America Aur Bharat Ka Romance Khatam Ho Raha Hai
امریکا اور بھارت کا اسٹریٹجک رومانس ختم ہو رہا ہے

امریکا اور بھارت کے تعلقات کو گزشتہ دو دہائیوں سے بین الاقوامی سیاست کی کامیاب ترین شراکت داریوں میں شمار کیا جاتا رہا ہے۔ واشنگٹن کے لیے بھارت چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کے مقابلے میں اہم اسٹریٹیجک ساتھی تھا، جبکہ نئی دہلی کے لیے امریکا جدید ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری، دفاعی تعاون اور عالمی سیاسی حمایت کا اہم ذریعہ تھا۔ لیکن جون 2026 میں منظرنامہ کچھ مختلف دکھائی دیتا ہے۔ ایران جنگ، تجارتی تنازعات، پاکستان کے بارے میں امریکی پالیسی اور امریکا کی انڈوپیسیفک حکمت عملی میں تبدیلیوں نے دونوں ملکوں کے تعلقات میں کشیدگی پیدا کردی ہے۔
اس تبدیلی کا سب سے نمایاں اظہار جی سیون سربراہ اجلاس کے موقع پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نریندر مودی کی ملاقات سے متعلق مباحثوں میں نظر آیا۔ ٹائم میگزین نے لکھا کہ اگرچہ دونوں رہنماؤں کے تعلقات بدستور خوشگوار ہیں، لیکن حالیہ مہینوں میں کئی نئے تنازعات کی وجہ سے دونوں ملکوں کے تعلقات پہلے جیسے نہیں رہے۔ ان میں امریکی ٹیرف، بھارت اور پاکستان کی جنگ بندی پر ٹرمپ کے متنازع دعوے اور آبنائے ہرمز میں امریکی کارروائیوں میں تین بھارتی ملاحوں کی ہلاکت شامل ہیں۔
بھارت میں سب سے زیادہ غصہ اس واقعے پر سامنے آیا جس میں امریکی فوجی کارروائی کے دوران بھارتی ملاح مارے گئے۔ بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکرنے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے رابطہ کرکے سخت احتجاج کیا، جبکہ بھارتی وزارت خارجہ نے امریکی سفارت کار کو طلب کرکے وضاحت مانگی۔ ٹائم کے مطابق اپوزیشن جماعتوں نے مودی پر دباؤ ڈالا کہ وہ ٹرمپ کے سامنے اس معاملے کو بھرپور انداز میں اٹھائیں۔
ایران جنگ کے اثرات صرف ایک واقعے تک محدود نہیں رہے۔ فارن پالیسی میں ششانت سنگھ نے لکھا کہ اس جنگ نے امریکا بھارت تعلقات میں موجود بنیادی دراڑوں کو نمایاں کیا ہے۔ ان کے مطابق بھارت اپنی تیل کی ضروریات کا 89 فیصد درآمد کرتا ہے، اس لیے آبنائے ہرمز میں کشیدگی، تیل کی قیمتوں میں اضافے اور سپلائی چین کی رکاوٹوں نے بھارتی معیشت کو شدید متاثر کیا ہے۔ جنگ کے نتیجے میں نہ صرف مہنگائی بڑھی بلکہ بھارتی کرنسی اور سرمایہ کاری کے ماحول پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے۔
فارن پالیسی کے مضمون کا ایک اور اہم نکتہ پاکستان سے متعلق ہے۔ مودی حکومت کئی برسوں سے پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کی کوشش کرتی رہی، لیکن ایران بحران کے دوران واشنگٹن نے سفارتی رابطوں کے لیے اسلام آباد کے ساتھ کام کیا۔ اس طرح پاکستان کو ایک بار پھر اہم کردار حاصل ہوا، جسے بھارت میں بہت سے مبصرین اپنی خارجہ پالیسی کی ناکامی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
تجارتی اختلافات بھی کم اہم نہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ برسوں میں بھارتی مصنوعات پر متعدد ٹیرف عائد کیے، جبکہ حالیہ ہفتوں میں مزید محصولات کی دھمکیاں بھی سامنے آئیں۔ ٹائم کے مطابق اگرچہ دونوں ممالک ایک بڑے تجارتی معاہدے پر مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں، لیکن نئی دہلی میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ واشنگٹن اب بھارت کو خصوصی رعایت دینے کے بجائے محض تجارتی شراکت دار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
یہ تاثر بھارتی میڈیا میں بھی نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا نے حالیہ تجزیوں میں لکھا کہ مودی اور ٹرمپ کی ملاقات کا سب سے اہم مقصد تجارتی معاہدے کو بچانا تھا، کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان "غیر یقینی صورتحال" کاروباری اور سفارتی حلقوں کے لیے تشویش کا باعث بن چکی ہے۔ اخبار نے بھارتی حکام کے حوالے سے بتایا کہ تعلقات کی بنیادیں اب بھی مضبوط ہیں، لیکن اعتماد کے بحران کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس مؤقف سے اندازہ ہوتا ہے کہ نئی دہلی تعلقات کو ٹوٹنے کے بجائے ایک نئے اور مشکل مرحلے میں داخل ہوتا دیکھ رہا ہے۔
اختلافات صرف تجارت یا ایران تک محدود نہیں۔ ٹرمپ کی جانب سے یہ دعویٰ کہ انھوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کم کرانے میں کردار ادا کیا، نئی دہلی کو سخت ناگوار گزرا۔ بھارت روایتی طور پر کشمیر اور پاکستان سے دوسرے تنازعات میں کسی تیسرے فریق کی ثالثی کو مسترد کرتا آیا ہے۔ اسی لیے ٹرمپ کے بیانات کو بھارتی اسٹیبلشمنٹ نے اپنی سفارتی پوزیشن کے خلاف سمجھا۔
واشنگٹن کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو امریکا اب بھی بھارت کو چین کے مقابلے میں اہم شراکت دار سمجھتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، مشترکہ فوجی مشقیں، حساس ٹیکنالوجی کی منتقلی اور کواڈ جیسے ادارہ جاتی ڈھانچے موجود ہیں۔ فارن پالیسی کے مطابق یہی عوامل اس تعلق کو مکمل بحران میں تبدیل ہونے سے روکتے ہیں۔ البتہ اگر اعتماد کا فقدان برقرار رہا تو دفاعی اور تکنیکی تعاون کی رفتار سست ہوسکتی ہے اور بھارت متبادل شراکت داروں کی تلاش میں سرگرم ہوسکتا ہے۔
کچھ بھارتی مبصرین کا خیال ہے کہ نئی دہلی پہلے ہی اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لارہا ہے۔ چین کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی حالیہ کوششیں اور بعض حساس موضوعات پر نسبتاً محتاط رویہ اس بات کی علامت ہیں کہ بھارت اب امریکا پر انحصار کرنے کے بجائے زیادہ متوازن خارجہ پالیسی اختیار کرنا چاہتا ہے۔ دونوں ممالک کی معیشتیں، دفاعی مفادات اور چین سے متعلق خدشات اب بھی انھیں ایک دوسرے کے قریب رکھتے ہیں لیکن حالیہ واقعات نے یہ ضرور واضح کیا ہے کہ 2020 کی دہائی کے آغاز میں جس "قدرتی اتحاد" کی بات کی جاتی تھی، وہ اب زیادہ حقیقت پسندانہ اور مفاداتی تعلق میں تبدیل ہورہا ہے۔

