Hum Kya Jawab Dein Ge?
ہم کیا جواب دیں گئے؟

آج صبح ریس کورس میں میں اپنی بہنوں کے ساتھ واک کے لئے گئی۔ وہاں گوہر بٹ سے ملاقات ہوئی۔ گوہر بٹ کے وی لوگ مجھے بہت پسند ہیں کیونکہ وہ روایتی زبان میں معاشرتی نا ہمواریوں کا زکر کرتے ہیں اور "ما تڑ" کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ امیر اور غریب کے فرق کو نمایاں کرکے اس کے بارے میں بات کرتے چلے جاتے ہیں مجھے یہ اس لئے بھی اچھا لگتا ہے کیونکہ میں بھی ہمیشہ سے اس نا انصافی کو دیکھ دیکھ کر کڑھتی رہتی ہوں۔ دولت کی غیر منصفیانہ تقسیم اور اس پر قارون کی طرح یہ کہنا کہ میری دولت میری ہنر مندی کا نتیجہ ہے۔
میں اول دن سے یہ کہتی چلی آئی ہوں کہ یہ پاک وطن ہم نے لیا ہی اس لئے تھا کہ اس میں اللہ کا نظام قائم ہو وہ نظام جس کا زکر آج حضور ﷺ نے اپنے آخری خطبہ میں کیا تھا کہ آج کسی کالے کو گورے پر، عربی کو عجمی پر اور امیر کو غریب پر کوئی فوقیت حاصل ہے۔ زمانہ جہالیت کے تمام غلط تصورات آج میرے پاؤں تلے ہیں۔
حضور ﷺ نے یہ نظام قائم کرکے امت کو دیا اور یہ نظام آگے بھی چلا لیکن پھر ہم اس پرانے دور کی طرف پلٹ آئے، جہاں عزت کا معیار دولت بن گئی، یہی پیغام حضرت نوح سے لے کر حضور ﷺ تک ہر نبی دیتا چلا آیا ہے۔ لیکن اب کسی بنی نے نہیں آنا۔
لیکن مجھے لگتا ہے کہ اللہ انسانوں کی مدد کسی نہ کسی طرح کرتا رہتا ہے۔ اس نے قائداعظم کے زریعے ہمیں یہ زمین کا ٹکرا دے دیا جسے ہم نے اللہ کے نام پر حاصل کیا کہ اس میں اللہ کا نظام قائم ہوگا۔
پھر قائد اعظم کو قدرت نے مہلت نہ دی اور پھر ہم نے اپنی من مانی شروع کر دی۔
سیاست دانوں کو تو حرف تنقید بنایا جاتا رہا ہے لیکن ہماری یہ بیوروکریسی جو سب بے انصافیوں کی اصل ذمہ دار ہے۔ اس کا زکر نہیں کیا جاتا۔
صبح واک کرکے ہم واپس گیٹ کی طرف آ رہے تھے کہ گیٹ کے اندر ایک گاڑی داخل ہوئی اس میں کچھ افراد سوار تھے، گارڈ نے گیٹ کھولا اور گاڑی بالکل اس جگہ کھڑی کر دی گئی جہاں فیملی کے افراد نے اترنا تھا۔
پارک کی حدود میں گاڑی لے کر آنا منع ہے اس لئے سب لوگوں کی گاڑیاں پارک میں ہی کھڑی کی جاتی ہیں لیکن ان لوگوں کا تعلق چونکہ افسر شاہی سے تھا اس لئے ان کو یہ پروٹوکول دیا گیا کہ ان کی گاڑی اندر آ سکتی تھی۔
جب تک عوام اور خواص کا فرق ختم نہیں ہو جاتا یہ نا انصافی ختم نہیں ہوگئی۔
یہ اگر دیکھا جائے تو بظاہر چھوٹا سا واقع ہے لیکن یہ سب کچھ ہر جگہ، ہر دفتر میں کھلے عام ہوتا نظر آتا ہے۔ بیورو کریسی کا کام عوام کی خدمت ہے لیکنُ وہ اپنے آپ کو خواص سمجھتے ہیں، انگریز انھیں جو مرعات دے کر چلا گیا ہے وہ اب ایسے ہی چلی آ رہی ہیں، اس نا انصافی کو اب ختم ہونا چاہئے۔
جس طرح بیورو کریسی ریاست کا پیسہ بے دریغ اپنے اہل و اعیال کے لئے استعمال کرتی ہے جو مرعات انگریز کے دور سے اب تک چلی آ رہی ہیں وہ بڑے بڑے گھر اور پٹرول کا بے دریغ استعمال، خدمت کے لئے ملازمین کی فوج۔
یہ سب کیا ہے؟
دور فاروقی میں حضرت معیقیب بیت المال کے خزانچی تھے۔ ایک دن بیت المال میں جھاڑو دینے لگے تو کوڑے میں سے ایک درہم (اس وقت کا کم از کم سکہ) ہاتھ لگا، اتفاق سے حضرت عمر رظہ کے گھر کا ایک بچہ پاس کھڑا تھا۔ خزانچی نے وہ درہم اس بچے کو دے دیا اور گھر چلا گیا۔
ابھی گھر پر پہنچا ہی تھا کہ امیر المومنین کا بلاوا آ گیا۔ وہ آیا تو دیکھا کہ وہی درہم آپ کے ہاتھ میں تھا کہا کہ معیقیب میں نے تمھارے ساتھ کونسی زیادتی کی تھی جو تم نے مجھ سے اس طرح بدلہ لینا چاہا ، تم سوچو کہ قیامت کے دن جب امت محمدیہ مجھ سے اس درہم کی بابت پوچھے گئی تو میں کیا جواب دوں گا؟
میں اس سطر کو بار بار پڑھے گئی کہ امت محمدیہ مجھ سے پوچھے گئی تو میں کیا جواب دونگا؟
میں سب سے پوچھتی ہوں کہ روز احتساب قائد اعظم ہم سے پوچھیں گئے کہ یہ ملک میں نے تمھیں اللہ کا نظام قائم کرنے کے لئے لے کر دیا تھا تو ہم نے کیا کیا تو ہم کیا جواب دیں گئے؟

