Tuesday, 07 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Riaz
  4. 28Wi Tarmeem Ki Bazgasht

28Wi Tarmeem Ki Bazgasht

اٹھائیسویں ترمیم کی بازگشت

پاکستان کی سیاست میں بسا اوقات اصل خبریں تقریروں کے الفاظ میں نہیں بلکہ ان کے درمیان چھپے اشاروں میں ہوتی ہیں۔ وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کا پنجاب بار کونسل لائرز اکیڈمی کی افتتاحی تقریب سے خطاب بھی بظاہر ایک معمول کی تقریب کا معمول کا خطاب تھا، مگر غور سے سنا جائے تو اس میں مستقبل کی ایک بڑی آئینی پیش رفت کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے اس تقریر میں آئندہ آنے والی اٹھائیسویں آئینی ترمیم کی بازگشت سنائی دی۔ وزیرِ قانون نے ججوں کی تقرری کے لیے سات رکنی کمیٹی کے قیام، امیدواروں کے انٹرویوز، ججوں کی سالانہ کارکردگی کے جائزے اور غیر تسلی بخش کارکردگی کی صورت میں ریفرنس بھیجنے کے امکانات کا ذکر کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کی طرح اگر ضرورت پیش آئی تو 28ویں آئینی ترمیم بھی مشاورت سے لائی جائے گی۔

بظاہر یہ چند انتظامی اور قانونی نکات تھے، لیکن درحقیقت یہ ریاستی ڈھانچے میں اختیارات کی نئی صف بندی کا اعلان محسوس ہوتے ہیں۔ پاکستان کی آئینی اور سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی بڑی آئینی تبدیلی کی تیاری ہوتی ہے تو اس کی ابتدائی سرگوشیاں اسی نوعیت کے بیانات سے شروع ہوتی ہیں۔ آج بھی منظر نامہ کچھ مختلف نہیں۔ اگرچہ سیاسی افق پر ابھی کچھ بادل موجود ہیں، لیکن یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ حالات سازگار ہوتے ہی ایک نئی آئینی بحث پارلیمنٹ کے دروازے پر دستک دے سکتی ہے۔

گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان نے ایک ایسے عدالتی دور کا مشاہدہ کیا جسے بعض حلقے "جوڈیشل ایکٹویزم" قرار دیتے ہیں۔ پرویز مشرف کے دور کے بعد عدلیہ غیر معمولی طاقت اور عوامی حمایت کے ساتھ ابھری۔ یہ ایک ایسا زمانہ تھا جب عدالتیں نہ صرف آئینی اور قانونی معاملات بلکہ انتظامی اور پالیسی نوعیت کے امور میں بھی متحرک نظر آتی تھیں۔ سرکاری تقرریوں سے لے کر انتظامی فیصلوں تک، تقریباً ہر معاملہ عدالت کے دروازے تک پہنچ جاتا تھا۔ لیکن اس پوری داستان کا دوسرا رخ بھی موجود ہے۔ اسی عرصے میں ملک کی عدالتوں میں لاکھوں مقدمات زیرِ التوا رہے۔ ماتحت عدلیہ سے لے کر اعلیٰ عدالتوں تک ججوں کی سینکڑوں آسامیاں خالی پڑی رہیں۔ عام آدمی کے لیے انصاف کا حصول ایک طویل، مہنگا اور صبر آزما سفر بن گیا۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں بعض اوقات جائیداد کے ایک مقدمے کا فیصلہ آنے تک فریقین کی جوانیاں ڈھل جاتی ہیں۔ قتل کے مقدمات برسوں تک لٹکے رہتے ہیں۔ دیوانی تنازعات میں مقدمہ دائر کرنے والا شخص اکثر فیصلہ سننے کے لیے خود موجود نہیں ہوتا بلکہ اس کی اگلی نسل عدالت میں کھڑی ہوتی ہے۔ اسی پس منظر میں 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کو دیکھنا چاہیے۔ ان ترامیم کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ انہوں نے ریاستی اداروں کے درمیان اختیارات کے توازن کو بحال کرنے کی کوشش کی ہے اور عدلیہ کو اس کے آئینی دائرہ کار تک محدود کیا ہے۔ مخالفین اس سے اختلاف کر سکتے ہیں، لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پارلیمنٹ اب عدلیہ کے احتساب اور اس کے انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات کے معاملے میں پہلے سے کہیں زیادہ پراعتماد دکھائی دیتی ہے۔

اعلی عدلیہ میں ججوں کی تقرری کا مسئلہ بھی عرصہ دراز سے بحث کا موضوع رہا ہے۔ پاکستان میں سول جج یا جوڈیشل مجسٹریٹ بننے کے لیے امیدوار کو سخت امتحانات، انٹرویوز اور میرٹ کے کڑے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس کے برعکس ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کے طریقہ کار پر مسلسل سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ قانونی حلقوں میں اکثر یہ سوال سننے کو ملتا ہے کہ اگر ماتحت عدلیہ کے لیے سخت جانچ پڑتال ضروری ہے تو اعلیٰ عدلیہ کے لیے شفاف اور قابلِ پیمائش معیار کیوں نہ ہوں؟

پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ایسے واقعات بھی ملتے ہیں جہاں فعال سیاست سے وابستہ شخصیات جنہوں نے عام انتخابات میں باقاعدہ سیاسی جماعت کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا، بعد ازاں عدالتی مناصب تک پہنچیں۔ بعض بڑے وکلا چیمبرز سے بیک وقت متعدد افراد کا اعلیٰ عدلیہ میں پہنچنا بھی تنقید کا موضوع بنتا رہا ہے۔ اب اگر مستقبل کی طرف دیکھا جائے تو امکان یہی ہے کہ مجوزہ اٹھائیسویں آئینی ترمیم کا مرکز عدلیہ، اس کا احتساب، تقرریوں کا نظام اور ادارہ جاتی اختیارات کا توازن ہوگا۔ تاہم اس کے ساتھ ایک اور موضوع بھی زیرِ گردش ہے وہ ہے اٹھارویں آئینی ترمیم۔

بعض حلقوں کی خواہش ہے کہ صوبوں کو منتقل کیے گئے بعض مالی اور انتظامی اختیارات پر نظرثانی کی جائے تاکہ وفاق کو زیادہ مالی گنجائش اور انتظامی اختیار حاصل ہو سکے۔ یہیں سے اصل سیاسی معرکہ شروع ہوگا۔ اٹھارویں آئینی ترمیم محض ایک قانونی دستاویز نہیں بلکہ وفاقی اکائیوں کے درمیان ایک سیاسی معاہدہ بھی ہے بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اٹھارویں ترمیم میں بڑی تبدیلی کی کوشش کالاباغ ڈیم کی طرح ایک ایسا قومی تنازع بن سکتی ہے جس پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا آسان نہیں ہوگا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام ادارے اپنے اپنے آئینی دائرے میں رہتے ہوئے ریاست کو مضبوط بنائیں۔ پارلیمنٹ کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی، انتظامیہ کی فعالیت اور صوبوں کی خودمختاری ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک مضبوط وفاق کے لازمی ستون ہیں۔ اگر آئندہ آنے والی کوئی بھی آئینی ترمیم ان ستونوں کو مزید مضبوط کرتی ہے، انصاف کی فراہمی کو بہتر بناتی ہے اور ریاستی اداروں کے درمیان توازن پیدا کرتی ہے تو اسے خوش آئند کہا جائے گا۔

Check Also

Kachi Chat Aur Wazir e Aala

By Shahid Mehmood