Monday, 06 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Mehdi Bukhari
  4. Professional Ghareeb

Professional Ghareeb

پروفیشنل غریب

غربت، بیروزگاری اور ناخواندگی کے مسائل ہمارے ہاں حقیقی ہیں لیکن کچھ غریب پروفیشنل غریب بھی ہیں۔ یعنی وہ اسی حال میں رہنا پسند کرتے ہیں کام کرنا یا ہاتھ پاؤں مارنا ان کو پسند نہیں آتا۔ ایسے غریبوں کی آپ جتنی بھی مدد کر دیں یا ان کو پاؤں پر کھڑا کرنے کی جتنی بھی کوششیں کر لیں وہ کچھ عرصے بعد پھر وہیں ہوں گے۔ ہاتھ پھیلانے میں بالکل عار نہیں سمجھتے اور جو شخص ایک بار کسی صاحب حیثیت سے مدد حاصل کر چکا ہو وہ اس کا عادی ہو جاتا ہے۔ میرا اس معاملے میں ذاتی تجربہ رہا ہے۔ اس کے بعد نچوڑ نکالا کہ ہر غریب آپ کی مدد اور آپ کے وسائل کا مستحق نہیں ہوتا۔ کسی کی مدد سے پہلے اس کی باڈی لینگوئج اور محنت مشقت کی لگن بھی پرکھ لو کہ اگلا خود بدلنا بھی چاہتا ہے یا نہیں یا اس کا ٹریک ریکارڈ یا ہسٹری کیا کہتی ہے۔

بہت سے پروفیشنل غریب ایسے بھی ہیں جو سوشل میڈیا پر پیکج لگا کر بیٹھے ہیں۔ آئے روز مجھے انجان پروفائلز سے بہت سی دُکھی تصاویر اور لمبی داستانیں انباکس میں وصول ہوتی ہیں۔ بعضے بعضے تو اپنی داستان میں نام بدلنے کا تکلف بھی نہیں کرتے۔ یعنی ایک ہی لمبا ٹیکسٹ لکھا ہوتا ہے کسی کے نام اور وہی سو ڈیڑھ سو لوگوں کو ٹارگٹ کرکے بھیج دیتے ہیں نام بھی نہیں بدلتے۔ ان کا بھی چل جاتا ہوگا۔ اس بھری دنیا میں سینکڑوں افراد کو میسج بھیج کر کوئی اکا دکا بندہ مان ہی جاتا ہوگا۔ کم خرچ بالا نشیں۔ یہ چسکا ہی الگ ہوتا ہے۔

مسائل حقیقی ہیں، میسجز بھی حقیقی ہوتے ہوں گے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ سچ نہیں ہوتا ہوگا۔ اگر حقیقی مسئلہ ہے تو اپنے جاننے والوں، اپنے شناسا افراد سے اپنے گردا گرد بستے لوگوں سے مالی مدد طلب کریں۔ اپنے کولیگز سے کریں اپنے خاندان سے کریں۔ مگر ایسا نہیں ہوتا اور انجان یا ناشناسا افراد سے مدد کرنے کو اپیل کرتے ہیں۔ اکثر یہ پیغام ہوتا ہے کہ اپنے جاننے والوں سے مدد طلب کرکے ان کی عزت نفس مجروح ہوگی۔ چلیں یہ بات بھی درست کہ سفید پوشی کا بھرم رکھنے کو ایسا کرتے ہیں۔ بھرم رکھنا مقصود ہے تو اپنا کوئی اثاثہ بیچ دیں۔ کچھ تو ہوگا۔ کوئی بائیک کوئی سائیکل کوئی ٹی وی فریج کوئی گھر بار۔ جب مشکل وقت گزر جائے پھر بنا لیجئیے گا۔

کچھ پیغامات ایسے ملتے ہیں جن میں درخواست گزار کا مدعا ہوتا ہے کہ وہ مقروض ہے اس کا قرض اتار دیا جائے۔ کسی نے کسی سکیم ایپ پر کچھ کرکے قرض چڑھایا ہے تو کسی نے اپنی زندگی میں بلنڈر کرکے۔ چلیں ہو جاتا ہے دنیا ہے۔ تو اس گرداب سے نکلنے کی راہ بھی خود تلاشیں۔ لاکھوں کے مقروض آپ ہوں اور قرض آپ کا انجان بندہ اتار دے تاکہ اگلی بار پھر اسی امید پر جوا کھیل لیں کہ کوئی نہ کوئی چھڑوا ہی دے گا۔ پھر پیغامات ملتے ہیں بچیوں کی شادیوں کے جہیز کے سلسلے میں یا کوئی نوجوان شادی کرنا چاہ رہا ہے مگر افورڈ نہیں کر سکتا۔ بھئی، آپ جہیز نہ دیجئیے جب حالات ہی ایسے ہوں۔ اگر کوئی لینے پر مصر ہے تو اسے سمجھائیں اور نہیں سمجھ رہا تو وہاں رشتہ کیوں کرنا؟ وہ آگے بھی ساری زندگی تنگ کریں گے اور وہ نوجوان جو نکاح کے لیے مدد طلب کرنے کو لوگوں کو میسجز کرتے ہیں ان سے درخواست ہے کہ مسجد میں نکاح کر لیں مفت ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی مولوی آپ سے نکاح کے پیسے مانگے تو بتائیے گا پھر۔ یعنی عجب نان سینس چلتی رہتی ہے۔

پھر ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو کسی بچی یا بچے یا بزرگ کی بیماری کی تصاویر، یا میڈیکل ریکارڈ بھیج کر ان کے علاج کے اخراجات یا آپریشن کے اخراجات کی مدد طلب کرتے ہیں۔ ظاہر ہے آپ ہر انسان کی ویریفکیشن تو نہیں کر سکتے اور ظاہر ہے آپ کونسا فیکٹریوں کے مالک ہیں کہ ہر کسی کی مدد کرنے کے اخراجات یا وسائل رکھتے ہوں۔ ایسے پیغامات پر میں خاموشی اختیار کرتا ہوں۔ لیکن دو بار ایسا ہوا کہ کچھ دنوں بعد اسی مریض کی کفن پوش تصویر بھی بھیجی گئی کہ انتقال ہوگیا۔ یعنی آپ نے مدد نہیں کی ناں دیکھیں وفات ہوگئی۔ یعنی شاید اگلے کو یہ بتانا مقصود ہوتا ہے یہ آپ کی وجہ سے ہوا ہے، اگر مدد کر دیتے تو نہ ہوتا۔ الغرض اس ذہنیت اور پروفیشنل غربت کا کوئی حل کوئی دارو نہیں ہوتا۔

دوسری جانب یونیورسٹیز میں پڑھنے والوں کی اپنے مستقبل پر توجہ نہیں۔ حدف صرف کسی طرح ڈگری پاس کرنا ہے۔ اس کے بعد کیا کرنا ہے کسی کو معلوم نہیں۔ پرائیویٹ یونیورسٹیز میں ڈگری پاس ہو ہی جاتی ہے وہ ایک الگ طویل موضوع ہے۔ باقی ہینگ آؤٹس کرو، موج مارو، گرل فرینڈز بوائے فرینڈز پالو، سوٹے لگاؤ، بمطابق حیثیت فیشن مارو اور ڈگری لے کر اس معذور سماج کا ایک اور عضو معطل بن جاؤ۔ پھر ساری عمر کا رونا ہے۔ مہنگائی ہے۔ نوکری نہیں ملتی۔ ملک سے باہر جانا ہے اور باہر جا کر کچرا اٹھانے کی نوکری کرنی ہے۔ تب تک میمز انجوائے کرو۔ سوشل میڈیا پر وقت دو۔ لگے رہو۔

مہنگائی کا رونا روتے آنسو خشک نہیں ہوتے مگر تلاشنے نکلو تو باہنر بندہ نہیں ملتا۔ اگر مل ہی جائے تو دوسرا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ پروفیشنل ازم کو یہاں دور سے سلام ہے۔ اگر آپ خالی باہنر ہیں اور پروفیشنل ازم سے دور ہیں تو آپ دراصل کچھ بھی نہیں ہیں۔ ہمارا نظام تعلیم بوگس ہے جو بچوں کو کچھ نہیں سکھا پاتا۔ رٹے رٹائے طوطے بناتا ہے۔ دنیا سے پچاس سال پیچھے کا سائنسی نصاب پڑھا کر فارغ کروا دیتا ہے۔ پروفیشنل ازم کس چڑیا کا نام ہے وہ کسے معلوم۔ دنیا میں تمام مہذب و ترقی یافتہ ممالک کو وزٹ کرکے دیکھ لیجئیے آپ کو احساس ہوگا کہ اقوام کیسے ترقی کرتیں ہیں۔

گریجوئیشن کے دوران ہی والدین اپنے بچوں کو پارٹ ٹائم نوکری پر بھیج دیتے ہیں۔ یورپ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، روس سمیت جتنے مغربی کلچر والے ممالک دیکھے وہاں یہ دیکھا کہ سولہ سال کی عمر سے بچے بچیاں اپنی سٹڈی کے ساتھ گروسری سٹورز پر، مارٹ میں، مالز میں جاب کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ ان کا ٹریننگ سیشن ہوتا ہے۔ ان کو پروفیشنل ازم کا معنیٰ سمجھ آ جاتا ہے۔ پھر وہی بچے جب گریجوئیٹ ہو کر نکلتے ہیں تو ان کے اندر گفتگو کرنے، ڈیل کرنے، بات سمجھنے، بات رکھنے، کام کو سرانجام دینے کے مختلف طریقے، کاغذی پروپوزل ڈرافٹ کرنے، کلائنٹ کو مطمئن کرنے اور آفٹر سیل سروسز کے تمام گُن آ چکے ہوتے ہیں۔

یہاں کا باوا آدم نرالا ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا ہے کہ ڈگری پاس کرنے کی شرط یا تو تھیسس رکھ دی جاتی ہے یا پھر کچھ شعبہ جات میں چھ ماہ کی انٹرن شپ کو تھیسس کا متبادل مانا جاتا ہے۔ اس چھ ماہ میں کوئی کیا سیکھ لے گا؟ بس ڈگری لو اور آگے چلو۔ ہماری نوجوان نسل خود بھی اپنا قبلہ درست کرنے کی سوچ نہیں رکھتی۔ والدین کو یہ معلوم ہی نہیں کہ بچوں کا کرئیر کیسے ڈیزائن کرنا ہے۔ وہ تو پیسہ کمانے کی مشین بنے سمسٹر فیسز بھر کر اپنے تئیں حقوق اولاد پورے کر رہے ہیں مگر اولاد ہے کہ دن بہ دن ناکارہ ہوتی جا رہی ہے۔

دو طرح کے لوگ ملک چھوڑتے ہیں۔ ایک ہائیلی پروفیشنلز یا ہائیلی اسکلڈ لوگ جن کو بیرونی دنیا فوراً بلا لیتی ہے اور وہ اچھی جاب پر جاتے ہیں۔ یہ طبقہ بہت قلیل ہے اور یہی اس ملک کا اصل برین ہے جو ڈرین ہو رہا ہے۔ دوسرا ہمارا ڈگری یافتہ یا بنا ڈگری والا non skilled طبقہ جو وہاں کسی طرح پہنچ بھی جائے تو چار سال دھکے کھاتا رہتا ہے کیونکہ کام کرنے کے لوازمات اس کے پاس مکمل نہیں ہوتے۔ اس کائنات کا سب سے قیمتی اثاثہ وقت ہے جو ہر کسی کے پاس یکساں ہے۔ آپ کریں وقت ضائع۔ وقت آپ کو ضائع کر دیتا ہے۔ یہ وطن عزیز میں غربت، جہالت، بیروزگاری کا کوہ ہمالیہ یونہی نہیں کھڑا ہوا۔ کچھ باتیں تلخ محسوس ہوں تو معذرت چاہوں گا لیکن کبھی کبھی ضبط کا پیمانہ چھلک بھی جاتا ہے۔

Check Also

Zulm o Behisi Ki Tareekh Aur Cheete Ka Jigar

By Abdul Hannan Raja