Clinic Chalane Walon Se Appeal
کلینک چلانے والوں سے ایک اپیل

سفید کوٹ صرف ایک لباس نہیں، بلکہ ایک عہد، ایک امانت اور ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ جب کوئی مریض کسی کلینک کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے تو وہ اپنے ساتھ صرف بیماری نہیں لاتا، بلکہ اپنا اعتماد، اپنی امید اور بعض اوقات اپنی زندگی بھی آپ کے حوالے کر دیتا ہے۔ ایسے میں اس اعتماد کی حفاظت کرنا ہر معالج کی اولین ذمہ داری ہے۔
میری کلینک چلانے والے تمام حضرات سے ہاتھ جوڑ کر ایک گزارش ہے کہ اس عظیم پیشے کو صرف روزگار کا ذریعہ نہ بنائیں، بلکہ اسے انسانیت کی خدمت سمجھ کر نبھائیں۔ اگر علم مکمل نہیں تو پہلے اپنے علم کو مکمل کریں، کیونکہ ادھورا علم نہ صرف مریض بلکہ پورے معاشرے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ چند لمحوں کا فائدہ یا چند پیسوں کی کمائی کسی انسان کی جان سے زیادہ قیمتی نہیں ہو سکتی۔
ہر مریض کو ڈرپ کی ضرورت نہیں ہوتی، ہر بیماری میں انجیکشن لگانا ضروری نہیں ہوتا اور ہر تکلیف کا علاج مہنگی دواؤں میں نہیں ہوتا۔ بعض اوقات ایک اچھا مشورہ، درست تشخیص اور مخلصانہ کونسلنگ ہی بہترین علاج ثابت ہوتی ہے۔ اگر کسی مریض کو صرف دوائی کی ضرورت ہے تو اسے دوائی دیں، اگر اسے صرف رہنمائی کی ضرورت ہے تو ایک اچھے اور ایماندار ڈاکٹر کی طرح اس کی رہنمائی کریں اور اگر معاملہ آپ کے دائرۂ علم سے باہر ہے تو بلا جھجک اسے کسی مستند ڈاکٹر کے پاس بھیج دیں۔ یہی اصل دیانت داری اور اصل خدمت ہے۔
ایک اور بات جو دل کو بہت تکلیف دیتی ہے، وہ یہ ہے کہ چند غیر ذمہ دار افراد کی وجہ سے ایماندار اور قابل ڈاکٹروں کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔ جب مریضوں کو ہر معمولی بیماری پر ڈرپ اور انجیکشن لگانے کی عادت ڈال دی جاتی ہے تو پھر جب کوئی ایماندار ڈاکٹر حقیقت بتاتا ہے کہ "آپ کو ڈرپ یا انجیکشن کی ضرورت نہیں، صرف دوائی اور آرام کافی ہے" تو مریض اسی ڈاکٹر کو اپنا دشمن سمجھنے لگتا ہے۔ بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ "دوسرے ڈاکٹر تو فوراً ڈرپ لگا دیتے ہیں، آپ کیوں نہیں لگا رہے؟" حالانکہ وہ ڈاکٹر اپنے علم، تجربے اور دیانت داری کے مطابق درست فیصلہ کر رہا ہوتا ہے۔ آخر اس کا کیا قصور ہے؟ چند لوگوں کی غلطیوں کی سزا ایک ایماندار ڈاکٹر کیوں بھگتے؟
یاد رکھیے، علاج ایک مقدس امانت ہے۔ اگر اس امانت میں خیانت ہوگی تو اس کا نقصان صرف مریض کو نہیں بلکہ پورے طبی شعبے کے اعتماد کو پہنچے گا۔ لوگ اچھے اور برے معالج میں فرق کرنا چھوڑ دیں گے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ آج بھی بہت سے ڈاکٹر اور معالج پوری ایمانداری، خوفِ خدا اور انسانیت کے جذبے کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔
چند پیسے شاید آج آپ کی جیب میں آ جائیں، لیکن اگر آپ کی وجہ سے کسی مریض کی صحت یا جان کو نقصان پہنچ گیا تو اس کا حساب دنیا میں بھی دینا پڑ سکتا ہے اور آخرت میں بھی۔ دولت، شہرت اور کلینک یہیں رہ جائیں گے، لیکن ہمارے اعمال ہمارے ساتھ جائیں گے۔ اس لیے کوشش کیجیے کہ ایسی نیکیاں کمائیں جو دنیا میں بھی عزت دیں اور آخرت میں بھی کامیابی کا ذریعہ بنیں۔
میرا مقصد کسی کی تذلیل کرنا، کسی پر الزام لگانا یا کسی مخصوص کلینک یا فرد کو تنقید کا نشانہ بنانا نہیں ہے۔ یہ صرف ایک مخلصانہ، درد بھری اپیل ہے کہ اپنے پیشے کی عزت کا خیال رکھیے، مریض کے اعتماد کو اپنی ذمہ داری سمجھیے اور علاج کو تجارت نہیں بلکہ عبادت سمجھ کر انجام دیجیے۔
اے اللہ! تمام ڈاکٹروں، معالجین، نرسوں، پیرامیڈیکل اسٹاف اور کلینک چلانے والوں کو علمِ نافع، دیانت داری، رحم دلی اور خوفِ خدا عطا فرما۔ انہیں ہر مریض کے ساتھ انصاف کرنے، صرف ضرورت کے مطابق علاج کرنے اور اپنے پیشے کی عزت و وقار کو برقرار رکھنے کی توفیق عطا فرما۔ ہمیں ایسے معالج نصیب فرما جو انسانیت کی خدمت کو عبادت سمجھ کر انجام دیں اور ہمیں بھی سچائی، دیانت اور خیر بانٹنے والوں میں شامل فرما۔

