Sunday, 12 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Sanober Nazir
  4. WALL-E Aur Islamabad Ke Kat-te Darakht

WALL-E Aur Islamabad Ke Kat-te Darakht

وُولی، اور اسلام آباد کے کٹتے درخت

زمین پر کہیں سانس لیتی شے کا وجود نہیں۔ ہُو کا عالم ہے۔ حدِ نگاہ تک کوڑے کے پہاڑ ہیں، بوسیدہ عمارتیں، زنگ شدہ گاڑیاں اور ایک تنہا روبوٹ جو صدیوں سے انسانوں کا چھوڑا ہوا کچرا سمیٹ رہا ہے۔ اسی کچرے کے ڈھیر میں اس روبوٹ کو ایک ننھا سا سانس لیتا ہوا ہرا پودا ملتا ہے، جسے وہ کسی خزانے کی طرح سنبھال کر رکھ لیتا ہے۔ یہ منظر کسی سائنسی فکشن ناول کا نہیں، بلکہ 2008 میں پکسر اینیمیٹڈ اسٹوڈیو کی بنائی گئی سب سے جراتمندانہ فلم وولی (WALL-E) کا ہے۔ ایک ایسی فلم جو بظاہر بچوں کے لیے ہے مگر اصل میں انسانیت کے نام ایک کڑی تنبیہ ہے۔

پکسر اینیمیٹڈ اسٹوڈیو وہ ادارہ جو کبھی بچوں کو بہانہ بنا کر بڑوں سے وجودی سوال کرتا تھا۔

وولی محض ایک اینیمیٹڈ فلم نہیں، یہ سرمایہ دارانہ نظام، صارفیت (Consumerism)، ماحولیاتی تباہی اور انسانی بے حسی پر ایک گہرا طنز ہے۔ اینڈریو اسٹین ٹن، جو پکسر کے سب سے بڑے مفکرین میں شمار ہوتے ہیں، نے تقریباً بغیر مکالموں کے ایسی فلم تخلیق کی جس میں خاموشی خود ایک زبان بن جاتی ہے۔ یہاں لفظ کم اور معنی زیادہ ہیں۔ کوڑے کے پہاڑ صرف پس منظر نہیں، بلکہ تہذیب کے ملبے کی علامت ہیں۔ یہ فلم اچانک اسلام آباد میں ہزاروں درختوں کی کٹائی کے تناظر میں یاد آتی ہے۔ ایک ایسا شہر جو کبھی "گرین کیپیٹل" کہلاتا تھا، جو مارگلہ کے سبز دامن میں سانس لیتا تھا۔

جس کی قدرتی خوب صورتی دن میں مزید نکھر جاتی تھی۔ جہاں درخت صرف سایہ نہیں بلکہ شناخت تھے۔ آج وہی شہر ماڈرن ازم، ترقی، سڑکوں، توسیع اور عوامی مفاد کے نام پر خاموشی سے ننگا کیا جا رہا ہے۔ بلڈوزر بڑی پھرتی سے سرسبز زمین کو چٹیل میدانوں میں تبدیل کر رہے ہیں، بے دریغ درخت کاٹے جارہے ہیں اور ہم سوشل میڈیا پر چند دن افسوس کرکے آگے بڑھ جاتے ہیں۔

فلم "وولی" میں زمین اس لیے برباد نہیں ہوئی کہ کوئی باہر سے دشمن حملہ آور ہوا تھا، بلکہ اس لیے کہ انسان نے سہولت، منافع اور عیش کو فطرت پر ترجیح دی۔ Buy N Large عالمی کارپوریشن اس فلم میں محض ایک خیالی ادارہ نہیں، بلکہ وہی طاقت ہے جو حقیقی دنیا میں بھی فیصلے کرتی ہے، کہ کہاں درخت رہیں گے، کہاں ہاؤسنگ سوسائٹی بنے گی اور کہاں کنکریٹ کی بلند بالا عمارتیں۔ اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی بھی کسی ایک دن کا واقعہ نہیں، یہ ایک مسلسل ذہنیت کا نتیجہ ہے جہاں ترقی کا مطلب صرف سڑک، پلازہ اور ہاؤسنگ اسکیم سمجھا جاتا ہے اور جہاں درخت ایک رکاوٹ بن جاتے ہیں۔

"وولی" کا سب سے طاقتور استعارہ وہ ننھا پودا ہے۔ ایک چھوٹا سا سبز وجود جو پوری زمین کے ویرانے میں امید کی واحد علامت ہے۔ سوال یہ ہے کہ اسلام آباد میں کاٹے گئے ان ہزاروں درختوں میں سے کیا ہمیں ایک بھی ایسا پودا نظر آیا جسے ہم نے سینے سے لگا کر کہا ہو کہ یہ ہماری بقا ہے؟ یا ہم نے بھی وولی فلم کے انسانوں کی طرح اسکرینوں میں گم، کرسیوں پر بیٹھے، خودکار نظام کے حوالے اپنی زمین کر دی ہے؟ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ انسان زمین کو تباہ و برباد کرکے خلا میں میکانکی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ لیکن کیا انسان وہاں زندہ ہونے کے باوجود زندگی سے بھرپور ہیں؟ فلم میں دکھایا گیا کہ بے جا سہولتوں کے انبار میں انسان ساکن ہیں، بے حس ہیں، سوچنے سمجھنے سے عاری ہیں۔ ہر فیصلہ مشین کرتی ہے اور انسان صرف صارف بن کر رہ جاتا ہے۔ یہی کیفیت ہمارے شہروں کی ہے۔ فیصلے فائلوں میں ہوتے ہیں، نقشوں میں درختوں کے سبز نقطوں کے بجائے خالی جگہیں ہوتی ہیں اور عوام محض خاموش تماشائی۔ کیونکہ ہم یہ سوال ہی نہیں کرتے کہ ترقی کس قیمت پر ہورہی ہے؟

اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی کے حق میں دیے جانے والے دلائل بھی عجیب ہیں۔ پولن الرجی کا مسئلہ، ٹریفک کا بہاؤ، آبادی کا دباؤ، شہری توسیع وغیرہ وغیرہ۔ وولی بھی یہی بتاتی ہے کہ مسئلہ سہولت نہیں، حد سے بڑھی ہوئی عیش و عشرت کی تمنا ہے اور فطرت سے دوری ہے۔ جب انسان ہر چیز کو اپنے آرام کے پیمانے پر ناپنے لگے تو فطرت بوجھ لگنے لگتی ہے۔ پھر درخت گرانا معمول بن جاتا ہے۔ پرندوں کا غائب ہونا اتفاق اور درجہ حرارت کا بڑھنا "قدرتی تبدیلی" کہلاتا ہے۔

وولی روبوٹ ہو کر بھی انسانوں سے زیادہ حساس اور فطرت کے قریب ہے، کیونکہ وہ یاد رکھتا ہے، محبت کرتا ہے اور زندگی کو محفوظ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم، جو خود کو باشعور شہری کہتے ہیں، کیا واقعی وولی سے کم تر ہو چکے ہیں؟ کیا ہمیں اس شہر سے محبت ہے یا صرف اس کی زمین سے؟ کیا ہم آنے والی نسلوں کے لیے ایک کوڑے کا ڈھیر چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں؟

یہ محض ماحولیاتی نہیں، اخلاقی مسئلہ بھی ہے۔ درخت کاٹنا صرف درخت کاٹنا نہیں، یہ آنے والی نسلوں سے سایہ، تازہ ہوا اور پانی چھیننا ہے۔ وولی ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ تباہی ہمیشہ دھماکے سے نہیں آتی، اکثر خاموشی سے نافذ کر دی جاتی ہے، فائلوں، نوٹیفکیشنز اور سرکاری اعلانات کے ساتھ۔ فلم وولی کے آخر میں زمین پر دوبارہ زندگی کا آغاز ہوتا ہے، مگر وہ انجام مکمل خوشی نہیں دیتا۔ یہ سوال چھوڑ جاتا ہے کہ کیا انسان واقعی کبھی بدلے گا؟ اسلام آباد کے تناظر میں بھی یہی سوال ہے۔ اگر ہم نے آج درخت نہ بچائے تو کل ہمارے بچے شاید وولی جیسی کسی فلم کو "فکشن" نہیں بلکہ "دستاویزی حقیقت" سمجھ کر دیکھیں گے۔ وولی ایک آئینہ ہے اور اسلام آباد کے کٹتے درخت اس آئینے میں ہمارا عکس ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ وولی کتنی خوب صورت فلم ہے، سوال یہ ہے کہ ہم کس حد تک اس فلم کے مجرم کردار بن چکے ہیں۔

Check Also

Muhabbat Ki Zuban

By Aftab Alam