Sunday, 12 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Hanif
  4. Talaq

Talaq

طلاق

طلاق کے لفظی معنی کسی کو بندش سے آزاد کرنے کے ہیں شریعت کی اصطلاح میں طلاق سے مراد وہ علیحدگی ہے جس کا مرد کو حق دیا گیا ہے۔ مرد اپنے حق میں آزاد ہے وہ جب چاہے وہ اپنے حقوق زوجیت سے دستبردار ہو سکتا ہے جس کو اس نے مہر کے عوض حاصل کیا تھا۔ عقد نکاح ایک ایسا معاہدہ ہوتا ہے جس کی روح سے دونوں پر ایک دوسرے کے حقوق واجب ہو جاتے ہیں وہ ایک دوسرے کی اخلاقی اور معاشرتی قید و بند میں جکڑے جاتے ہیں لیکن طلاق کے ذریعے مردکے حقوق بحیثیت خاوند اور عورت کے حقوق بیحثیت بیوی ساقط ہو جاتے ہیں۔

دنیا کے دوسرے بڑے بڑے مذاہب اور قوموں میں بڑی بڑی بے اعتدالیوں کو اسلام نے رد کرتے ہوئے بڑے اعتدال سے اس مسئلے کو حل کیا ہے۔ مرد اور عورت کے حقوق میں توازن قائم کیا جس کی مثال دوسرے کسی مذہب یا قوم کے قانون میں نہیں مل سکتی۔ ایک طرف تو وہ رشتہ نکاح کو مضبوط بنانا چاہتا ہے مگر نہ اتنا مضبوط جتنا ہندو و عیسائیت میں ہے کہ زوجین کتنی ہی شدید مصیبت میں ہوں بہر حال ایک دوسرے سے علیحدہ نہیں ہوسکتے اور نہ اتناکمزور جتنا روس امریکہ اور مغرب کے اکثر ممالک میں ہے کہ ازدواجی تعلق میں سرے سے کوئی پائیداری ہی باقی نہیں اور رشتہ ازدواج کی کمزوری سے عائلی زندگی کا سارا نظام درہم برہم ہونے لگا ہے۔

اسلام نے انسانی فطرت کا بالکل صحیح اندازہ کرکے حکم دیا ہے کہ جب عائلی زندگی میں زوجین کے اختلافات کی خلیج اس قدر وسیع ہوجائے کہ اسے پر کرنا ناممکن ہو جائے تو اس حالت میں عورت کا مرد کے ساتھ رہنا ایسا ہی ہے جیسے ایک عضو ماؤف، کہ اگر اسے جسم کے ساتھ ہی رہنے دیا جائے تو اس جسم کو ہی ناکارہ بنا دے ایسی صورت میں معالج مصلحت اسی میں سمجھتا ہے کہ ایسے عضو کو اپریشن کے ذریعے جسم سے علیحدہ کر دیا جائے حالانکہ عام حالات میں کوئی شخص بھی پسند نہیں کرتا کہ اسکے کسی بھی حصہ جسم کو اس سے کاٹ دیا جائے لہٰذا اس مصلحت کے تحت اسلام نے طلاق کو حاجت کے طور پر جائز قرار دیا ہے اور اجازت دے دی ہے کہ جب خاوند اور بیوی میں ناموافقت لا علاج حد تک پہنچ جائے اور موافقت پیدا کرنے کی تمام صورتیں ناکام ہو جائیں تو آخری علاج یہ ہے کہ فریقین ہنسی خوشی اورباضابطہ طور پر معاہدہ نکاح کو تنسیخ کرکے ایک دوسرے سے مستقل علیحدگی اختیار کر لیں۔ اس کا اصطلاہی نام طلاق ہے۔ اسلام نے صرف حالت اضطراری میں ہی طلاق کو مشروع قرار دیا ہے اوراس خیال سے کہ لوگ اس کا غلط استعمال نہ کرنے لگیں، طلاق کے راستے میں جا بجا اخلاقی پابندیا ں اور قانونی رکاوٹیں کھڑی کردیں ہیں یہی وجہ ہے مرد طلاق کا آزادانہ اختیا رکھتے ہوئے اس اختیار کو محض ایک آخری چارہ کار کے طور پر ہی استعمال کر سکتا ہے جیسا کہ رکاوٹیں درج ذیل ہیں۔۔

1۔ سب سے پہلے یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اگرچہ اسلام نے طلاق کو جائز قرار دیا ہے مگر شریعت اسے پسند نہیں کرتی چنانچہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے اللہ تعالیٰ کے نزدیک حلال چیزوں میں سب سے نا پسندیدہ چیز طلاق ہے۔ پھردوسری جگہ فرمایا ترجمہ، شادی کرو اور طلاق نہ دو کیونکہ اللہ تعالیٰ مزے چکھنے والوں اور مزے چگھنے والیوں کو پسند نہیں کرتا۔ کوشش کرنی چاہے جیسا کہ۔ قرآ ن کی تعلیم یہ ہے کہ اگر کوئی عورت تمہیں ناپسند ہو جہاں تک ہو سکے اس کے ساتھ نبھانے کی کوشش کرو حکم ہوتا ہے۔

ترجمہ، ان کے ساتھ اچھے سلوک سے رہو اگروہ تمہیں ناپسند بھی ہوں تو ہو سکتا ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور اللہ تعالیٰ اس میں بہت کچھ بھلائی رکھ دے۔

3۔ لیکن اگر نباہ نہ ہو سکے تو تم کو حق ہے کہ اس کو طلاق دے دو مگر یک لخت چھوڑ دینا شرافت سے بعید ہے اس لئے ایک ایک مہینے کی مدت کے بعد ایک ایک طلاق دو تیسرے مہینے کے اختتام تک سوچنے سمجھنے کا موقع مل جائے گا، ممکن ہے اصلاح کی کوئی صورت نکل آئے البتہ اگر اس مہلت میں سوچنے اور سمجھنے کے باوجود بھی تمہارا فیصلہ یہ ہو کہ اس عورت کوچھوڑ دیناہے تو پھر تیسرے مہینے کے ختم ہونے پر آخری طلاق دے کر عورت کو شریفانہ طریقے سے چھوڑ سکتے ہو اس سے بھی احسن طریقہ یہ ہے کہ تیسری طلاق نہ دی جائے بلکہ یونہی عد ت گزر جانے دی جائے۔

اس صورت میں یہ موقع باقی رہ جائے گا کہ زوجین آئندہ زندگی کے کسی مرحلے میں مل بیٹھنا چاہیں تو دوبارہ نکاح ہو سکے گا۔ بیک وقت تین طلاق دینا گناہ ہے کیونکہ شریعت کا منشا تو یہ ہے کہ ازدواجی تعلقات جو ایک عورت اور ایک مرد میں ایک دفعہ قائم ہو چکے ہیں وہ حتی لامکان رہیں اور اگر انہیں توڑا بھی جائے تو صرف اس وقت جبکہ نباہ اور مصالحت کے تمام امکانات ختم ہو جائیں مگر جو شخص بیک وقت تین طلاقیں دیتا ہے وہ ان تمام مصلحتوں کو ایک ہی وار میں کاٹ پھینکتا ہے یہ وجہ ہے کہ جب حضرت عمرؓ کے سامنے تین طلاقیں دینے والے شخص کوپیش کیا جاتا تو آپؓ اسے درے لگواتے اور اس کے بعد زوجین کو جدا کر دیتے۔

4، ان تین مہینوں کے لیے حکم یہ ہے کہ عورت کو ان تین مہینوں کی مدت میں اپنے گھر سے نہ نکالو بلکہ اپنے ساتھ رکھو ممکن ہے کہ ساتھ رہنے بسنے سے دل ملنے کی صورت نکل آئے چنانچہ فرمایا۔

ترجمعہ، ان کو گھروں سے نکال نہ دو۔ (الطلاق)

5: حالت حیض میں بھی طلاق دینے سے منع کیاگیا ہے کہ طلاق دینا ہی ہو تو طہر کی حالت میں طلاق دو کیونکہ ایک تو حالت حیض میں عورتیں عام طور پر چڑچڑی ہوجاتیں ہیں ان سے بلا ارادہ وہ باتیں سرزد ہونے لگتیں ہیں جنہیں وہ عام حالات میں خود بھی پسند نہیں کرتیں اس لئے اس دوران میں میاں بیوی میں جو جھگڑے پیدا ہو جائیں اس پر طلاق دینے سے منع کیا گیا ہے۔ دوسرے زمانہ حیض میں زوجین کے درمیان وہ جنسی تعلق قائم نہیں رہتا جو ان کی باہمی دلچسپی کا اہم ذریعہ ہے یہ رکاوٹ دور ہوجانے کے بعد توقع کی جاسکتی ہے کہ شاید وہ پھر باہم شیر وشکر ہو جائیں چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ حضرت عبدللہؓ بن عمرؓ نے اپنی بیوی کو حیض کے زمانے میں طلاق دی جب نبی کریمﷺ کو اس کا علم ہوا تو آپ ﷺ برہم ہوئے اور حضرت عبدللہؓ بن عمرؓ کو رجو ع کرنے اور حالت حیض سے پاک ہونے کے بعد حالت طہر میں طلاق دینے کی ہدایت فرمائی۔

Check Also

Common Sense, Wo Kitab Jis Ne Aik Qaum Ko Azadi Par Amada Kar Diya (1)

By Asif Masood