Wednesday, 08 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Imran Ali Shah
  4. Aam Aadmi Khofzada Hai

Aam Aadmi Khofzada Hai

عام آدمی خوف زدہ ہے

کہتے ہیں کہ کسی بھی ریاست کی اصل طاقت اس کے ہتھیاروں، بلند و بالا عمارتوں یا وسیع شاہراہوں میں نہیں بلکہ اس اعتماد میں پوشیدہ ہوتی ہے جو ایک عام شہری اپنے ملک، اپنے آئین اور اپنے ریاستی نظام پر رکھتا ہے۔ جب ایک مزدور شام کو گھر لوٹتے ہوئے مطمئن ہو کہ اس کے بچوں کی تعلیم متاثر نہیں ہوگی، ایک کسان کو اپنی فصل کا مناسب معاوضہ ملے گا، ایک ملازم کو اپنی ملازمت اور عزتِ نفس کا تحفظ حاصل ہوگا اور ایک نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں پُرامید ہوگا، تب ہی ایک ریاست حقیقی معنوں میں فلاحی ریاست کہلانے کی مستحق بنتی ہے۔

مہذب دنیا نے اس حقیقت کو بہت پہلے سمجھ لیا تھا کہ ترقی کا اصل معیار معاشی اعداد و شمار نہیں بلکہ انسان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ، کینیڈا، یورپی ممالک، متحدہ عرب امارات اور دیگر ترقی یافتہ ریاستیں اپنے شہریوں کو بہترین تعلیم، معیاری صحت، سماجی تحفظ، شفاف انصاف اور باعزت روزگار کی فراہمی کو اولین ترجیح دیتی ہیں۔ وہاں حکومتیں عوام سے ٹیکس ضرور وصول کرتی ہیں، لیکن انہی وسائل کو عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنا اپنی بنیادی ذمہ داری سمجھتی ہیں۔ یہی اعتماد ریاست اور شہری کے تعلق کو مضبوط بناتا ہے۔

پاکستان بھی وسائل، صلاحیتوں اور باہمت عوام سے مالا مال ملک ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں مختلف شعبوں میں اصلاحات، ڈیجیٹل نظام، سماجی تحفظ کے پروگرام اور عوامی سہولیات کی بہتری کے لیے قابلِ قدر اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان کوششوں کو تسلسل، شفافیت اور مؤثر عمل درآمد کے ذریعے مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ان کے ثمرات معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچ سکیں۔

اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ آج کا عام آدمی مختلف نوعیت کے خدشات اور پریشانیوں میں گھرا ہوا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، روزگار کے محدود مواقع، علاج اور تعلیم کے بڑھتے ہوئے اخراجات، کاروباری غیر یقینی صورتحال اور مستقبل کے بارے میں بے یقینی نے اس کی زندگی کو مسلسل امتحان بنا دیا ہے۔ متوسط طبقہ اپنے ماہانہ اخراجات پورے کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہے جبکہ کم آمدنی والے طبقات کے لیے دو وقت کی روٹی بھی ایک چیلنج بنتی جا رہی ہے۔

یہ خوف صرف معاشی نہیں بلکہ نفسیاتی بھی ہے۔ ایک باپ اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہے، ایک نوجوان اعلیٰ تعلیم کے باوجود روزگار کی تلاش میں سرگرداں ہے، ایک تاجر بازار کی سست روی سے پریشان ہے اور ایک مزدور روزانہ کام ملنے یا نہ ملنے کی فکر میں زندگی گزار رہا ہے۔ جب معاشرے کے مختلف طبقات ایک ہی قسم کی بے یقینی محسوس کرنے لگیں تو یہ صرف انفرادی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ قومی توجہ کا متقاضی بن جاتا ہے۔

ریاست اور عوام کا تعلق صرف آئینی نہیں بلکہ اعتماد کا رشتہ بھی ہے۔ جب عوام یہ محسوس کریں کہ ان کی مشکلات سنی جا رہی ہیں، ادارے متحرک ہیں، انصاف بروقت مل رہا ہے اور قانون سب پر یکساں لاگو ہو رہا ہے تو خوف کی جگہ اعتماد جنم لیتا ہے۔ یہی اعتماد کسی بھی مضبوط ریاست کی بنیاد ہوتا ہے۔

گزشتہ چند روز کے دوران پنجاب اسمبلی میں پیش کیے گئے "عادی مجرم (Habitual Offenders)" سے متعلق مجوزہ بل نے بھی عوامی اور قانونی حلقوں میں ایک سنجیدہ بحث کو جنم دیا۔ بعض قانونی ماہرین، وکلاء اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے اس کی بعض شقوں کے حوالے سے یہ خدشہ ظاہر کیا کہ اگر ان میں مناسب قانونی تحفظات، واضح تعریفات اور مؤثر عدالتی نگرانی شامل نہ کی گئی تو عام شہری کی شخصی آزادی اور بنیادی آئینی حقوق کے بارے میں غلط فہمیاں یا خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ ان تحفظات کے بعد حکومت پنجاب نے بل کا ازسرِ نو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا۔ یہی جمہوریت کا حسن ہے کہ عوامی آراء، قانونی ماہرین کی رائے اور آئینی تقاضوں کی روشنی میں قانون سازی کو مزید بہتر بنایا جائے۔ مضبوط قانون وہی ہوتا ہے جو امن و امان کے قیام کے ساتھ ساتھ شہری آزادیوں کے تحفظ کی بھی مکمل ضمانت دے۔

ہمیں یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی چاہیے کہ ریاست صرف حکومت کا نام نہیں۔ ریاست ہم سب سے مل کر بنتی ہے۔ سرکاری ادارے، عدلیہ، انتظامیہ، نجی شعبہ، تاجر، صنعت کار، اساتذہ، صحافی، وکلاء، دانشور اور عام شہری، سب اس نظام کا حصہ ہیں۔ اگر ہم اپنی اپنی ذمہ داریاں دیانت داری سے ادا کریں، قانون کا احترام کریں، ٹیکس ادا کریں، میرٹ کو فروغ دیں اور اجتماعی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دیں تو یقیناً معاشرہ زیادہ مضبوط اور مستحکم ہوگا۔

عام آدمی کو کسی غیر معمولی رعایت یا آسائش کی خواہش نہیں ہوتی۔ وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ اس کی محنت کا صلہ اسے انصاف کے ساتھ ملے، اس کے بچوں کو معیاری تعلیم نصیب ہو، بیماری کی صورت میں مناسب علاج دستیاب ہو، اس کی عزتِ نفس محفوظ رہے اور وہ بغیر کسی خوف کے اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کر سکے۔ یہی وہ بنیادی احساسِ تحفظ ہے جو کسی بھی مہذب ریاست کی شناخت ہوتا ہے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ترقی کو صرف اقتصادی اشاریوں، ترقیاتی منصوبوں اور بلند و بالا عمارتوں سے نہ ناپیں بلکہ اس بات سے جانچیں کہ ایک عام شہری خود کو کتنا محفوظ، مطمئن اور باوقار محسوس کرتا ہے۔ کیونکہ ریاستیں صرف معاشی ترقی سے نہیں بلکہ عوام کے اعتماد سے مضبوط ہوتی ہیں۔

پاکستان نے اپنی تاریخ میں بے شمار آزمائشیں دیکھی ہیں، مگر ہر مشکل وقت میں اس کے عوام نے صبر، حوصلے اور اتحاد کی مثال قائم کی ہے۔ آج بھی اگر ریاستی ادارے، منتخب حکومت، نجی شعبہ اور عوام باہمی اعتماد، شفافیت، قانون کی بالادستی اور عوامی فلاح کو اپنی مشترکہ ترجیح بنا لیں تو وہ دن دور نہیں جب خوف کی جگہ اعتماد، بے یقینی کی جگہ استحکام اور مایوسی کی جگہ امید لے لے گی۔

آخر میں صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ کسی بھی ملک کا سب سے بڑا سرمایہ اس کے قدرتی وسائل نہیں بلکہ اس کے لوگ ہوتے ہیں۔ جب عام آدمی خود کو محفوظ، باعزت اور پُرامید محسوس کرتا ہے تو وہی احساس قومی ترقی، معاشی استحکام اور مضبوط ریاست کی بنیاد بنتا ہے۔ آئیں، ہم سب مل کر ایسا پاکستان بنانے کی کوشش کریں جہاں عام آدمی خوف زدہ نہیں بلکہ پُراعتماد ہو، کیونکہ ایک پُراعتماد شہری ہی ایک مضبوط اور خوشحال ریاست کی ضمانت ہوتا ہے۔

About Syed Imran Ali Shah

Syed Imran Ali Shah, a highly accomplished journalist, columnist, and article writer with over a decade of experience in the dynamic realm of journalism. Known for his insightful and thought-provoking pieces, he has become a respected voice in the field, covering a wide spectrum of topics ranging from social and political issues to human rights, climate change, environmental concerns, and economic trends.

Check Also

Masnoi Zahanat Se Khudkar Tajurba Gahon Tak

By Muhammad Rizwan Arif