اسلامی تہذیب و ثقافت
تہذیب کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا خود انسان۔ انسان نے جب غاروں اور جنگلوں میں بقا کی جدوجہد شروع کی تو اس کے دل میں بہتر کی جستجو اور معنویت کی پیاس پیدا ہوئی۔ وقت کے ساتھ اس نے زبان اوررسم الخط ایجاد کیا، رسوم و رواج کو ترتیب دیا، عقائد کی بنیاد رکھی اور فنونِ لطیفہ کو فروغ دیا۔ ان تمام عناصر نے مل کر انسانی تہذیب کو جنم دیا۔ مختلف ادوار میں مختلف تہذیبوں نے انسانی علوم وفنون کو پروان چڑھایا۔ میسوپوٹیمیا، بابل و نینوا، وادی سندھ، یونان، مصر، چین اور اسلامی تہذیب نے علم، فلسفہ، روحانیات، فن تعمیر اور ادب میں حیرت انگیز کارنامے سرانجام دئیے۔
تہذیب اور ثقافت دو الگ الگ مفاہیم کی حامل ہیں۔ ثقافت کسی قوم کی روزمرہ زندگی، رسم و رواج، زبان، کھانوں، لباس، آرٹ، موسیقی، لوک داستان اور علاقائی انداز و اطوار پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہ وہ مظاہر ہیں جو کسی قوم کی ظاہری شناخت کو متعین کرتے ہیں۔ جبکہ تہذیب اس کے برعکس ان تمام مظاہر کے پیچھے کارفرما فکری اساس، اخلاقی اصول، اقداری نظام اور روحانی ڈھانچے کا نام ہے۔ گویا ثقافت ظاہری پیکر ہے اور تہذیب اس کی روح ہے۔
اسلامی تہذیب کی بنیاد عقیدہ توحید، رسالت، آخرت اور وحی الٰہی پر ہے۔ اسی فکری اساس سے وہ اخلاقی اصول اور اقداری نظام جنم لیتے ہیں جو مسلمانوں کی زندگی کے تمام پہلوؤں کو متعین کرتے ہیں۔ اس بنیاد پر مسلمانوں کی ثقافتی سرگرمیاں خواہ وہ لباس ہو، خوراک ہو، فن ہو یا تعلیم اسی وقت اسلامی ثقافت کہلائیں گی جب وہ اسلامی تہذیب کے مقرر کردہ اصولوں اور حدود کی پابند ہوں گی۔
مثلاً لباس کو لیجیے، دنیا بھر کے مسلمان مشرق سے مغرب تک مختلف قسم کے ملبوسات زیب تن کرتے ہیں۔ کہیں شلوار قمیص رائج ہے، کہیں عبایا اور جلباب، کہیں ٹوپیاں اور عمامے اور کہیں جینز اور شرٹس لیکن ان سب میں اگر ستر کے ان حدود کا لحاظ رکھا گیا ہے جو قرآن و سنت نے مقرر کیے ہیں تو یہ سب اسلامی تہذیب کے دائرے میں آئیں گے خواہ ان کی رنگت، سلائی یا انداز کچھ بھی ہو۔ لیکن جب کسی لباس میں ستر کی حدود پامال ہو جائیں، جسم کی نمائش ہو یا فحاشی کو فروغ دیا جائے تو وہ ثقافت اسلامی تہذیب سے خارج ہو جائے گی۔
بعینہ دنیا کے مختلف خطوں میں مسلمان مختلف قسم کے کھانے کھاتے ہیں۔ ان سب کی ترکیبیں اور ذائقے مختلف ہو سکتے ہیں لیکن اگر ان میں حلال و حرام کے اسلامی اصولوں کی پاسداری کی گئی ہے تو وہ کھانے اسلامی ثقافت کا حصہ کہلائیں گے اور اگر کوئی غذا ان بنیادی حدود سے تجاوز کرتی ہے تو وہ اسلامی تہذیب و ثقافت کا حصہ نہیں کہلائے گی۔
یہی اصول زندگی کے دیگر پہلوؤں پر بھی اپلائی ہوتا ہے۔ مثلاً فنونِ لطیفہ (Fine Arts) کی مختلف اقسام جیسے مصوری، موسیقی، ڈرامہ اورفلم اگر یہ اسلامی اقدار کی نمائندگی کرتے ہیں، اخلاقی تعلیم دیتے ہیں اور انسان کو فحاشی، ظلم اورشرک کی طرف نہیں لے جاتے تو یہ اسلامی ثقافت کا حصہ سمجھے جائیں گے۔ لیکن اگر یہ فنون اخلاقی بے راہ روی، جنسی اشتعال، جسم کی نمائش اورمغرب طرز فکر کو فروغ دیں تو یہ اسلامی تہذیب کے منافی سمجھے جائیں گے۔ اسی طرح تعلیم کو دیکھ لیجیے۔ تعلیم ایک ایسا مظہر ہے جو کسی قوم کی ثقافت کا اہم ستون ہوتا ہے۔ اگر اس کا مقصد صرف دنیاوی ترقی، معاشی مقابلہ بازی اور مادی کامیابی ہے اور اللہ کی معرفت، آخرت کا تصوراور اخلاقی ارتقا کو نظرانداز کیا جاتا ہے تو وہ تعلیم اسلامی تہذیب کی روح کے منافی ہے۔
اسلامی تہذیب کی پہچان اس کی ثقافت کے رنگ برنگے مظاہر میں نہیں بلکہ ان کی تہہ میں پوشیدہ اعتقادی اور اخلاقی اساس میں ہے۔ لباس، خوراک، فنون اورتعلیم ان سب کو اسلامی کہنے کا معیار یہ نہیں کہ وہ مسلمانوں میں رائج ہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ اللہ کی مقرر کردہ حدود کے اندر ہیں یا نہیں۔
بشکریہ: نئی بات
