Common Sense, Wo Kitab Jis Ne Aik Qaum Ko Azadi Par Amada Kar Diya (1)
کامن سینس، وہ کتاب جس نے ایک قوم کو آزادی پر آمادہ کر دیا (1)

انسانی تاریخ میں بعض کتابیں صرف پڑھی نہیں جاتیں، وہ زمانوں کی تقدیر بدل دیتی ہیں۔ بعض قلم صرف الفاظ نہیں لکھتے بلکہ قوموں کے ضمیر کو بیدار کر دیتے ہیں۔ کچھ تحریریں کتب خانوں کی زینت بنتی ہیں اور کچھ میدانوں، عدالتوں، پارلیمانوں اور عوامی جلسوں میں نئی تاریخ رقم کرتی ہیں۔ دنیا کی سیاسی تاریخ میں اگر ان چند کتابوں کا نام لیا جائے جنہوں نے ایک قوم کے اجتماعی شعور کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تو ان میں تھامس پین کی کتاب "کامن سینس" نمایاں ترین مقام رکھتی ہے۔
یہ ایک مختصر سی کتاب تھی، لیکن اس کے صفحات میں ایک ایسا آتش فشاں چھپا ہوا تھا جس کی تپش نے پورے براعظم کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس نے لوگوں کو صرف یہ نہیں بتایا کہ آزادی کیوں ضروری ہے بلکہ یہ بھی سمجھایا کہ غلامی کو معمول سمجھ لینا انسانی فطرت کے خلاف ہے۔ اس نے عام آدمی کو یہ احساس دلایا کہ حکومت عوام کے لیے ہوتی ہے، عوام حکومت کے لیے نہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس کتاب کو صرف ایک سیاسی رسالہ نہیں بلکہ ایک فکری انقلاب کا منشور کہا جاتا ہے۔
اٹھارہویں صدی کے وسط میں امریکہ کی تیرہ نوآبادیاں برطانوی اقتدار کے زیرنگیں تھیں۔ بہت سے لوگ ٹیکسوں سے نالاں تھے، بعض سرکاری پالیسیوں سے ناراض تھے، مگر اس کے باوجود اکثریت مکمل آزادی کا تصور بھی نہیں کرتی تھی۔ لوگوں کی بڑی تعداد کا خیال تھا کہ شاید کچھ اصلاحات، کچھ رعایتیں اور کچھ سیاسی مفاہمت ان کے مسائل حل کر دے گی۔ ایسے ماحول میں تھامس پین میدان میں آئے۔ وہ کسی بڑے جاگیردار خاندان کے چشم و چراغ نہیں تھے، نہ ہی کسی شاہی دربار سے وابستہ تھے۔ وہ ایک عام گھرانے میں پیدا ہوئے، مختلف پیشوں سے وابستہ رہے، زندگی کی سختیاں دیکھیں اور پھر اپنی فطری ذہانت اور بے باک قلم کے ذریعے عوام کے دلوں تک پہنچ گئے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ مسئلہ چند قوانین یا چند حکمرانوں کا نہیں بلکہ پوری سیاسی ساخت کا ہے۔ جب بنیاد ہی کمزور ہو تو دیواروں پر رنگ کرنے سے عمارت محفوظ نہیں ہوتی۔ یہی احساس ان کی شہرۂ آفاق کتاب "کامن سینس" کی بنیاد بنا۔
یہ کتاب جنوری 1776ء میں شائع ہوئی۔ اس وقت کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا کہ چند ہی مہینوں میں یہ لاکھوں لوگوں کے ہاتھوں میں ہوگی۔ اس زمانے میں نہ ریڈیو تھا، نہ ٹیلی ویژن، نہ برقی ذرائع ابلاغ، نہ سماجی رابطوں کے ذرائع۔ پھر بھی اس کتاب کی اشاعت ایسی ہوئی کہ گاؤں، قصبے، بازار، مسافر خانے اور چائے خانوں تک اس کے اقتباسات پڑھے جانے لگے۔ لوگ اسے بلند آواز سے پڑھتے، دوسرے سنتے، پھر اس پر بحث ہوتی اور یوں ایک نئی سیاسی بیداری جنم لینے لگی۔ اس کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ یہ اہلِ علم کے لیے نہیں بلکہ عام لوگوں کے لیے لکھی گئی تھی۔ اس کی زبان سادہ تھی، دلائل واضح تھے اور انداز ایسا کہ ایک معمولی مزدور بھی اسے سمجھ سکتا تھا اور ایک تعلیم یافتہ قانون دان بھی اس میں فکری گہرائی محسوس کرتا تھا۔ تھامس پین نے پیچیدہ سیاسی فلسفے کو عوامی زبان میں ڈھال دیا اور یہی اس کتاب کی سب سے بڑی طاقت ثابت ہوئی۔
تھامس پین نے اپنی کتاب میں ایک نہایت جرات مندانہ سوال اٹھایا۔ انہوں نے پوچھا کہ "آخر ایک جزیرہ ایک پورے براعظم پر حکومت کیوں کرے؟" انہوں نے موروثی بادشاہت کو عقل، انصاف اور انسانی مساوات کے خلاف قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی انسان صرف پیدائش کی بنیاد پر دوسروں پر حکمرانی کا حق دار نہیں ہو سکتا۔ حکومت کی اصل طاقت عوام کی رضا سے پیدا ہوتی ہے، نہ کہ شاہی خون سے۔ یہ خیالات آج شاید عام محسوس ہوں، لیکن اس زمانے میں یہ ایک فکری زلزلہ تھے۔ انہوں نے لوگوں کو یہ احساس دلایا کہ آزادی کوئی خواب نہیں بلکہ ایک قابلِ حصول حقیقت ہے، بشرطیکہ قوم اس کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہو۔ یہی وجہ تھی کہ "کامن سینس" نے لوگوں کی سوچ کا رخ بدل دیا۔ جو لوگ کل تک مفاہمت چاہتے تھے، وہ اب آزادی کا مطالبہ کرنے لگے۔ جو کل تک اصلاحات کے خواہاں تھے، وہ اب ایک نئی ریاست کا خواب دیکھنے لگے۔
تاریخ میں ایسے مواقع بہت کم آتے ہیں جب ایک کتاب براہِ راست سیاسی واقعات کا رخ موڑ دے۔ "کامن سینس" انہی نادر مثالوں میں سے ایک ہے۔ بہت سے مورخین کا خیال ہے کہ اگر یہ کتاب شائع نہ ہوتی تو امریکی آزادی کا اعلان شاید اتنی جلدی نہ آتا، یا کم از کم عوامی حمایت اس درجے کی نہ ہوتی جو بعد میں دیکھنے میں آئی۔ تھامس پین نے بندوق نہیں اٹھائی، انہوں نے کوئی فوج نہیں بنائی، انہوں نے کسی قلعے پر حملہ نہیں کیا، لیکن ان کے قلم نے لاکھوں ذہنوں کو فتح کر لیا۔ یہی قلم کی اصل طاقت ہے۔ تلواریں جسموں کو زیر کرتی ہیں، مگر خیالات دلوں اور دماغوں کو فتح کرتے ہیں اور جب کسی قوم کے دل و دماغ بدل جائیں تو پھر تاریخ کا دھارا بھی بدل جاتا ہے۔
"ریاستیں حادثاتی طور پر نہیں بنتیں، وہ علم، کردار، انصاف اور مضبوط اداروں کی بنیاد پر تعمیر ہوتی ہیں"۔
اس کالم کے اگلے حصے میں ہم اس کتاب کے دلائل، اس کے امریکی معاشرے پر دیرپا اثرات، تھامس پین کی شخصیت، ان کے المناک انجام اور یہ سوال زیرِ بحث لائیں گے کہ کیا آج پاکستان جیسے معاشروں کو بھی کسی نئی "کامن سینس" کی ضرورت ہے؟

