Monday, 13 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Iqbal Bijar
  4. Nashay Ke Narghe Mein Nasal e Nao

Nashay Ke Narghe Mein Nasal e Nao

نشے کے نرغے میں نسلِ نو

قدرتی حسن، امن اور باہمی رواداری گلگت بلتستان کی پہچان رہے ہیں، لیکن حالیہ برسوں میں ایک خاموش خطرہ اس معاشرے کی بنیادوں کو کمزور کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ گزشتہ دنوں ایک مقامی اخبار میں شائع ہونے والی سروے رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ خطے کے نوجوانوں اور خواتین کی ایک بڑی تعداد کسی نہ کسی شکل میں منشیات کے استعمال کا شکار ہے۔ اس سروے کے طریقۂ کار اور نتائج پر سوالات اپنی جگہ موجود ہیں، تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ برقرار ہے کہ تمباکو نوشی اور منشیات کا بڑھتا رجحان ایک سنگین سماجی مسئلہ بنتا جا رہا ہے، جسے نظر انداز کرنا دانشمندی نہیں ہوگی۔

آج گلگت کے بازاروں، پارکوں، چوک چوراہوں اور بعض تعلیمی اداروں کے اطراف کم عمر لڑکوں کو سرعام سگریٹ نوشی کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چرس اور آئس جیسے مہلک نشوں کے پھیلاؤ کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہتی ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران بعض سیاسی رہنماؤں نے بھی نوجوانوں، بالخصوص بعض لڑکیوں میں منشیات کے استعمال کے رجحان پر تشویش کا اظہار کیا تھا، تاہم ایسے دعووں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کو مستند اور سائنسی بنیادوں پر ایک جامع سروے کرانا چاہیے تاکہ اصل صورت حال واضح ہو اور اسی بنیاد پر مؤثر پالیسی مرتب کی جا سکے۔

منشیات کے خلاف چند چھاپے اور گرفتاریاں یقیناً ضروری ہیں، لیکن یہ مسئلے کا مکمل حل نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ یہ زہر گلگت بلتستان تک پہنچتا کیسے ہے، کون لوگ اس کی ترسیل اور فروخت میں ملوث ہیں اور ان کے نیٹ ورک کو کیوں ختم نہیں کیا جا رہا؟ جب تک سپلائی چین کو توڑنے، اسمگلنگ کے راستوں کی نگرانی بڑھانے اور منشیات فروشوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی نہیں ہوگی، اس وقت تک وقتی اقدامات دیرپا نتائج نہیں دے سکیں گے۔

یہ جنگ صرف پولیس کی نہیں۔ محکمہ پولیس، انسدادِ منشیات سے متعلق ادارے، ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت، محکمہ تعلیم، محکمہ سوشل ویلفیئر، کسٹمز، قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے، والدین، اساتذہ، علماء، میڈیا اور سول سوسائٹی سب کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ تعلیمی اداروں میں منشیات سے بچاؤ کی مستقل آگاہی مہم، اسکولوں اور کالجوں کے اطراف تمباکو اور دیگر نشہ آور اشیا کی فروخت پر سخت پابندی، طلبہ کے لیے مشاورتی خدمات، کھیلوں اور مثبت سرگرمیوں کے فروغ اور ہر ضلع میں مؤثر بحالی مراکز کے قیام کے بغیر اس مسئلے پر قابو پانا ممکن نہیں۔

حکومت گلگت بلتستان کو چاہیے کہ منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کرے، متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ قائم کرے، جدید انٹیلی جنس نظام کو بروئے کار لائے اور اس مکروہ کاروبار میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا دلائے۔ اس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے لیے تعلیم، ہنر، روزگار اور صحت مند تفریح کے مواقع بڑھائے جائیں تاکہ وہ منفی سرگرمیوں سے دور رہ سکیں۔

کسی بھی قوم کی اصل طاقت اس کے نوجوان ہوتے ہیں۔ اگر یہی نوجوان نشے کی دلدل میں اترنے لگیں تو ترقی، خوشحالی اور روشن مستقبل کے تمام خواب خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اس مسئلے کو محض ایک خبر یا سیاسی نعرہ نہ سمجھا جائے بلکہ ایک قومی اور سماجی ہنگامی مسئلہ تصور کرتے ہوئے ریاست، معاشرے اور ہر شہری کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہوگی۔ آج کا بروقت فیصلہ ہی آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ، صحت مند اور باوقار مستقبل دے سکتا ہے۔

Check Also

Russian Prize

By Ashfaq Inayat Kahlon