کو بلا جھجھک بیان کر سکتے ہیں۔ دوسرا، اسکولوں میں چائلڈ پروٹیکشن ایجوکیشن کو لازمی مضمون بنایا جائے۔ بچوں کو ان کی عمر کے مطابق یہ سکھایا جائے کہ کون سا رویہ غلط ہے، خطرے کی صورت میں کیا کرنا ہے اور کس سے مدد مانگنی ہے بچوں کو یہ معلوم ہو کو کون اپنا ہے اور کون بیگانہ اور کسی اجنبی کی باتوں میں نہ آئیں۔ تیسرا، ہر ضلع میں بچوں کے تحفظ کے لیے خصوصی یونٹس قائم کیے جائیں، جہاں پولیس، ماہرینِ نفسیات اور سماجی کارکن مل کر فوری کارروائی کر سکیں۔ اسی طرح ملک کے اندر ایسے اندوہناک واقعات کا سدباب کرنے کے لیے جاسوسی کا ایک ایسا نیٹ ورک قائم کیا جائے جو چائلڈ پروٹیکشن کے لیے اور بچوں کے خلاف جنسی ہراسانی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف اپنا موثر کردار ادا کرے۔

چوتھا، ایسے مقدمات کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں اور قانون کے مطابق بغیر تاخیر کے فیصلے ہوں اور واقعی ملوث کرداروں کو نشان عبرت بنا کر چھوڑا جائے۔ پانچواں، منشیات فروشوں اور بچوں کے خلاف جرائم میں ملوث افراد کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے۔ ایسے جرائم پر کوئی سیاسی، سماجی یا مالی اثر و رسوخ حاوی نہیں ہونا چاہیے۔ چھٹا، میڈیا کو محض سنسنی پھیلانے کے بجائے مستقل آگاہی مہم چلانی چاہیے۔ مساجد، تعلیمی اداروں اور سماجی تنظیموں کو بھی بچوں کے تحفظ کے لیے قومی تحریک شروع کرنی چاہیے۔

ساتواں، حکومت کو ایک قومی ہیلپ لائن ا ور مؤثر رپورٹنگ سسٹم قائم کرنا چاہیے تا کہ بچے، والدین یا اساتذہ کسی بھی مشکوک صورتحال میں فوری مدد حاصل کر سکیں اور سب سے اہم بات یہ کہ ہمیں دوبارہ ایک زندہ معاشرہ بننا ہوگا۔ وہ معاشرہ جہاں ہر بچہ صرف اپنے والدین کا نہیں بلکہ پورے محلے اور پوری قوم کی امانت سمجھا جائے۔ آخر میں، میں پھر اسی سوال کی طرف لوٹتا ہوں۔ اگر ایک سات سالہ بچی اپنے باپ سے پوچھے، "ابو! کیا میں محفوظ ہوں؟" تو یہ سوال صرف ایک باپ سے نہیں، ہم سب سے ہے۔ یہ سوال پارلیمنٹ سے بھی ہے، عدالتوں سے بھی، اسکولوں سے بھی، میڈیا سے بھی اور ہر اس شخص سے بھی جو خود کو اس معاشرے کا ذمہ دار شہری سمجھتا ہے۔

کسی قوم کی اصل ترقی اس کے پلوں، سڑکوں اور بلند عمارتوں سے نہیں ناپی جاتی۔ قوموں کی عظمت ان کے بچوں کی مسکراہٹوں سے پہچانی جاتی ہے۔ بچے کسی قوم کے مستقبل کی نوید اور امید کا استعارہ ہوتے ہیں اور جن قوموں کی امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں وہ قومیں زندہ درگور ہوجاتی ہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ نہ صرف سکول لیول سے بچوں کی برین واشنگ کی جائے بلکہ بڑوں کی بھی کونسلنگ کی جائے اور یہ کام نہ صرف ادارہ جاتی بلکہ انفرادی سطح پر بھی کیا جائے۔ ہر جاننے والا نہ جاننے والے کو آگاہی دے۔ اس کام کو پوری احساس ذمہ داری سے گا ؤں دیہات سے شروع کرکے میٹروپولیٹن شہروں تک فروغ دیا جائے تاکہ قوم کے مستقبل کو داؤ پر نہ لگنے دیا جائے۔ جس دن پاکستان کا ہر بچہ بلا خوف گھر سے نکل سکے گا، جس دن ہر ماں اپنی بیٹی کو سکون سے اسکول بھیج سکے گی اور جس دن کوئی بچی اپنے باپ سے یہ سوال نہیں پوچھے گی کہ "ابو! کیا میں محفوظ ہوں؟" اسی دن ہم خود کو ایک مہذب، باوقار اور زند ہ قوم کہنے کے حق دار ہوں گے۔

Check Also

Waday Ki Hudood

By Asif Masood