Tuesday, 30 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Saleem Zaman
  4. Khatarnak Raston Ka Wo Hoknak Safar

Khatarnak Raston Ka Wo Hoknak Safar

خطرناک راستوں کا وہ ہولناک سفر

حال ہی میں بی بی سی اردو پر شائع ہونے والی ایک دل دہلا دینے والی خبر نے روح تک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ یہ واقعہ کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک تاجر، علی مرتضیٰ جمیل کا ہے جو اپنی اہلیہ اور دو کمسن بیٹیوں کے ہمراہ چند خوشگوار دن گزارنے اور بلوچستان کے حسن سے لطف اندوز ہونے کوئٹہ پہنچے تھے۔ لیکن جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب، ضلع مستونگ کے علاقے دشت میں مبینہ طور پر راستہ بھٹک جانے کے بعد ان کا سامنا نامعلوم مسلح افراد سے ہوا، جنہوں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی۔

اس اندوہناک واقعے میں علی مرتضیٰ جمیل اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، ان کی اہلیہ زخمی ہوئیں، جبکہ گاڑی میں موجود ان کی دو معصوم بچیاں روتی بلبلاتی محفوظ تو رہیں مگر زندگی بھر کا صدمہ سمیٹ گئیں۔ اس سانحے کے بعد مقتول کے والد نے تڑپ کر پریس کانفرنس میں کہا کہ "اگر وہاں جانیں محفوظ نہیں تو لوگوں کو وہاں جانے سے روک دیا جائے"۔ اس تصویر اور خبر نے میرے دل کو بہت تکلیف دی، لیکن چونکہ میں ان علاقوں کے زمینی حقائق اور راستوں کی حساسیت سے واقف ہوں، اس لیے میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس واقعے کے پیچھے محرکات کچھ اور ہوں گے، اسے محض ایک عام حادثہ، جی پی ایس کی غلطی یا غلط فہمی نہیں کہا جا سکتا۔

زندگی میں بعض اوقات ایسے لمحات آتے ہیں جب انسان کا سامنا اچانک کسی ایسی صورتحال سے ہو جاتا ہے جہاں ایک غلط فیصلہ یا محض چند منٹوں کی تاخیر کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ سال 2012 یا 2013 کا ذکر ہے، جب میں اپنے اہل خانہ، اهلیہ اور بیٹیوں، کے ساتھ کراچی کا سفر مکمل کرکے براستہ سڑک واپس کوئٹہ آ رہا تھا۔ وہ دن بلوچستان میں سیکیورٹی کے لحاظ سے انتہائی کشیدہ اور ناپائیدار تھے، حکومت مخالف گروپس اور دیگر عناصر کی سرگرمیاں عروج پر تھیں اور قومی شاہراہوں پر مسافروں کو نشانہ بنانا معمول بن چکا تھا۔

ہمارے پاس پجیرو 3400cc گاڑی تھی، جس کی طاقت اور رفتار پر مجھے بھروسہ تھا، اس لیے میں گاڑی کو تیزی سے دوڑاتا ہوا منزل کی طرف بڑھ رہا تھا۔ سفر کٹتا گیا، لیکن جب ہم مستونگ کے علاقے کے قریب پہنچے تو شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے اور عصر کا وقت ہو چکا تھا۔ اچانک سامنے کا منظر دیکھ کر دل دھک سے رہ گیا، مظاہرین نے سڑک کو مکمل طور پر بلاک کر رکھا تھا اور وہاں شدید قسم کا احتجاج جاری تھا۔ اس ماحول میں وہاں رکنا فیملی کے ساتھ خطرے کو خود دعوت دینے کے مترادف تھا۔

اسی دوران کسی مقامی شخص نے مجھے ایک مشورہ دیا جس نے ہمارے سفر کا رخ بدل دیا۔ اس نے بتایا: "اگر آپ یہاں سے نکلنا چاہتے ہیں، تو پہاڑوں کے پیچھے سے گھوم کر ایک الگ اور غیر مانوس راستہ نکلتا ہے جو دشت کی طرف سے ہوتے ہوئے "سپیزنڈ" (Spezand) کے پاس پہنچا دے گا۔ وہاں کسی زمانے میں ایک بہت بڑی سیمنٹ فیکٹری ہوا کرتی تھی، یہ راستہ اسی کے پاس نکلتا ہے، لیکن یاد رہے کہ راستہ انتہائی خراب اور سنسان ہے"۔

میرے پاس بڑی اور طاقتور گاڑی تھی اور اس نازک صورتحال میں فیملی کی حفاظت میری اولین ترجیح تھی، اس لیے میں نے کسی مزید تاخیر کے بغیر گاڑی کو اس کچے اور پہاڑی راستے کی طرف موڑ دیا۔ شام ڈھل رہی تھی، اندھیرا پھیل رہا تھا اور کچے راستے پر پجیرو کی رفتار برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج تھا۔ راستہ اتنا پیچیدہ تھا کہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کدھر جانا ہے۔ سڑک کنارے کھڑے کسی بھی مقامی بندے سے جب میں نے راستہ پوچھا، تو اس کے چہرے پر خوف صاف نمایاں تھا، اس نے سہمے ہوئے انداز میں کہا: "بھائی! بس ایسے سیدھے چلے جاؤ اور جلدی نکلو یہاں سے، یہ علاقہ بالکل ٹھیک نہیں ہے"۔

اس سنسان اور کچے راستے پر بڑھتے ہوئے مجھے اپنی وہ پیشہ ورانہ تربیت یاد آ رہی تھی جو ایسے کڑے وقت میں میری سب سے بڑی رہنما بنی۔ دراصل، سال 2009-10 میں، میں نے پاکستان سے باہر بین الاقوامی سطح پر "سیکیورٹی ان دی فیلڈ" (Security in the Field) کی باقاعدہ ہائی پروفائل ٹریننگ حاصل کر رکھی تھی۔ اس تربیت میں ہمیں خصوصی طور پر سکھایا گیا تھا کہ جب بھی آپ کسی انتہائی حساس، جنگ زدہ یا مشکوک علاقے سے گزر رہے ہوں، تو آپ کو کن حفاظتی اصولوں پر سختی سے عمل کرنا چاہیے۔ اس ٹریننگ کی روشنی میں، میں نے فوری طور پر گاڑی کے اندر درج ذیل تزویراتی اقدامات اٹھائے:

* گاڑی کے اندر شور اور ہلا گلا مکمل بند کرنا: میں نے گاڑی کا ٹیپ اور ہر قسم کی موسیقی فوری بند کر دی، کیونکہ سیکیورٹی اصولوں کے مطابق گاڑی میں کوئی ایسا شور نہیں ہونا چاہیے جو باہر کے ماحول سے آپ کا رابطہ کاٹ دے۔ آواز بالکل بند رکھنا اس لیے ضروری تھا کہ اگر کوئی سیٹی بجائے یا رکنے کا اشارہ کرے، تو ہمیں فوراً پتہ چل سکے۔

* آواز کی آہٹ اور بیرونی ماحول پر نظر: میں نے کھڑکیاں ہلکی سی کھول دیں تاکہ ہم بیرونی آوازوں پر پوری طرح الرٹ رہیں۔ اگر کوئی ہمیں رکنے کی آواز دے اور ہم نہ سن پائیں، تو وہ عام طور پر اسے مزاحمت سمجھ کر پیچھے سے سیدھی فائرنگ کر دیتے ہیں۔

* منہ چھپائے مشکوک افراد سے نمٹنے کی حکمتِ عملی: اس فیلڈ ٹریننگ کا ایک اہم ترین سبق یہ تھا کہ اگر راستے میں ایسے لوگ نظر آئیں جنہوں نے چہروں پر کپڑے یا رومال باندھے ہوں، تو وہاں گاڑی کی رفتار کو مدہم کرکے صورتحال کا فوری جائزہ لینا چاہیے۔ اگر وہ مسلح ہوں اور ناکہ لگا کر کھڑے ہوں تو ان سے الجھنے یا گاڑی بھگانے کی بجائے مصلحت سے کام لینا بہتر ہوتا ہے، لیکن اگر وہ دور ہوں یا گاڑی روکنے کی پوزیشن میں نہ ہوں تو سیکنڈوں کے ہزارویں حصے میں فیصلہ کرکے اللہ کا نام لینا چاہیے اور گاڑی کو جتنی تیز رفتاری سے بھگایا جا سکے، وہاں سے نکال لینا چاہیے کیونکہ ایسے افراد کے سامنے رکنا اغوا یا جان لیوا حملے کو براہِ راست دعوت دینا ہے۔ میری خوش قسمتی تھی کہ پجیرو 3400cc کی پاور میرے ہاتھ میں تھی، جس نے مجھے وہ اسپیڈ اور آپشن فراہم کیا کہ میں کسی بھی مشکوک حرکت پر فوری ردِعمل دے سکوں۔

اس سب کے باوجود، گاڑی کے اندر کا ماحول انتہائی تناؤ کا شکار تھا۔ شام تیزی سے ڈھل رہی تھی، اندھیرا گہرا ہو رہا تھا اور اردگرد کے سنسان مناظر خوف کی چادر اوڑھ رہے تھے۔ معصوم بیٹیوں اور اہلیہ کے ساتھ اس ویرانے میں پھنس جانے کے احساس سے میرے دل و دماغ میں خوف کی ایک شدید لہر دوڑ رہی تھی۔ فیملی کی موجودگی نے اس ذمہ داری اور ڈر کو سو گنا بڑھا دیا تھا۔ مقامی لوگوں نے ہمیں پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ یہ جو سامنے کھڑے خاموش اور ہیبت ناک پہاڑ ہیں، ان کے پیچھے وہ لوگ چھپے بیٹھے ہیں جو حکومت مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ ان پہاڑوں کی اوٹ سے کسی بھی وقت کوئی آفت مڑ سکتی تھی۔ گاڑی کے اندر مسلسل ایک سنسنی خیز خاموشی تھی، بیٹیوں کے چہروں پر سہمے ہوئے تاثرات تھے اور میری بیگم انتہائی خوف اور بے چینی کے عالم میں مسلسل آیتِ کریمہ اور مختلف دعاؤں کا ورد کر رہی تھیں۔

زبانوں پر اللہ کا کلام تھا اور میری نظریں سامنے دھندلاتے کچے راستے پر جمی ہوئی تھیں۔ فیملی کے ساتھ اس موت کے راستے پر سفر کا ایک ایک پل صدیوں جیسا بھاری محسوس ہو رہا تھا۔ خیر، خدا خدا کرکے ہم اس کچے راستے کو عبور کرتے ہوئے دشت کے پاس "سپیزنڈ" کے علاقے میں پہنچے۔ وہاں پختہ سڑک پر آتے ہی میں نے گاڑی کی رفتار کو مزید بڑھایا اور بالآخر محفوظ طریقے سے کوئٹہ پہنچ گیا۔

کوئٹہ پہنچ کر جب میں نے اپنے قریبی لوگوں اور دوستوں کو اس متبادل راستے اور سفر کا احوال سنایا، تو ہر ایک نے حیرت اور خوف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "تم نے فیملی کے ساتھ اس راستے پر جا کر بہت بڑی بیوقوفی کی تھی، وہاں کچھ بھی ہو سکتا تھا"۔ سچ تو یہ ہے کہ اس روٹ پر میں پہلے بھی کئی بار سفر کر چکا تھا، لیکن اس مخصوص شام کے ہولناک تجربے نے میرے سوچنے اور سفر کرنے کا انداز ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔

اس واقعے کے بعد میں نے یہ پکا طے کر لیا کہ آئندہ جب بھی ایسے راستوں سے گزرا جائے تو انتہائی احتیاط برتی جائے اور یہی سبق میں آج بھی اپنے بچوں کو دیتا ہوں جب وہ گاڑی پر کہیں جا رہے ہوں۔ میں انہیں ہمیشہ سمجھاتا ہوں کہ بیٹا! جب بھی کسی ایسے علاقے سے گزرو جہاں سیکیورٹی سخت ہو، حالات حساس ہوں، یا چیک پوسٹیں ہوں، تو وہاں گاڑی کے اندر میوزک یا گانے بالکل بند کر دو۔ کھڑکیاں اور دروازے کھلے رکھو، اپنے کان اور حواس بالکل الرٹ رکھو تاکہ باہر سے آنے والی کوئی بھی آواز، سیٹی یا رکنے کا اشارہ آپ کو فوری سنائی دے سکے۔ اگر کوئی روکنے کا اشارہ کرے، تو وہاں فوری طور پر گاڑی روک لینی چاہیے، کیونکہ آواز نہ سننے کے باعث آگے نکل جانا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔

بلوچستان کی روایات کے حوالے سے ایک بات بالکل واضح ہے جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ وہاں سفر کرتے ہوئے اس بات سے بالکل بے فکر رہیں کہ فیملی، خواتین یا بچوں کے ساتھ ہوتے ہوئے آپ کو کوئی مقامی بلوچ، پٹھان یا کوئی فوجی جوان بلاوجہ تنگ کرے گا۔ یہ سراسر غلط فہمی ہے، کیونکہ وہاں کی ثقافت اور اقدار میں عورت اور خاندان کا احترام سب سے مقدم ہے۔ اصل مسئلہ راستوں کی حساسیت اور سیکیورٹی کی لہر کا ہوتا ہے۔

بلوچستان میں بسنے والا ہر شخص اور وہاں کے راستوں سے واقفیت رکھنے والا ایک ایک فرد یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ کوئٹہ سے کراچی تک کا یہ پورا راستہ کتنا حساس ہے اور یہ فیملی کے ساتھ ایسے ہی منہ اٹھا کر سفر کرنے کا نہیں ہے۔ اس راستے پر نکلتے ہوئے آپ کو وقت، حالات، دن کی روشنی اور اردگرد کے سیکیورٹی منظرنامے کو دیکھ کر چلنا پڑتا ہے۔ اس روٹ کے اندرونی کچے راستے، جیسے دشت اور مستونگ کا یہ مخصوص علاقہ، اس قدر خطرناک، ویران اور ہیبت ناک ہیں کہ وہاں کے مقامی لوگ بھی رات کے وقت یا غیر یقینی حالات میں وہاں سفر کرنے کی ہمت نہیں کرتے۔

جب مقامی لوگ اس راستے پر جانے سے کتراتے ہیں، تو یہ بات میری فہم سے بالکل باہر، بلکہ یوں کہیے کہ عقل و شعور سے کوسوں دور ہے کہ کوئی بھی موبائل جی پی ایس (GPS) کسی فیملی کو اس موت کے راستے پر کیسے ڈال سکتا ہے؟ یہ ایک انتہائی حساس اور پسماندہ علاقہ ہے جہاں موبائل نیٹ ورک اور جی پی ایس سگنلز کا نام و نشان تک نہیں ملتا، اس لیے یہاں ٹیکنالوجی کا دھوکہ دینا یا "مس گائیڈنس" (غلط فہمی) کا عذر بالکل ناقابلِ قبول ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی شخص نادانستہ طور پر یہاں آ نکلے۔ اس کچے ٹریک پر اگر کوئی گیا ہے تو یہ محض راستہ بھولنے کا معاملہ نہیں تھا، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس مقتول نوجوان کو یا تو کسی نے جان بوجھ کر غلط گائیڈ کیا تھا (موت کے کنویں میں دھکیلا تھا) یا پھر وہ خود کسی ایسے غیر قانونی کام میں ملوث تھا جس کی وجہ سے وہ نہیں چاہتا تھا کہ سیدھے راستے پر موجود چیک پوسٹوں پر کسی کو اس کا پتہ چل سکے۔

اس سانحے کے بعد مقتول کے والد صاحب کا پریس کانفرنس میں یہ کہنا کہ "اگر بلوچستان پاکستان سے باہر ہے تو ہمیں بتا دیں، میرا بچہ وہاں نہ جاتا"، جذباتی سطح پر تو سمجھ آتا ہے، لیکن ہمیں زمینی حقائق کا گہرائی سے جائزہ لینا ہوگا۔ اب یہ انکشافات بھی سامنے آ رہے ہیں کہ وہ لڑکا کوئٹہ یا چمن کی مارکیٹ سے کچھ غیر ممنوعہ لیکن غیر لائسنس یافتہ موبائل فونز یا دیگر ایسی کسٹم پیڈ چیزیں خرید کر لے جا رہا تھا اور اسے کسی نے یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ مین ہائی وے کے بجائے اس اندرونی کچے راستے سے جائے، کیونکہ یہاں نہ تو کسٹم کا کوئی ناکہ ملے گا اور نہ ہی پولیس اور دیگر اداروں کی کوئی چیکنگ ہوگی۔ میں اس علاقے کے راستوں کو 100 فیصد جانتا اور سمجھتا ہوں، بلوچستان یا کوئٹہ میں عام رہنے والے لوگ بھی اس انتہائی خفیہ اور ویران ٹریک سے واقف نہیں ہیں۔ لہٰذا، وہاں اپنی فیملی کو لے کر گھومنا سراسر عقل و شعور کے منافی ہے۔ مقتول بچے کی اللہ پاک مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر دے، لیکن اس واقعے کے پسِ پردہ حقائق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

میں باقی تمام پاکستانیوں کو بھی یہ بات کہوں گا کہ ضروری نہیں کہ ہر حادثے میں حکومت ہی قصوروار ہو اور نہ ہی یہ ضروری ہے کہ ہر بات پر صرف ان لوگوں کو قصوروار ٹھهرایا جائے جو علاقوں میں احتجاج یا راستے بند کرتے ہیں۔ بہت سارے معاملات ہمیں خود بھی عقل کے ناخن لے کر دیکھنے چاہئیں۔ پوری دنیا کے اندر جب بھی کوئی غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے، تو باقاعدہ سیکیورٹی الرٹس جاری کیے جاتے ہیں اور مسافروں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ گھروں میں ہی رہیں۔ آپ خود دیکھیں، جب بھی پاکستان میں کوئی ایسا حساس واقعہ ہوتا ہے، تو امریکہ اور دیگر بڑے ممالک فوراً اپنے شہریوں اور مسافروں کے لیے ٹریول الرٹس جاری کرتے ہیں کہ وہ مخصوص علاقوں میں جانے سے گریز کریں یا گھروں میں مقیم رہیں۔ ہمیں ان بین الاقوامی الرٹس اور اپنے ملک کی اندرونی صورتحال سے سبق سیکھنا چاہیے۔ آئے دن ہونے والے یہ ناخوشگوار واقعات ہمارے لیے خود ایک جیتا جاگتا الرٹ ہیں۔

چاہے ان پر حملہ آور ہونے والے ہمارے اپنے سیکیورٹی ادارے ہوں جنہیں اندھیرے میں کسی اسمگلر یا تخریب کار کی مشکوک حرکت کا شبہ ہوا ہو، یا پھر وہ ریاست دشمن عناصر اور بیرونی ایجنٹس ہوں، راستے کی حساسیت کا خیال رکھنا بنیادی طور پر خود مسافر کی ذمہ داری ہے۔ اگر آپ کو معلوم ہے کہ ایک پورا علاقہ "ڈسٹرب" ہے، وہاں تخریب کاری اور دہشت گردی کی لہریں چل رہی ہیں اور ہماری فوج وہاں انتہائی حساس نوعیت کے سیکیورٹی آپریشنز اور ملکی دفاع کا کام کر رہی ہے، تو ان حالات میں ایسے علاقوں میں جو کہ فوجی لحاظ سے انتہائی حساس ہیں، وہاں سیر سپاٹا کرنا، پکنکیں منانا اور گھومنا پھرنا میری نظر میں سخت لاپرواہی ہے۔ اگر ایسے کشیدہ حالات کے دوران کچھ عرصے کے لیے ان جگہوں پر تفریحی دورے روک دیے جائیں، تو اس میں ہماری اپنی ہی بھلائی، عزت اور جان و مال کا تحفظ ہے۔ حکومت یا سیکیورٹی فورسز پر پورا بلیم ڈال دینے سے حقیقت تبدیل نہیں ہو سکتی۔

میں اپنے اس ذاتی تجربے اور زمینی حقائق کی بنیاد پر تمام مسافروں اور دوستوں کو، جو بلوچستان یا خیبر پختونخوا (KPK) کے ان حساس روٹس پر سفر کرتے ہیں، کچھ بنیادی اور سنہری اصول اپنانے کی پرزور گزارش کرتا ہوں:

1۔ صرف مین شاہراہوں کا انتخاب: ہمیشہ صرف اور صرف مین ہائی ویز پر سفر کریں۔ شارٹ کٹ یا کچے متبادل راستوں پر جانے کا رسک بالکل نہ لیں۔

2۔ صرف دن کی روشنی میں سفر: اپنے سفر کی ٹائمنگ اس طرح سیٹ کریں کہ آپ حساس علاقوں سے دن کی روشنی میں گزر جائیں۔ رات کا سفر ان روٹس پر خطرے سے خالی نہیں۔

3۔ حالات خراب ہونے پر انتظار کی مصلحت: اگر آپ کو معلوم ہو کہ آگے شاہراہ جلاؤ گھیراؤ یا احتجاج کی وجہ سے بند ہے، تو متبادل اور غیر محفوظ راستوں پر نکلنے کی بجائے کسی محفوظ جگہ، ہوٹل یا شہر میں ایک آدھ دن کے لیے رک جائیں۔ راستے کھلنے کا انتظار کرنا کسی بڑے جانی نقصان سے ہزار درجہ بہتر ہے۔

اگر میں بھی اپنے اس سفر کے دوران، جب شام کے وقت مستونگ پہنچا تھا، اپنی بڑی گاڑی (پجیرو) کے زعم میں آنے اور تیزی سے نکل جانے کی تڑپ میں وہ رسک نہ لیتا، تو زیادہ بہتر ہوتا۔ اگر مجھے اندازہ ہوتا کہ آگے رات ہو جائے گی اور حالات اتنے غیر یقینی ہیں، تو میں بھی یقیناً کسی پیچھے کے علاقے میں واپس چلا جاتا یا وہیں رات گزار لیتا، لیکن مین شاہراہ کا ساتھ نہ چھوڑتا۔ لہٰذا، موج مستی، لاپرواہی اور غیر ضروری مہم جوئی سے پرہیز کریں۔ جب آپ کو معلوم ہے کہ حالات کس نہج پر کھڑے ہیں، تو ملکی صورتحال کا احساس کریں، حواس الرٹ رکھیں اور اپنے تحفظ کو ہر چیز پر مقدم رکھیں۔ ہوشیاری اور بروقت مصلحت ہی آپ کی اور آپ کے خاندان کی زندگی کی ضامن ہے۔

Check Also

Khatarnak Raston Ka Wo Hoknak Safar

By Saleem Zaman