Novel Bhi Qaumen Banate Hain
ناول بھی قومیں بناتے ہیں

ہم میں سے اکثر لوگ کتابوں کو دو خانوں میں تقسیم کر دیتے ہیں۔ ایک وہ جنہیں ہم سنجیدہ، علمی اور مفید سمجھتے ہیں اور دوسری وہ جنہیں محض وقت گزاری کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ پہلی قسم میں تاریخ، فلسفہ، سیاست، معیشت، نفسیات اور سوانح عمری جیسی کتابیں آتی ہیں، جبکہ دوسری قسم میں ناول، افسانے اور دوسری تخلیقی تحریریں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں جب کوئی نوجوان ناول پڑھتا دکھائی دے تو فوراً یہ جملہ سننے کو ملتا ہے کہ وقت ضائع مت کرو، کوئی اچھی کتاب پڑھو۔ گویا ناول اچھی کتاب نہیں ہوتا۔ حالانکہ دنیا کی مہذب قوموں نے ادب کو کبھی تفریح کا دوسرا نام نہیں سمجھا۔ انہوں نے جان لیا کہ علم انسان کے ذہن کو روشن کرتا ہے، لیکن کہانی انسان کے ضمیر کو بیدار کرتی ہے۔
قانون انسان کے عمل کو قابو میں رکھ سکتا ہے، مگر ناول انسان کے دل کو بدل دیتا ہے۔ اسی لیے تاریخ گواہ ہے کہ بعض اوقات ایک ناول نے وہ کام کر دکھایا جو سینکڑوں تقاریر، ہزاروں مضامین اور بے شمار سرکاری رپورٹیں بھی نہ کر سکیں۔ ہم گزشتہ دنوں ان پانچ غیر افسانوی کتابوں کا ذکر کر چکے ہیں جنہوں نے امریکی معاشرے کی فکری تعمیر میں بنیادی کردار ادا کیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکی قوم کی اخلاقی، سماجی اور تہذیبی تشکیل میں پانچ ناولوں کا کردار بھی کسی طرح ان سے کم نہیں۔ اگر ان غیر افسانوی کتابوں نے عقل کو مخاطب کیا تو ان ناولوں نے دل، احساس اور ضمیر کو جگایا۔
یہی فکشن کی اصل طاقت ہے۔ غیر افسانوی کتاب آپ کو بتاتی ہے کہ ظلم کیا ہے، مگر ناول آپ کو مظلوم کے ساتھ رلا دیتا ہے۔ تاریخ آپ کو کسی سانحے کے اعداد و شمار دے دیتی ہے، لیکن ایک کہانی ان اعداد و شمار کو جیتے جاگتے انسانوں میں تبدیل کر دیتی ہے۔ فلسفہ انصاف کی تعریف کرتا ہے، مگر ناول ناانصافی کا درد محسوس کرا دیتا ہے۔ معاشیات غربت کی وجوہات بیان کرتی ہے، لیکن ایک عظیم کہانی بھوک کی اذیت آپ کے دل تک پہنچا دیتی ہے۔ اسی لیے بڑے ادیب ہمیشہ جانتے تھے کہ انسان صرف عقل سے نہیں بدلتا، احساس سے بھی بدلتا ہے۔ جب تک کوئی مسئلہ صرف ذہن میں رہتا ہے، وہ بحث کا موضوع ہوتا ہے، لیکن جب وہ دل میں اتر جاتا ہے تو وہ انسان کے کردار کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ادب اپنی سب سے بڑی ذمہ داری ادا کرتا ہے۔ وہ محض واقعات بیان نہیں کرتا بلکہ انسان کے اندر ایک نئی آنکھ پیدا کرتا ہے، ایسی آنکھ جو دوسروں کا دکھ دیکھ سکے، دوسروں کی محرومی محسوس کر سکے اور دوسروں کے لیے انصاف مانگ سکے۔
امریکی ادب کی تاریخ میں پانچ ایسے ناول ہیں جنہوں نے اس حقیقت کو ہمیشہ کے لیے ثابت کر دیا۔ "انکل ٹامز کیبن" میں "ہیریئٹ بیچر اسٹو" نے غلامی کے خلاف ایسی اخلاقی بغاوت پیدا کی کہ ایک پورا معاشرہ اپنے ضمیر سے سوال کرنے لگا۔ "دا جنگل" میں "اپٹن سنکلئیر" نے صنعت، مزدور اور عوامی صحت کی ایسی تصویر پیش کی کہ حکومت کو قوانین بدلنے پڑ گئے۔ "دا گریٹ گیٹسبی" میں "ایف۔ سکاٹ فٹزجیرالڈ" نے دولت کی چمک کے پیچھے چھپی ہوئی روحانی ویرانی کو بے نقاب کیا اور یہ بتایا کہ خوش حالی اگر کردار سے خالی ہو تو آخرکار انسان کو تنہائی ہی نصیب ہوتی ہے۔ "دا گریپس آف ریتھ" میں "جان اسٹین بیک" نے غربت، ہجرت اور معاشی ناانصافی کو اس انداز میں پیش کیا کہ پوری قوم کو اپنے کمزور شہریوں کی طرف دوبارہ دیکھنا پڑا اور "ٹو کل اے ماکنگ برڈ" میں "ہارپر لی" نے انصاف، مساوات اور اخلاقی جرات کو ایک ایسی کہانی میں ڈھال دیا جو آج بھی نئی نسلوں کو انسانیت کا سبق دیتی ہے۔ ان پانچوں ناولوں کے موضوعات الگ الگ ہیں، کردار مختلف ہیں، زمانے جدا ہیں، لیکن مقصد ایک ہی ہے، انسان کو بہتر انسان بنانا۔ یہی وہ مقصد ہے جو ہر عظیم ادب کا ہوتا ہے۔
ذرا غور کیجیے، اگر "ہیریئٹ بیچر اسٹو" غلامی کے خلاف ایک قانونی مقالہ لکھتیں، اگر "اپٹن سنکلئیر" صرف مزدوروں کے حالات پر ایک تحقیقی رپورٹ شائع کرتے، اگر "ایف۔ سکاٹ فٹزجیرالڈ" سرمایہ پرستی پر فلسفیانہ مضمون لکھتے، اگر "جان اسٹین بیک" معاشی بحران کے اعداد و شمار جمع کرتے اور اگر "ہارپر لی" انصاف کے اصولوں پر ایک درسی کتاب مرتب کرتیں تو شاید وہ سب کتابیں اپنے اپنے میدان میں قابل قدر ہوتیں، لیکن کیا وہ کروڑوں انسانوں کے دلوں تک پہنچ پاتیں؟ شاید نہیں۔ انہوں نے کہانی کا راستہ اختیار کیا، کیونکہ کہانی انسانی فطرت کی زبان ہے۔ بچہ بولنا سیکھنے سے پہلے کہانی سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔ بوڑھا حافظہ کھو دے تو بھی بعض کہانیاں اسے یاد رہتی ہیں۔ تہذیبیں اپنے قوانین سے زیادہ اپنی کہانیوں کے ذریعے زندہ رہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر قوم کے پاس اپنے عظیم ناول، عظیم رزمیے اور عظیم داستانیں موجود ہیں۔ وہ صرف ادبی سرمایہ نہیں ہوتیں بلکہ قومی حافظے کا حصہ بن جاتی ہیں۔ ایک عظیم ناول کسی ایک کردار کی زندگی بیان نہیں کرتا بلکہ پوری قوم کے ضمیر کی سوانح عمری لکھ دیتا ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں ادب کو اکثر دو انتہاؤں کے درمیان تقسیم کر دیا گیا ہے۔ یا تو اسے محض تفریح سمجھ لیا جاتا ہے یا پھر اسے عملی زندگی سے بے تعلق قرار دے دیا جاتا ہے۔ حالانکہ جو معاشرہ اپنے ادیبوں کو سننا چھوڑ دیتا ہے، وہ رفتہ رفتہ اپنے ضمیر کی آواز بھی کھو دیتا ہے۔ سیاست دان قانون بنا سکتے ہیں، جج فیصلے دے سکتے ہیں، استاد علم سکھا سکتے ہیں، لیکن انسان کے اندر رحم، انصاف، ہمدردی اور اخلاقی جرات پیدا کرنے میں ادب کا کوئی نعم البدل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی بڑی جامعات میں سائنس پڑھنے والے طلبہ کو بھی عظیم ناول پڑھائے جاتے ہیں، قانون کے طالب علم بھی ادب سے گزرتے ہیں، ڈاکٹر بھی کہانیاں پڑھتے ہیں اور مستقبل کے منتظمین بھی۔ انہیں معلوم ہے کہ پیشہ ورانہ مہارت ایک کامیاب فرد تو بنا سکتی ہے، لیکن ایک اچھا انسان بننے کے لیے ادب کی تربیت ضروری ہے۔ جس معاشرے کے انجینئر، ڈاکٹر، جج، فوجی افسر اور سیاست دان اچھا ادب نہیں پڑھتے، وہاں پیشہ ورانہ قابلیت تو پیدا ہو سکتی ہے، اخلاقی بصیرت نہیں۔
اسی احساس کے ساتھ ہم اس سلسلے کا آغاز کر رہے ہیں۔ آئندہ چند کالموں میں ہم ان پانچ ناولوں کا جائزہ لیں گے جنہوں نے امریکا کو صرف بہتر ادب نہیں دیا بلکہ بہتر شہری بھی دیے۔ مقصد یہ نہیں کہ ہم امریکی ادب کی تعریف کریں یا کسی دوسری تہذیب کو اپنے اوپر ترجیح دیں۔ مقصد صرف یہ سمجھنا ہے کہ ایک عظیم ناول قوموں کی تعمیر میں کس طرح حصہ لیتا ہے۔ اگر ایک کہانی غلامی کے خلاف ضمیر جگا سکتی ہے، اگر ایک ناول قانون بدلوا سکتا ہے، اگر ایک کردار انصاف کا استعارہ بن سکتا ہے، اگر ایک ادبی تخلیق دولت کے نشے میں ڈوبے معاشرے کو آئینہ دکھا سکتی ہے اور اگر ایک افسانوی خاندان کروڑوں انسانوں کو غربت کا درد محسوس کرا سکتا ہے تو پھر ہمیں ناول کو وقت کا ضیاع نہیں بلکہ وقت کی ضرورت سمجھنا چاہیے۔ شاید یہی وہ سبق ہے جسے ہم نے بہت دیر سے بھلا رکھا ہے۔ علم قوموں کو طاقت دیتا ہے، لیکن ادب انہیں انسانیت عطا کرتا ہے اور جس قوم کے پاس طاقت تو ہو مگر انسانیت نہ ہو، اس کی ترقی زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتی۔

