Tuesday, 30 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Tahira Kazmi
  4. Khay Te Swah

Khay Te Swah

کھے تے سواہ

اسی کی دہائی میں ہونے والی شادیوں میں مہندی کے دو فنکشن ہونا لازمی تھے۔ ایک دن دولہا والے مہندی لے کر جاتے تو دوسرے دن دلہن والے، دولہا دلہن اپنی مہندی کے فنکشن میں مہمان خصوصی ہوتے۔

اسی کی دہائی کے آخیر اور نوے کے آغاز میں مشترکہ مہندی کا آغاز ہوا۔ دونوں پارٹیاں ایک جگہ پہنچ جاتیں مع اپنے اپنے امیدوار کے، دونوں کو دور دور بٹھایا جاتا، دونوں چوری چوری ایک دوسرے کو تکتے اور مسکراتے۔ اس وقت تک تیار شیار ہوکر ساتھ بیٹھنے یا ہاتھ پکڑ کر ناچنے کارواج نہیں آیا تھا۔ (آج کل کا بوسہ شوسہ دیکھ کر تو آہ ہی نکل جاتی ہے)

فائنل ائیر ایم بی بی ایس کے امتحان اکتوبر 1989 میں ختم ہوئے اور ساتھ ہی زندگی کا اگلا امتحان شروع ہوگیا۔

پہلی مشترکہ مہندی دیکھی دوست عائشہ بٹ کی جو آرمی / ایر فورس کے کسی میس کے لان میں کی گئی تھی۔ ٹینٹس، قالین، قمقمے، میوزک، سٹیج، سہیلیاں اور ہونے والے میاں بیوی، واہ کیا سماں تھا۔

ہم سب سہیلیاں میوزک کی تھاپ پہ لڈی ڈالتی تھیں اور دل یہ سوچتا تھا کہ بس مہندی کا فنکشن تو ایسا ہی ہونا چاہیے۔

جلد ہی وہ موقع بھی آگیا۔

دلہا کا تعلق آرمی ایوی ایشن سے تھا اور پشاور روڈ پہ بنے ایوی ایشن میس سے بہتر کیا ہی جگہ ہو سکتی تھی۔

ہمارے خاندان میں ہم ایونٹ پلینر مشہور تھے کہ کسی بھی فنکشن کی جزئیات طے کرنے میں پیش پیش ہوتے۔ اب اپنی مہندی کا معاملہ تھا سو اجنبی سسرال والوں سے باجی کی بات کروائی کہ مہندی کا فنکشن ایسا ہونا چاہیے اور میس میں ہونا چاہیے۔

ہماری باجی بھی سیدھی سادھی اور سسرال والے بھی اس تام جھام سے نابلد، سو دونوں باجیاں سمجھ ہی نہ پائیں کہ مہندی کا ایک فنکشن، اکھٹے اور میس میں، کیسے ہوگا بھئی۔

اب سین ملاحظہ کریں۔

فون کا چونگا باجی کے ہاتھ میں، فون کے دوسری طرف بڑی نند، باجی کا ایک کان فون کے ساتھ اور دوسرے کان میں ہم گھسے ہوئے۔

ہم سرگوشی کریں۔۔ باجی کو کچھ سمجھ آئے کچھ نہ آئے، وہ نند کو سمجھانے کی کوشش کریں، فون کے دوسری طرف انہیں کچھ سمجھ نہ آئے۔

ہم کہیں، باجی انہیں بتائیں کہ میس میں فنکشن ہوگا۔

باجی، ہم دونوں وہاں ہوں گے، یعنی دلہا اور دلہن۔

ہماری باجی کی آنکھیں پھیلتی جائیں اور فون کے دوسری طرف والی باجی بے ہوش ہوتی جائیں اور ہمارا دل چاہے کہ ان دونوں آؤٹ ڈیٹڈ باجیوں کا ٹنٹا مکائیں اور میس جا کر انتظامات کی خود نگرانی کریں جو ہمارے گھر سے زیادہ دور بھی نہیں تھا۔

لیکن جناب، باجیوں نے ایسا نہ ہونے دیا، ان کے نزدیک یہ کھلی بے شرمی تھی کہ دلہن میس میں کھڑی ہوکر انتظامات کی نگرانی کرے، دلہا تک ہماری رسائی نہیں تھی ورنہ کہتے، سنو کپتان صاحب، جاؤ اور یونٹ ورکنگ لگا کر مہندی کا منڈپ لگواؤ۔

سب کو ہماری باتیں عجیب لگتی تھیں، اب بھی لگتی ہیں، شاید یہ وقت سے پہلے پیدا ہونے کی سزا ہے، بقول منیر نیازی بندہ کلا رہ جاندا اے۔

خیر جناب انتیس جون انیس سو اکانوے کی شام، ہم نے پیلا انگرکھا پہن لیا، ساتھ میں ابرق لگا پیلا دوپٹہ، ہاتھ میں ہری ہری چوڑیاں۔ سہیلیوں کا لشکر ساتھ لیا اور میس کی طرف روانہ ہوئے، سب تیار شیار، ڈانس اور لڈی کی پریکٹس پوری۔

میس میں کیا ہوا، یہ لکھتے ہوئے دل ٹوٹے ٹوٹے اور ہم مزید لکھنے سے قاصر۔۔

اور ہاں واپس آتے ہوئے یہ پتا چل گیا کہ ہم ہر کسی کی شادی کو فنکشن آف ائیر بنا سکتے ہیں مگر جو بھی فنکشن ہماری نگرانی کے بغیر ہوگا بس کھے تے سواہ ہی ہوگا۔

گانا تو بہت روایتی تھا مگر یہی حسب حال تھا، جا اپنی حسرتوں پہ آنسو بہا کے سو جا۔

Check Also

Glass Bridge Se

By Javed Chaudhry