Sunday, 21 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Ashfaq Inayat Kahlon
  4. Afti Ki Saalgirah

Afti Ki Saalgirah

افتی کی سالگرہ

آج 13 اور 14 اگست 2000 کی درمیانی شب تھی، انیس سال پہلے امروز عزیزم حافظ سید افتخار الحق بخاری اس دنیا فانی میں تشریف لائے تھے، ہم پانچ افراد کو ایک کی بجائے دو کمرے درکار تھے، ہوٹلوں میں کمرہ میسر نہ پا کر ہم تقریباً مایوس ہو چکے تھے، ایک ہوٹل کی استقبالیہ سے ناکام ہو کر باہر کی طرف مڑے ہی تھے کہ لابی میں ایک خوش پوشاک رشین خاتون نے ہمیں روکا اور پیشکش کی "جھیل کنارے کمرہ مل سکتا ہے"۔

کرایہ عام ریٹ سے ڈبل، چالیس ڈالر ایک رات، بھاؤ تاؤ کیا لیکن وہ کسی صورت راضی نہ ہوئی، سفر کی تھکان باعث یہی قبول کرنا پڑا، علی سہیل اور خرم کمرہ دیکھنے گئے، چند منٹ بعد دو کمروں کی چابیاں لیکر آئے، اب رات گذارنے کی طرف سے بے فکری تھی۔

طے پایا کہ کسی کلب چلتے اور افتی کی سالگرہ یادگار بناتے ہیں، جس کلب میں گھستے وہ بند ملتا، ایک گارڈ نے بتایا "یہاں کاروبار رات بارہ بجے بند کرنے پر سختی سے عمل ہوتا ہے"۔ افتی کا منہ بن گیا تھا، سب کو زوروں کی بھوک لگی ہوئی تھی، سالگرہ کا جشن منانے کا پروگرام رائیگاں ہوتے نظر آ رہا تھا، جس پروگرام کی خاطر لمبا سفر طے کیا تھا وہی ناممکن نظر آ رہا تھا، ماحول پر طاری سکون وحشت میں بدل چکا تھا، گاڑی میں اب غلام علی خان کی غزل گونج رہی تھی

"وفا کریں گے۔

نبھائیں گے۔

بات مانیں گے۔

تمہیں بھی یاد ہے کچھ؟ یہ کلام کس کا تھا"۔

مایوس ہو کر پارکنگ دیکھ کر وہاں گاڑی روکی، سب کے منہ سوجے ہوئے، کوئی کسی سے بات نہ کر رہا، اگر بات کرتا تو فقط ہوں ہاں میں جواب ملتا، افسردگی کو خرم نے توڑا، "تم لوگ یہاں انتظار کرو، اوپر ایک ریسٹورنٹ کی بتیاں جلتی نظر آ رہی ہیں، میں کچھ کرتا ہوں"۔

پتھریلے راستے پر بنی سیڑھیاں چڑھتا خرم اوپر گیا اور دس منٹ بعد واپس آیا، "انتظام ہوگیا ہے، میرے ساتھ آؤ"۔ یہ مژدہ صحرا میں پیاسے کو پانی کا کنواں ملنے کے مترادف تھا، خرم کی پکار پر لبیک کہتے پیچھے ہولئے، سیڑھیاں چڑھ کر اوپر گئے، یہ ایک اچھا مقامی ریسٹورنٹ تھا، جس کے ساتھ ملحق کلب بند تھا، ایک بغلی دروازہ کھلا اور رشین خاتون نے ہم کو اندر آنے کا اشارہ کیا، خرم بطور گائیڈ آگے اور ہم سب پیچھے تھے۔

رشین خاتون ایک مختصر کوریڈور میں سب سے آگے چل رہی تھی، کوریڈور کے اختتام پر اس نے ایک نیا دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوگئی، ہم بھی آگے بڑھے، کمرے میں گھپ اندھیرا تھا، خاتون نے لائٹس آن کرنا شروع کیں، پہلا بلب جلتے ہی سب نے خوشی کے مارے اچھل اچھل کر نعرے لگائے، یہ ایک کلب کا ہال اور مکمل خالی تھا، خرم نے کوئی جگاڑ کیا تھا بلکہ معجزہ کر دکھایا تھا، دائیں طرف ایک چھوٹا بار، وسیع ہال، جس میں کرسیاں و میز سب خالی اور جھیل کی طرف ڈانس سٹیج تھا، خاتون نے ڈی جے کے فرائض ادا کرنا شروع کئے اور رشین گلوکار رُکی ورخ کے گانے پلے کر دیئے، ماحول یکسر بدل چکا تھا، چند منٹ پہلے والی افسردگی کی جگہ رقص نما بندر اچھل کود جاری تھی، علی سہیل گاڑی میں سے سی ڈیز اٹھا لایا اور ہم سب مل کر حدیقہ کیانی کے گانے "بوہے باریاں تے نالے کندھاں ٹپ کے آواں گی ہوا بن کے پر" ہلا گلا کرنے لگے۔

ہم سب نے مل کر افتی کو اٹھایا اور ہوا میں اچھالتے رہے، رشین خاتون ہماری حرکتوں سے محظوظ ہو رہی تھی، اسے جوائن کرنے کا بولا لیکن وہ نہ مانی، سب لوگ باری باری بار کاؤنٹر پر جاتے، جتنی رشین زبان بول سکتے تھے اس کے مطابق صنفِ نازک کے بے پایاں حُسن کی تعریف کرتے اور ڈانس کی آفر کرتے لیکن وہ پتہ نہیں کس مٹی کی بنی تھی کہ سب کو برابر انکار سے نوازتی رہی، اپنی باری پر میں نے بھی اس کی بے حد خوشامد کی، سنہری بالوں کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیئے، ناراض ساس کی طرح منانے کی کوش کی لیکن اس کے باریک ہونٹوں پر ایک ہی جواب تھا "میری ڈیوٹی ختم ہو چکی ہے"۔ باہم مشورہ سے اسے اضافی رقم کی پیشکش کی لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوئی، یہ بندر تماشہ نما اچھل کود لگ بھگ ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہی۔

کھانے کی ٹیبل تیار ہونے تک ہم سب پسینے میں شرابور ہو چکے تھے، باربی چکن، موٹے کھچڑی چاول، انڈوں کا آملیٹ، مربہ جات، موٹا لوبیہ اور سلاد جو شیف نے عجلت میں تیار کیا تھا، بھوک کو مدنظر رکھتے ہوئے ندیدوں کی طرح کھانے پر ٹوٹ پڑے، کھانا مزیدار تھا، میرے دائیں ہاتھ پر بیٹھے علی سہیل نے سلاد کی پلیٹ میری طرف بڑھائی، سلاد بھی ٹھیک تھا، کھاتے ہوئے بے دھیانی میں ایک عدد چھوٹی ہری مرچ میرے منہ میں چلی گئی، بے حد تیکھی مرچ، منہ میں جیسے آگ سی لگ گئی، دھڑا دھڑ دو عدد گلاس پانی حلق میں انڈیلے، کچھ سکون ہوا تو دیکھا کہ دوستوں کا ہنس ہنس برا حال تھا، تب سمجھ آئی کہ پہلے یہ مرچ کسی نے کھائی تھی اور جان بوجھ کر میری طرف سلاد کی پلیٹ بڑھائی تھی، دل چاہا کہ ساری ہری مرچیں علی سہیل کے منہ میں ٹھونس دوں لیکن کم بخت مجھ سے طاقتور تھا، باقی دوست کھانے میں مشغول رہے اور میں اپنی زبان باہر نکالے، زبان کو ہوا لگانے کی کوشش کر رہا تھا۔

جب رشین خاتون نے بل پیش کیا تو ہم سب کے ہاتھوں کے طوطے، کبوتر، فاختہ یکمشت اڑ گئے، مختصر محفل کا خرچہ چار سو ڈالر تھا، بل چھوٹی ہری مرچ سے بھی بدتر محسوس ہوا، کہیں زیادہ تیکھا، یہ دیرپا جلن ہم کافی دیر تک محسوس کرتے رہے، بھاری بھرکم بل نے مزیدار کھانے کا مزہ بھی کڑوا ذائقہ کر دیا، باری باری سب بل پر ایک نظر ڈالتے اور آگے بڑھا دیتے، بل پر لکھی مالیت سینے میں جلن پیدا کر رہی تھی۔

افتی نے ہمت کرکے خاتون سے استفسار کیا "شائد آپ کو بل بنانے میں غلطی ہوئی ہے"۔ لیکن بے سود، بل پر تکرار شروع ہوئی، خاتون نے دراز کھول کر کیلکولیٹر نکالا اور ایک ایک چیز کا حساب کرنے لگی، حساب ٹھیک تھا لیکن اس نے ہر چیز کے چارجز بہت زیادہ لکھے تھے، یہ تمام بل پچاس ڈالر بھی نہ بنتا تھا لیکن خاتون نے یہ بتا کر ہمارے ہوش اڑا دیئے "رات بارہ بجے کے بعد کلب کھولنے پر دو سو ڈالر جرمانہ آپ لوگ ادا کریں گے، رات بارہ بجے کے بعد ہر چیز کا ریٹ چار گنا ہے"۔ یہ "وچلی گل" ہمیں ہرگز معلوم نہ تھی، ہم اس کھلم کھلا ناانصافی پر پیچ و تاب کھا رہے تھے، بل ادا کئے بغیر نکل بھی نہ سکتے تھے۔

قہر درویش برجان درویش، ہم وہیں کرسیوں پر بیٹھ گئے، خاتون کاؤنٹر پر بیٹھی بظاہر جماہیاں لے رہی لیکن دراصل ہم پر نظر رکھے تھی، ہمارا غصہ عروج پر تھا لیکن یہ بل ہم کو ادا کرنا ہی تھا، بھاگ بھی نہ سکتے تھے، سب نے مشترکہ طور پر 80 ڈالر فی کس ادا کئے اور ڈولی ڈنڈا کرکے 400 ڈالر پورے کئے، جب کانپتے ہاتھوں سے بل ادا کیا تو خاتون نے کاروباری مسکراہٹ سے ہمارا شکریہ ادا کیا، رقم گن کر دراز میں رکھی اور بولی "امید ہے کہ آپ کو ہمارا کلب پسند آیا ہوگا، پلیز دوبارہ ضرور تشریف لائیں اور ہمارے کلب کا اپنے دوستوں کو بھی بتائیں"۔

ہم سب کا قہقہہ بلند ہوا، افتی بولا "اتنے مہنگے چارجز پر کون آنا پسند کرے گا؟"

وہ کاروباری مسکراہٹ بکھیرتی بولی "اس میں آپ لوگوں کی غلطی ہے، میں نے آپ کو پہلے ہی بتا دیا تھا"۔

یہ فقرہ سنتے ہی ہم سب خرم کی طرف متوجہ ہوئے "اوئے، یہ کیا؟ تم نے ہم سے کچھ چھپایا تھا؟"

خرم نے بغیر شرمسار ہوئے دانت نکالے "سالگرہ روز روز نہیں آتی اور وہ بھی گلوبوئی زالیف کنارے، پیسے کا کیا ہے وہ گھر والوں سے دوبارہ منگوا لینا"۔

رانا کاشف نے اسے داد دی "ارے واہ یار کیا منطق ہے، خوش کردیا"۔

علی سہیل نے خرم کی طرف سنجیدگی سے دیکھا "یعنی تمہیں پہلے سے معلوم تھا؟"

خرم نے صفائی پیش کی "اگر بتا دیتا تو آج کی رات تم لوگ کیسے یاد رکھتے، یہ تم لوگوں کا زندگی میں گلوبوئی زالیف کا پہلا اور شائد آخری ٹور ہے، یہی سمجھ کر خوش ہو جاؤ"۔

افتی نے افسوس سے سر ہلایا "چار سو ڈالر میں ایک بندہ پورے چھ مہینے کا راشن کھا سکتا ہے"۔

خرم نے فرمایا "لیکن وہ بندہ چھ مہینے میں ایک مرتبہ بھی گلوبوئی زالیف کا درشن نہیں کر سکتا، جو نظارے تم لوگوں کو دکھائے ہیں، سچ بتاؤ کہ کیا پہلے کبھی دیکھے تھے یا مستقبل میں امکان ہے؟" بات میں دم تھا، ہم سب کو اتفاق کرنا پڑا "یہ موسم، یہ جھیل، یہ ماحول، چودہویں کا چاند اور ایسے بے لوث دوستوں کی محفل دوبارہ پتہ نہیں کب نصیب ہو، چلو اب کمرے میں چل کر سوتے ہیں"۔

Check Also

Aath Khatre Jo Agle 100 Saal Tai Karenge

By Arif Anis Malik