Tuesday, 16 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Nusrat Javed
  3. Peoples Party Ki Dikhai Pani Ke Mumkina Qaziye Ki Jhalak

Peoples Party Ki Dikhai Pani Ke Mumkina Qaziye Ki Jhalak

پیپلز پارٹی کی دِکھائی پانی کے ممکنہ قضیّئے کی جھلک

منیر نیازی کے بے شمار اشعار خوف کے حصار میں گھرے شہروں کا ذکر کرتے ہیں اور پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد گزشتہ کئی مہینوں سے ایسا ہی شہر نظر آرہا ہے۔ اس کی مرکزی شاہراہوں کے کئی مقامات پر پولیس اور پیرا ملٹری پولیس تعینات ہے۔ گزرے جمعہ کے روز مجھے ان کی موجودگی کا پارلیمان کی عمارت جاتے ہوئے شدت سے احساس ہوا۔ بے شمار رکاوٹوں کے باوجود بالآخر پارلیمان پہنچ گیا تو قومی اسمبلی کی پریس گیلری کی تقریباََ ہر نشست سنبھالے صحافی اجلاس شروع ہونے کا انتظار کررہے تھے۔

وزیر خزانہ نے بجٹ 3 بجے سہ پہر پیش کرنا تھا۔ اسے اسمبلی میں لانے سے قبل مگر وفاقی کابینہ کی منظوری درکار تھی اور پارلیمان ہی کے ایک ہال میں وفاقی کابینہ کا جاری اجلاس طویل تر ہوتا چلا گیا۔ پارلیمان ہائوس کے ایک اور ہال میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اپنے اراکین اسمبلی کے ساتھ مشاورت میں مصروف تھے۔ مشاورت سے قبل انہوں نے ایک طویل خطاب کے ذریعے تھوڑے غصے اور نہایت دُکھ سے یہ شکوہ کیا کہ حکمران جماعت مبینہ طورپر گلگت -بلتستان کے حال ہی میں ہوئے انتخابات کے نتائج بدلنے کی سازش رچارہی ہے۔ پیپلز پارٹی اب تک آئے نتائج کے مطابق واحد اکثریتی جماعت کی صورت ابھری ہے۔ وہ مسلم لیگ (نون) کے اشتراک سے حکومت بنانے کو آمادہ نہیں۔ آزاد اراکین کو ساتھ ملانا چاہ رہی ہے۔ غالباََ اس کی کاوش کو ناکام بنانے کے لئے فارم 45اور 47والا نسخہ استعمال کرنے کی کوشش ہوگی۔

پیپلز پارٹی کے رہ نما کی تقریر باقاعدہ ریکارڈ بھی ہوئی۔ اسے سوشل میڈیا پر اہتمام سے پوسٹ بھی کردیاگیا۔ مذکورہ تقریر کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے سہیل وڑائچ کے لکھے ایک تازہ ترین کالم کا حوالہ بھی دیا جس نے جولائی کے آغاز سے موجودہ حکومتی بندوبست کا زوال شروع ہونے کے خدشے کا اظہار کیا تھا۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین ان کے خدشے سے اتفاق کرتے سنائی دئے اور اس تناظر میں سہیل وڑائچ ہی کی لکھی ایک کتاب کا حوالہ بھی دیا جسے عمران حکومت کے دوران "یہ کمپنی نہیں چلے گی" کے عنوان سے مرتب کیا گیا تھا۔

عمر کے جس حصے میں پہنچ گیا ہوں وہاں پریس گیلری سے نکل کر پارلیمانی راہداریوں میں خبروں کا کھوج لگانے کے قابل نہیں رہا۔ میرے متحرک ساتھی مگر بھاگ دوڑ سے جمع کی خبریں مجھے بتاتے رہے۔ ان کی اکثریت نے "خبر" دی کہ بلاول بھٹو زرداری شاید وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر سننے ایوان میں تشریف نہیں لائیں گے۔ ان کی جماعت کے چند اراکین البتہ علامتی طورپر اپنا چہرہ دکھانے تھوڑی دیر کو ایوان میں آئیں گے۔ بلاول بھٹو کی جانب سے وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر کے ممکنہ "بائیکاٹ" کی خبر ٹکروں کی صورت ٹی وی سکرین پر چل گئی تو پریس گیلری میں یہ خبر آئی کہ چیئرمین پیپلز پارٹی کو ایوان میں بیٹھنے کو رضا مند کرنے کے لئے ڈپٹی وزیر اعظم اسحاق ڈار صاحب وزیر قانون اعظم نذیرتارڑ کے ہمراہ ان کے چیمبر پہنچ گئے ہیں۔

افواہ اس کے بعد یہ اڑی کہ بلاول زرداری رضا مند نہیں ہورہے۔ وزیر اعظم نے لہٰذا محسن نقوی سے درخواست کی ہے کہ وہ چیئرمین پیپلز پارٹی کے غصے کو رفع کریں۔ پیپلز پارٹی یا وزیر داخلہ نے یہ کالم لکھنے تک مذکورہ "خبر" کی تصدیق یا تردید کرنے کی زحمت گوارہ نہیں کی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری مگر ایوان میں تشریف لے آئے۔ وزیر اعظم وہاں داخل ہوتے ہی ان کی نشست کی جانب بڑھے تو بلاول بھٹو زرداری نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ نشستوں سے اٹھ کر ان سے مسکراتے ہوئے مصافحہ کیا۔ متحرک ساتھیوں کا دعویٰ ہے کہ شہباز صاحب نے واضح لفظوں میں پیپلز پارٹی کے قائد کو پیغام بھجوایا تھا کہ واحد اکثریتی جماعت کی حیثیت منوالینے کی بدولت گلگت- بلتستان میں حکومت سازی پر ان کا حق اولین ہے۔ اس کی راہ میں روڑے نہیں اٹکائے جائیں گے۔

بلاول بھٹو زرداری کے ایوان میں داخلے سے قبل لیکن ایک موقع پر پیپلز پارٹی کی سینئر رہ نما اور صحافیوں سے مسلسل رابطے میں رہتی محترمہ شازیہ مری صاحبہ پیپلز پارٹی کی چند اراکین اسمبلی کے ہمراہ ایوان میں داخل ہوئیں۔ ان کے ہاتھوں میں موجود پلے کارڈ سندھ میں پانی کی قلت کا گلہ کررہے تھے۔ انہیں وہ سپیکرکے ڈائس کے قریب کھڑے ہوکر فضا میں لہراتی رہیں۔ پریس گیلری کی جانب دیکھتے ہوئے سندھی زبان میں ایک نعرہ بھی بلند آواز میں دہرایا گیا جو "جینے اور پینے کے لئے پانی" کا طلب گار تھا۔ پنجاب کا نام لئے بغیر تاثر یہ دیا گیا کہ سندھ کو اس کے ساتھ 1991ء میں ہوئے معاہدے کے مطابق پانی نہیں دیا جارہا۔ جو الزام لگا وہ ہر حوالے سے سنگین ہے۔ پرانی وضع کا صحافی ہوتے ہوئے مگر میں ہفتے کی صبح اخبارات دیکھتے ہوئے یہ سوچ کر حیران ہوتا رہا کہ اتنے سنگین الزام کو شہ سرخیوں میں جگہ نہیں ملی۔ اسے صحافتی زبان میں "انڈرپلے" کیا گیا۔

ایک سنگین الزام کا "سب پہ بالادست"ایوان میں تذکرے کا میڈیا میں انڈر پلے ہونا درحقیقت موجودہ پارلیمان کی اصل اوقات بیان کرتا ہے۔ اسے وقتی طورپر نظر انداز کرنے کے باوجود سرکار مائی باپ کو مستقبل میں اس کے مضمرات کا سامنا کرنے کے لئے ابھی سے تیار ہونا چاہیے۔ دریائوں کا باپ کہلاتے سندھ کے پانی کا مرکزی ماخذ کشمیرکا تھاجی واس گلیشیر ہے۔ یہ 95فی صد تک پگھل چکا ہے۔ سندھ طاس کے پانیوں کے مرکزی ماخذ کا خاتمہ ہمارے ہاں کیا بربادی لائے گا اس کے بارے میں ہم قطعاََ غافل ہیں۔ انسانوں کی ہوس منافع کی وجہ سے لگائی صنعتوں کی پھیلائی ثقافت کے نتیجے میں گلیشیرئوں کا تیزی سے پگھلنا ہمارے دریائی نظام کے پانی میں مسلسل کمی لارہا ہے۔

ماحولیات کے حقائق سے کاملاََ غافل ہم مگر بالائی خطوں کو "پانی چرانے" کا ذمہ دار ٹھہراتے رہیں گے۔ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کا اطلاق مئی 2025ء سے معطل کررکھا ہے۔ دریائے چناب کے پانی کو ایک سرنگ کے ذریعے دریائے بیاس منتقل کرنے کے ارادے بھی ہیں۔ سندھ طاس معاہدے کی دیدہ دلیرخلاف ورزیوں کے خلاف حکومتِ پاکستان متعلقہ بین الاقوامی اداروں سے رجوع کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ بہتر یہی ہوگا کہ پیپلز پارٹی کو بھی ان کے بارے میں فی الفور اعتماد میں لیا جائے۔ ارسا کے ذریعے صوبوں کے مابین پانی کی تقسیم کو شفاف ترین انداز میں منصفانہ ثابت کرنے کے لئے ہر ذریعہ استعمال کرنا بھی لازمی ہے۔

پیپلز پارٹی نے بجٹ کے روز پانی کے حوالے سے مستقبل میں ابھرنے والے ممکنہ قضیے کی محض جھلک دکھائی ہے۔ زیادہ توجہ گلگت-بلتستان میں حکومت سازی کے عمل پر ہی مرکوز ر کھی۔ سیاسی جماعتوں اور سرکار مائی باپ سے زیادہ دُکھ مجھے صحافیوں کے رویے سے ہوا ہے جو سندھ میں پانی کی نایابی کو اجاگر کرنے والے نعروں کو وسیع تر پس منظر میں رکھتے ہوئے عوام کو سمجھانے میں ناکام رہے۔ سوشل میڈیا کی بدولت فروغ پارہی چسکہ فروشی نے ہم صحافیوں کو بے تحاشہ سنگین معاملات سے بیگانہ بنادیا ہے۔

بشکریہ: نوائے وقت

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Martinpur Ka Mattu

By MA Tabassum