Sunday, 12 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Idrees Abbasi
  4. Jamhuriat Waqai Behtareen Intiqam Hai

Jamhuriat Waqai Behtareen Intiqam Hai

جمہوریت واقعی بہترین انتقام ہے

ملک اس وقت مہنگائی، بے روزگاری، گرتی ہوئی معیشت، بوسیدہ صحت و تعلیم اور انصاف کے بحران سے گزر رہا ہے، مگر ہمارے منتخب نمائندوں کی ترجیحات کچھ اور دکھائی دیتی ہیں۔ تازہ ترین مثال یہ ہے کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے ایک بل کی منظوری دی ہے جس کے تحت سابق ارکانِ پارلیمنٹ، ان کے شریکِ حیات اور 28 سال سے کم عمر زیرِ کفالت بچوں کو سرکاری (بلیو) پاسپورٹ جاری کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کمیٹی میں اس بل کی حمایت کی اور کہا کہ اسے آئندہ منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب ابھی حکومتی جماعت کے اراکین خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے موجودہ اور سابق ارکانِ اسمبلی اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے بلیو پاسپورٹ کی سفارشات سامنے آنے پہ طنزیہ طور پہ معترض تھے۔ لگتا ہے کہ باقی اراکین کو جھٹکا لگا کہ خیبر پختونخوا والے موج مار گئے ہیں، ہم کیوں پیچھے رہ جائیں۔

یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ بلیو پاسپورٹ آخر کس مقصد کے لیے ہوتا ہے؟ کیا یہ ریاستی ذمہ داریاں ادا کرنے والے سرکاری عہدیداروں کی ضرورت ہے یا سابق سیاست دانوں اور ان کے خاندانوں کے لیے ایک اعزاز؟ ایک ایسے ملک میں جہاں عام شہری کو پاسپورٹ، شناختی کارڈ، پینشن یا زمین کے ریکارڈ کے لیے مہینوں دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہوں، وہاں اشرافیہ کے لیے خصوصی سہولتوں کی نئی فہرستیں تیار ہونا عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔

یہ پہلا موقع بھی نہیں۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران قومی اسمبلی اور بعض صوبائی اسمبلیوں نے اپنی تنخواہوں اور مراعات میں بھی غیر معمولی اضافہ کیا۔ 2024 اور 2025 میں بعض صورتوں میں ارکان کی مجموعی مالی مراعات میں 100 سے 150 فیصد تک اضافہ کیا گیا۔

جمہوریت کی کامیاب مثالیں کچھ اور سبق دیتی ہیں۔ برطانیہ میں 2009 کے پارلیمانی اخراجات کے اسکینڈل کے بعد ناجائز مراعات لینے والے ارکان کو رقوم واپس کرنا پڑیں، کئی مستعفی ہوئے اور احتساب کا سخت نظام قائم کیا گیا۔ وہاں عوام کے ٹیکس کا ہر پاؤنڈ مقدس امانت سمجھا جاتا ہے، جبکہ ہمارے ہاں قومی خزانہ گویا اقتدار کا استحقاق بن چکا ہے۔

پاکستان میں قومی اسمبلی کے 336، سینیٹ کے 96، پنجاب اسمبلی کے 371، سندھ اسمبلی کے 168، خیبر پختونخوا اسمبلی کے 145 اور بلوچستان اسمبلی کے 65 ارکان ہیں۔ یعنی مجموعی طور پر 1,181 منتخب قانون ساز، جن پر تنخواہوں، مراعات، رہائش، سفری سہولتوں، عملے اور دیگر اخراجات کی مد میں سالانہ اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔

قوم کا سوال صرف ایک ہے۔ ان 1,181 قانون سازوں نے عوام کو بدلے میں کیا دیا؟ کیا مہنگائی کم ہوئی؟ کیا انصاف سستا اور فوری ہوا؟ کیا صحت اور تعلیم کے معیار میں نمایاں بہتری آئی؟ کیا قانون سازی عام آدمی کے لیے ہوئی یا مخصوص مفاداتی طبقات کے لیے؟

اصل المیہ یہ نہیں کہ مراعات دی جا رہی ہیں، اصل المیہ یہ ہے کہ مراعات بڑھتی جا رہی ہیں جبکہ کارکردگی سکڑتی جا رہی ہے۔ اگر اسمبلیوں کی سب سے نمایاں قانون سازی اپنی تنخواہیں بڑھانا، نئی سہولتیں حاصل کرنا اور مراعات میں اضافہ کرنا رہ جائے تو پھر عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ ان اربوں روپے کے اخراجات سے ملک کو کیا ملا؟

یہ گلا سڑا نظام شاید ہر طاقتور طبقے کو فائدہ پہنچا رہا ہے، مگر عوام آج بھی اسی مقام پر کھڑے ہیں جہاں وہ برسوں پہلے تھے۔ جمہوریت کی اصل کامیابی مراعات میں نہیں، عوام کی زندگی میں بہتری میں ہوتی ہے۔ افسوس کہ ہمارے ایوانوں میں پہلی چیز مسلسل بڑھ رہی ہے، جبکہ دوسری مسلسل سکڑ رہی ہے۔

جمہوریت اہل پاکستان سے واقعی صحیح انتقام لے رہی ہے، کہ آپ یہاں پیدا کیوں ہوئے؟

About Muhammad Idrees Abbasi

Engineer Muhammad Idrees Abbasi is former advisor world bank and writes on politics and social topics.

Check Also

Common Sense, Wo Kitab Jis Ne Aik Qaum Ko Azadi Par Amada Kar Diya (1)

By Asif Masood