امن معاہدہ

مشرقِ وسطیٰ کے بحران کو ختم کرنے کے لیے سوئٹزر لینڈ کا خوبصورت ریزارٹ برگن سٹاک اس وقت انتہائی اہم مذاکرات کا مرکز بنا ہوا ہے۔ برگن سٹاک جیسے سوئس ریزارٹس حساس معاملات پر بات چیت اور تکنیکی مذاکرات کے لیے انتہائی پرسکون اور محفوظ مقام مانے جاتے ہیں۔ لبنان اور دیگر خطوں میں کشیدگی کے بعد جنگ بندی کی بحالی نے فریقین کو اس قابل بنایا ہے کہ وہ تنازعات کے مستقل خاتمے کے لیے براہ راست بات چیت کر سکیں۔ یہ سہولت کاری دونوں ممالک کو میڈیا کی چکاچوند سے دور سنجیدہ اور مرحلہ وار پیش رفت کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔
پاکستان کی سفارتی اور ثالثی کاوشوں کا سب سے بڑا نتیجہ امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی امن معاہدے کی صورت میں برآمد ہوا ہے۔ جون 2026ء میں طے پانے والے اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کا خاتمہ اور جنگ بندی ممکن ہو سکی ہے۔ پاکستان کے اس کلیدی کردار کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوئیترس اور چین سمیت کئی عالمی طاقتوں نے بے حد سراہا ہے۔ اس امن مشن میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیرنے فرنٹ لائن ثالث کا کردار ادا کیا جس سے عالمی سفارت کاری میں پاکستان کا وزن بڑھا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ایک عبوری مفاہمت کی یادداشت (MoU) پر دستخط کے بعد، دونوں ممالک نے حتمی امن معاہدے کے لیے 60 دن کی ڈیڈ لائن مقرر کی ہے۔ تمام تر سفارتی اتار چڑھاؤ اور تاخیر کے بعدامریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وفد، جس کی قیادت پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کر رہے ہیں سوئٹزر لینڈ پہنچے ہیں۔ اس اہم عمل میں پاکستان اور قطر بطور ثالث کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ دہائیوں کی دشمنی اور شدید سفارتی تناؤ کے بعد، حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کے درمیان برف پگھلی ہے اور اس وقت سوئٹزر لینڈ میں حتمی معاہدے کے لیے فیصلہ کن بات چیت جاری ہے۔
پاکستان اور قطرکیسفارتی اور عسکری چینلز نے واشنگٹن اور تہران کو ایک میز پر لانے اور ان کے تحفظات دور کرنے میں پسِ پردہ انتھک کوششیں کی ہیں۔ ایران کا سب سے بڑا مطالبہ اس پر عائد تمام سخت معاشی اور بینکنگ پابندیوں کا فوری اور مرحلہ وار خاتمہ ہے تاکہ وہ اپنی تیل کی تجارت اور معیشت کو بحال کر سکے۔ علاقائی سکیورٹی اور جنگ بندی: آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر محاذوں (جیسے لبنان میں اسرائیل-حزب اللہ کشیدگی) پر دیرپا جنگ بندی کو برقرار رکھنا اس معاہدے کی کامیابی کے لیے سب سے بڑا امتحان بنا ہوا ہے۔ امریکی تجزیہ کار تسلیم کرتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کے لیے اس معاہدے کی سب سے بڑی کامیابی آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھلوانا ہے، جہاں سے دنیا کی 20% تیل اور گیس کی سپلائی گزرتی ہے۔
جنگ کی وجہ سے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھنے اور امریکہ میں افراطِ زر کے خطرے نے واشنگٹن کو اس لچک پر مجبور کیا۔ تاہم، آئی ایس کی رپورٹ کے مطابق، ایران کا دوبارہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دینا ظاہر کرتا ہے کہ وہ اس تزویراتی راستے کو امریکہ پر دباؤ بڑھانے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ امریکی مبصر ین کے نزدیک یہ امن مذاکرات کسی گہری سٹر یٹجک تبدیلی کا نتیجہ نہیں، بلکہ دونوں اطراف کی عارضی مجبور یاں ہیں۔ امریکہ عالمی معاشی نقصان اور مزید جانی نقصان سے بچنا چاہتا ہے اور ایران اپنی گرتی ہوئی معیشت کو سنبھالنے کا خواہشمند ہے۔
بشکریہ: نوائے وقت
