Main Shayar Nahi Badurqa Hoon
میں شاعر نہیں بدرقہ ہوں

میں نے جانا ہے کہ زندگی خواہ کتنی ہی مشکل اور صبر آزما کیوں نہ ہو۔ ہمیں اس کے ساتھ بہرحال چلنا ہی پڑتا ہے۔ خواہی ناخواہی اس کا دامن چھوڑنا کسی کو بھی گوارا نہیں۔ میں نے زندگی کو سینکڑوں تناظر میں دیکھا ہے۔ اس نے مجھے حیران ہی کیا ہے۔ کیا کروں کہ میں مر کر بھی جینے کی کوشش میں لگا رہتا ہوں کہ مرنے سے پہلے مر جانے کا فلسفہ میرے شعور کے وجدان میں کہیں گوشہ نشیں ہوگیا ہے۔ وقت بھی کڑا امتحان لیتا ہے۔ یہ کسی کو اپنے معیار پر پورا اُترنے کاموقع فراہم نہیں کرتا۔
میں نے چاہا کہ اپنے زخموں کو سمجھوتے کے پھاہے سے مندمل کر سکوں لیکن یہ بھی معمولی کام نہ ہوسکا۔ میں نے چاہا تھا کہ جو میرے ساتھ چلے ہیں، میں ان کے ساتھ چلتا رہوں، سو، یہ بھی مجھ سے نہ ہوسکا۔ میں نے چاہا تھا کہ میں شعور سنبھالنے کے بعد دُنیا کو اپنے ڈھب پر جینا سکھاؤں گا مگر میرے اپنے پاؤں قدم قدم پر ڈگمگاتے رہے۔ میں نے چاہا تھا کہ محبت میرے گھر کی دیواروں پر رقص کرے مگر رنجوری نے میرے پاؤں باندھے رکھے۔ میں نے بہت کچھ چاہا تھا لیکن فقط چاہنے سے کیا ہوتا ہے۔
کہتے ہیں انسان کے اختیا رمیں سب کچھ ہے۔ میں نہیں مانتا۔ میرے اختیار میں تو کچھ بھی نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں بے اختیار پیدا کیا گیا ہوں یا پھر بے اختیار کر دیا گیا ہوں۔ ان دونوں میں سے کون سی بات سچی اور دل کو لگتی ہے، یہ فیصلہ تو میرے قارئین نے کرنا ہے۔ میں نے اپنا آپ ان نظموں میں لکھ دیا ہے۔ کیا ہے کہ شاعر بے زبان ہوتا ہے، اس کی نظمیں ہی اس کی اصل گویائی ہوتی ہیں۔
شاعر بھی عجیب چیز ہے۔ لوگوں کو اپنے دھندوں سے فرصت نہیں اور یہ جناب اپنے دُکھوں کے ساتھ زمانے کی رنجوری بھی دامن میں سمیٹے آہیں بھرتا رہتا ہے۔ بھلا، اسے زمانے کے دُکھوں اور آلاموں سے کیا غرض۔ اسے چاہیے کہ محبت کرے اور فلرٹ کرے اور جسم کی تحسین میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے اور کسی کے چھوڑ جانے اور وقت نہ دینے اور وصلت سے محروم رکھنے پر نوحہ خواں رہے۔ اس قسم کا شاعر شائد تاریخ میں کبھی رہا ہو، مگر میں ایسا شاعر نہیں ہوں۔ میں تو ظاہر اور باطن میں فرق کی تمیز سے ماورا ہو کر ہر چیز کو اپنے تناظر میں دیکھتا ہوں۔
مجھے موت میں زندگی اور نیستی میں ہستی کا عنصر دکھائی دیتا ہے۔ کسی کی چیخ میں خوشی اور مسرت میں غم محسوس ہوتا ہے۔ میں جس انداز میں اس کائنات کو دیکھتا ہوں وہ مختلف ہے۔ عرفِ عام میں اس سوچ کے بندے کو "پاگل" کہا جاتا ہے۔ چلیں، مان لیتے ہیں کہ میں ایک پاگل انسان ہوں۔ تو کیا، پاگل انسان کائنات کو اپنے تناظر میں نہیں دیکھ سکتا۔ کیا یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ ہر چیز ویسے ہی دیکھی، پرکھی اور آنکی جائے گی جیسا ہمارے بزرگ فرما گئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ میں اپنے شعور کی آنکھوں میں سلائیاں پھروا لوں اور کانوں میں سیسہ ڈلو کر ہمیش گنگ ہو جاؤں۔
عجیب بکواس ہے، دُنیا نے اپنے جملہ اطوار کو تبدیل کر لیا ہے اور ایک ہم مشرقی سماج کے سطحی باشندے ہیں جنھیں اپنی ناک سے آگے کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا۔ دُنیا نے اگر مادی ترقی کر لی ہے تو بھیا، آپ بھی قدم بڑھائیے۔ گھر کے ویران کونے میں بیٹھ کر قسمت کا ماتم کرنے کی بجائے مقفل سوچ کی گِرہ کو چاک کیجیے اور دُنیا کو یہ احساس دلائیے کہ میں کچھ کر سکتا ہوں۔ دُنیا بھی عجیب چیز ہے، جب تک آپ ثابت نہ کردے، یہ قبول نہیں کرتی۔ کوئی یہ کہے کہ میں مر جاؤں تو کہتی ہے کہ مر جاؤ اور جب وہ مر جاتا ہے تو کہتی ہے ہائے، تم مر گئے۔ حاصلِ لاحاصل کی عجیب کشمش ہے۔
میں شاعر ہوں، نثری نظمیں لکھتا ہوں اور یہی میری بنیادی شناخت ہے۔ مجھے نظمیں ہونٹ کرتی ہیں۔ میں اپنے ہی انداز میں نظمیں لکھتا ہوں اور کسی بھی موضوع پر لکھتا ہوں۔ میرے پسندیدہ موضوعات کائنات میں بکھرے ہوئے ستاروں کی مانند فراخ ہیں۔ میں یہ نہیں جانتا کہ میں کب کیوں، کیسے اور کس کے لیے لکھتا ہوں۔ سچی بات یہ ہے کہ میں اپنے آپ کو لکھتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ میں وہ نہیں ہوں جو دُنیا مجھے سمجھتی ہے اور میں وہ بھی نہیں ہوں جو مجھے اپنے آپ سے باور ہوتا ہے۔
دراصل میں کچھ اور ہی ہوں اور جو ہوں وہ تفہیم سے بالاتر نہیں ہے۔ یعنی آپ اس گوں مگوں سے معمور شاعر کو اس کی نظموں میں ٹٹول سکتے ہیں۔ آئیے، ان نظموں کو ایک ایک کرکے پڑھتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ آپ کے اندر کا سفر انھیں نظموں سے شروع ہو جائے اور میں سطر بہ سطر آپ کے سفرِ ادراک کا بدرقہ بن جاؤں۔

