"مابعد صحافت" کی مذاکرات "ناکام" ہونے کی کہانی

روس چھوڑ کر کینیڈا میں پناہ گزین ہوا ایک صحافی ہے۔ نام ہے اس کا آندرے میر۔ برسوں کی تحقیق کے ذریعے اس نے انٹرنیٹ کے مختلف پلیٹ فارموں کا ذہن سازی کے عمل پر اثرانداز ہونے کا جائزہ لیا۔ بالآخر اس نتیجے پر پہنچا کہ دورِ حاضر کو "مابعد صحافت" کا عہد پکارا جائے۔ اس کے خیالات اتوار کی شام مجھے بارہا یاد آتے رہے۔
ایران اور امریکہ کے مابین دیرپا صلح کے حصول کے لئے پاکستان کی کاوشوں سے ایک مفاہمتی یادداشت تیار ہوئی۔ اس پر دونوں ممالک کے صدور کے دستخط ہوگئے تو قطر کے ساتھ مل کر پاکستان نے امریکہ اور ایران کو اعلیٰ سطحی وفود سوئٹزرلینڈ بھیجنے کو رضامند کیا۔ دونوں فریق اس کے لئے تیار ہوگئے تو اسرائیل نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ سے وابستہ چند قصبوں کو وحشیانہ بمباری کا نشانہ بنایا۔ ایران نے اس کی جارحیت سے مشتعل ہوکر آبنائے ہرمز کی بندش کا اعلان کردیا۔ یہ تاثر بھی دیا کہ شاید اس کا وفد امریکہ سے مذاکرات کے لئے سوئٹزرلینڈ نہیں جائے گا۔
ایران کو ٹھنڈا کرنے پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی ہنگامی طورپر براستہ مشہد تہران روانہ ہوگئے۔ بالآخر ایران کی قومی اسمبلی کے سپیکر کی قیادت میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ہمراہ ایک وفد امریکہ سے آئے وفد کے ساتھ مذاکرات کے لئے روانہ ہوگیا۔ سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن سٹاک میں ہوئے مذاکرات کے پہلے دور میں طویل المدتی مذاکرات کے دوران سب کے لئے قابل قبول فریم ورک تیار کرنے میں معاونت کیلئے پاکستان کے وزیر اعظم اور فیلڈمارشل بھی اس شہر پہنچ گئے۔
امریکہ اور ایران کے علاوہ پاکستان اور قطر کی بطور ثالث سوئٹزرلینڈ میں مصروفیات سے صحافیوں کو لمحہ بہ لمحہ آگاہ رکھا نہیں جاسکتا تھا۔ برگن سٹاک نامی قصبے کا انتخاب ہی مذاکرات میں مصروف وفود کو صحافیوں سے "محفوظ" رکھنے کی خاطر ہوا تھا۔ "سب اچھا" کا تاثر دینے کیلئے مگر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کو کیمروں کے روبرو چند کلمات ادا کرنا پڑے۔ پاکستان کے وزیر اعظم بھی موصوف کے ساتھ کھڑے خیر کی امید دلاتے رہے۔ مذاکرات کے روایتی چلن کو ذہن میں رکھتے ہوئے لوگوں کو امید تھی کہ صحافیوں کے روبرو چند کلمات کہنے ایرانی وفد کے سربراہ بھی پاکستان اور امریکہ کے وزیر اعظم کے ہمراہ کھڑے ہوں گے۔ ایسا مگر ہوا نہیں اور آندرے میر کے بیان کردہ "مابعد صحافت" رویے کے عین مطابق مذاکرت "ناکام" ہونے کی کہانیاں گردش کرنے لگیں۔
(روایتی) صحافت کی موت کا کلیدی سبب آندرے میر نے انٹرنیٹ کی بدولت نمایاں ہوئے اس رویے کو بتایا تھا جو میڈیا کو پیچیدہ اور گنجلک معاملات سیاق وسباق کے بغیر پیش کرنے کا عادی بنارہا ہے۔ سوئٹزرلینڈمیں مذاکراتی عمل کے آغاز سے عین ایک روزقبل اسرائیل کی جنوبی لبنان میں اشتعال انگیز کارروائیاں اس رویے کے سبب نظرانداز کردی گئیں۔ صحافی دنیا کو یہ بتانے میں ناکام رہے کہ رواں برس کے آغاز میں ایران پر جنگ مسلط کرنے میں اسرائیل امریکہ کا شراکت دار تھا۔ امریکی عوام کی کثیر تعداد بلکہ ایک حالیہ سروے کے مطابق سنجیدگی سے یہ سمجھتی ہے کہ اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہونے ٹرمپ کو غلط اور بے بنیاد معلومات پر مبنی "سبز باغ" دکھائے۔ یہ تاثر دیا کہ اگر ایران کے روحانی رہ نما کو فضائی حملے میں شہید کردیا گیا تو وہاں کے عوام "رجیم چینج" یقینی بنانے سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ ٹرمپ نے اس کے دکھائے خوابوں سے متاثر ہوکر ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تو اسے بتائے اہدا ف میں سے ایک بھی حاصل نہ ہوا۔ غیر ملکی مداخلت کے خلاف ایران کے مختلف دھڑے بلکہ یکسو ہوگئے۔ ان کی یگانگت نے مزاحمتی عزم کو تقویت پہنچائی اور صدیوں سے دنیا بھر کے بحری جہازوں کے لئے کھلی آبنائے ہرمز پر ایران نے کامل کنٹرول حاصل کرلیا۔
آبناے ہرمز پر ایران کے کامل کنٹرول نے تیل کی قیمتوں کو ناقابل برداشت بنادیا۔ گھریلو اور حقیقی استعمال کیلئے گیس نایاب ہونا شروع ہوگئی۔ خدشہ تھا کہ آبنائے ہرمز بند رہتی تو دنیا بھر میں کھاد کی شدید قلت خوفناک قحط سالی کی صورت اختیار کرسکتی ہے۔ موبائل فون کے ذریعے لوگوں کو "باخبر" رکھنے والے صحافی تیل، گیس اور کھاد کی ممکنہ نایابی کو تفصیلی انداز میں بیان کرنے سے مگر غافل رہے۔ اس حقیقت کوبھی نظرانداز کردیا گیا کہ ایران اسرائیل کے ساتھ نہیں بلکہ صرف امریکہ کے ساتھ رابطے میں ہے۔ امریکہ اور ایران کو صلح کی جانب راغب کرنے کیلئے کلیدی کردار پاکستان ادا کررہا ہے جس کا پاسپورٹ واضح الفاظ میں اسرائیل کاسفر ممنوع قرار دیتا ہے۔ مذاکرات کی میز سے دور رکھے اسرائیل کو اپنی اہمیت اجاگر کرنے کے لئے جنوبی لبنان میں اشتعال انگیز کارروائیاں درکار تھیں۔
ایران اس کی اشتعال انگیزی مگر نظرانداز نہیں کرسکتا تھا۔ پانچ سو سال قبل 1501ء کے برس ایران میں آذربائی جان کے قزلباش دلاوروں کی مدد سے صفوی سلطنت قائم ہوئی تھی۔ شیعہ مسلک صفویوں نے ریاستی مسلک کی صورت متعارف کروایا اور اس کے فروغ کے لئے لبنان کے جنوبی علاقوں اموی اور عباسی حکومتوں کے غضب سے محفوظ رہنے کو مقیم ہوئے شیعہ علماء کی کثیر تعداد کو ایران بلاکر وہاں کے مختلف شہروں میں آباد کیا گیا۔ ان ہی کی بدولت دینی مدرسوں کا وسیع تر نظام قائم ہوا جو آج بھی بھرپور توانائی کے ساتھ موجود ہے۔ ایران کے ساتھ جنوبی لبنان کے رشتے لہٰذا چند دہائیاں قبل نمودار ہوئی حزب اللہ کی وجہ سے استوار نہیں ہوئے۔ یہ رشتے 500سال سے زیادہ پرانے ہیں۔
اسرائیل کے جنوبی لبنان پر قبضے اور وہاں اشتعال انگیز کارروائیوں کے ہوتے ہوئے ایران امریکہ کے ساتھ صلح کے لئے مذاکرات جاری رکھ ہی نہیں سکتا تھا۔ اسی باعث جنگ بندی پر رضا مند ہونے کے پہلے روز سے ایران بارہا دہراتا رہا کہ اسے فقط ایران پر حملوں سے ہی نہیں بلکہ جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں سے نجات بھی درکار ہے۔ جنوبی لبنان میں اسرائیلی جارحیت کے خاتمے پر اصرار کرتے ہوئے ایران مگر سیاق وسباق نظرانداز کرتے میڈیا کی بدولت فقط "شدت پسند" حزب اللہ کے مسلح گروہ کا حامی تصور کیا جاتا رہا۔ اسی سوچ کی بنیاد پر ٹرمپ نے اتوار کے روز مذاکراتی عمل کے دوران سوشل میڈیا پر غیر سفارتی زبان استعمال کرتے ہوئے ایک پیغام لکھا۔ اس کے ذریعے حزب اللہ کو ایران کی "پراکسی" بلکہ "کرائے کے غنڈے" قرار دیا اور ایران کو اس کی سرپرستی سے دست برداری کا حکم دیتا سنائی دیا۔
وہ پیغام پڑھ لینے کے بعد ایرانی وفد کے لئے ناممکن تھا کہ وہ "سب اچھا" کا تاثر دینے امریکہ سے آئے وفد کے ساتھ دوستانہ مصافحوں میں مصروف دکھائی دیتے۔ ٹرمپ کے لکھے پیغام سے خفگی کے اظہار کیلئے وہ مذاکرات نامکمل چھوڑ کر اپنے ہوٹل روانہ ہوگئے۔ ان کے احتجاجی رویے کو مذاکرات "ناکام" ہوجانے کی کہانی بنانے کے لئے صحافی ہیجان آمیز الفاظ استعمال کرنا شروع ہوگئے۔ تاثر یہ پھیلا کہ شاید ایرانی وفد تہران لوٹ کر آبنائے ہرمز کی کامل بندش کو ڈٹ جائے گا۔
امریکہ اور ایران کے مابین 47برس سے پھیلی اور سنگین تر ہوئی مخاصمت کو دوممالک کے مابین معمول کے تعلقات میں بدلنے کے لئے طویل مذاکراتی عمل درکار ہے۔ اس عمل کو ناکام بنانے کے لئے مذاکرات سے دور رکھا اسرائیل وقتاََ فوقتاََ اشتعال انگیز کارروائیوں میں مصروف رہے گا۔ امریکہ اور ایران کے فیصلہ کن ادارے اور رہ نما مگر جان چکے ہیں کہ ان دونوں کے مابین جنگ دنیا بھر میں شدید اقتصادی بحران اور قحط سالی کے سوا کچھ حاصل نہیں کر پائے گی۔ اسی باعث اتوار کی شام سے رات گئے تک مذاکرات "ناکام" ہوجانے کی خبروں کے باوجود پاکستان اور قطر کی جانب سے ایک مشترکہ اعلامیہ پیر کی صبح جاری ہوا ہے۔ واضح الفاظ میں وہ عندیہ دے رہا ہے کہ مذاکراتی عمل جاری رہے گا اور اس کا تسلسل یقینی بنانے کے لئے اسرائیل کولبنان میں اشتعال انگیزکارروائیوں سے روکنا ضروری ہے۔
بشکریہ: نوائے وقت
