Tuesday, 23 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Mehdi Bukhari
  4. Surkh Aur Syah Tashayo

Surkh Aur Syah Tashayo

سرخ اور سیاہ تشیع

رنگوں کی بھی اپنی تقدیریں ہوتی ہیں۔ کچھ رنگ دیواروں پر سجتے ہیں، کچھ جھنڈوں پر لہراتے ہیں اور کچھ تاریخ کے اوراق پر خون کی روشن سطروں کی طرح ثبت ہو جاتے ہیں۔ سرخ بھی ایسا ہی ایک رنگ ہے۔ یہ محض رنگ نہیں، مزاحمت کی زبان ہے۔ انکار کا استعارہ ہے۔ اس انسان کی شناخت ہے جو ظلم کے سامنے سر جھکانے کے بجائے سر کٹوانا پسند کرتا ہے۔ مگر تاریخ کا المیہ یہ بھی ہے کہ سرخ رنگ زیادہ دیر سرخ نہیں رہتا۔

یہی ہمارے خون کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ گرم سرخ خون جب رگوں میں دوڑتا ہے تو زندگی اور حرکت کی علامت ہوتا ہے لیکن جب زمین پر گرتا ہے تو آہستہ آہستہ سیاہی مائل ہو جاتا ہے، جم جاتا ہے اور پھر ایک بے جان لوتھڑے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ انقلابی تحریکوں اور نظریات کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ انقلاب جنم لیتے ہیں، دنیا کو ہلا دیتے ہیں، ایوانوں کے دروازے لرزا دیتے ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ان کی حرارت کم ہونے لگتی ہے۔ ان کے پیروکار نظریے کی روح کے بجائے اس کے خول سے محبت کرنے لگتے ہیں اور پھر ایک دن وہ انقلاب رسمی جلوس بن جاتا ہے۔

ڈاکٹر علی شریعتی نے اسی المیے کو "سرخ تشیع" اور "سیاہ تشیع" کے استعارے میں بیان کیا تھا۔ ان کے نزدیک سرخ تشیع کربلا کا وہ پیغام تھا جو ظالم کے سامنے کلمۂ حق بلند کرنے کا نام ہے جبکہ سیاہ تشیع وہ کیفیت ہے جس میں مزاحمت کی روح کو سوگ، عزاداری کی رسومات اور ظاہری عقیدت کی تہوں میں دفن کر دیا جاتا ہے۔

کربلا کی داستان دراصل دو لشکروں کی جنگ نہیں تھی۔ یہ دو نظریات کا تصادم تھا۔ ایک طرف طاقت تھی، جبر تھا، ریاست تھی، دربار تھا۔ دوسری طرف ایک تنہا آدمی تھا جو جانتا تھا کہ وہ فتح حاصل نہیں کرے گا مگر اس کے باوجود میدان میں اترا کیونکہ کامیابی سے زیادہ اہم صداقت کی گواہی ہوتی ہے۔ امام حسین نے تلوار سے زیادہ اپنے خون سے تاریخ لکھی۔ لیکن تاریخ کے عجائب گھر میں اکثر یہی ہوتا ہے کہ خون کی حرارت محفوظ نہیں رہتی، صرف یادگاریں محفوظ رہ جاتی ہیں۔

صدیاں گزرتی ہیں اور پھر مزاحمت ایک تقریب بن جاتی ہے۔ سوال ایک رسم میں بدل جاتا ہے۔ انقلاب ایک جلوس بن جاتا ہے اور وہ پیغام جو تختوں کو لرزا سکتا تھا، صرف منبروں کی زینت بن کر گریہ و ماتم میں قید رہ جاتا ہے۔ عباسی دور کے اختتامی زمانے تک جب اصولوں کی سربلندی کے لیے تن من دھن کی پرواہ نہ کرنے والا آئمہ کرام کا سلسلہ تھما تو آلِ بویہ اور پھر صفوی دور میں نظریہ مزاحمت کو رسومات و ادب آداب کے سانچے میں ڈھالنے کا سلسلہ شروع ہوا اور یوں ایک اور طرح کی دربار نشین مذہبی اسٹیبلشمنٹ وجود میں آئی (اسٹیبلشمنٹ کا مطلب ہی سٹیٹس کو کی برقراری اور نظریاتی جمود کا دفاع ہے)۔ اس کی وجہ یہ ڈر رہا کہ کہیں عوام الناس میں کربلائی تحریک ملوکیت یا تاناشاہی کے خلاف کوئی نئی روح نہ پھونک دے لہٰذا ملوکیت کے خلاف تلوار اُٹھانے کے دینی پیغام کو بدل کر سوگ و آہ و بُکا کے سانچے میں ڈھال دیا جائے۔

یوں باطل کی ہر شکل کے خلاف جدوجہد اور کسی صورت سمجھوتا نہ کرنے کی کربلائی تحریک کو رسومات کے جسم میں قید کرکے محض سوگ کا رنگ اوڑھا دیا گیا اور سرخ پرچم پیچھے ہوتا چلا گیا۔ ایک طبقہ فکرنے وہ تلوار جو طاغوت و جبروت کے سینے پر چلانا تھی وہ سیاہ رنگ اوڑھ کر اپنی ہی پیٹھ پر برسا لی اور دوسرے طبقہ فکرنے سفید رنگ اوڑھ کر حسینیت یا حسینی مشن کو ختم شریف، قُل خوانی اور قبرستان کے دورے تک محدود کر دیا۔

یہ المیہ صرف مسلمانوں کا نہیں۔ حضرت ابراہیم نے نمرود کے اقتدار کو چیلنج کیا تھا مگر بعد میں انہی کے نام پر ایسی مذہبی اشرافیہ پیدا ہوئی جس نے سوال اٹھانے کو گناہ بنا دیا۔ حضرت موسیٰ فرعون کے خلاف کھڑے ہوئے تھے، شریعتِ موسوی وجود میں آ گئی اور پھر رفتہ رفتہ شریعت موسوی کے بدن سے روح نکلتی چلی گئی اور رسومات کی شکل میں جسم باقی رہ گیا اور پھر جسم کو بھی یہودی راہبانیت چاٹ گئی۔۔ حضرت عیسیٰ کی جدوجہد یہودی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف شروع ہوتی ہے۔ آپ سمیت آپ کے حواریوں اور پھر ان کے بعد آنے والے تابعین نے عدم تشدد کی بنیاد پر امن کے پیغام کی سربلندی کے لیے کیا کیا مظالم نہ سہے اور کون سی قربانیاں نہیں دیں۔ مگر پھر آنے والے سالوں میں ریاست اور مسیحی نظریے میں اتحاد ہوگیا اور جدوجہد کا پیغام ایک نئے سٹیٹس کو اور رسوماتی جال میں پھنس گیا اور پھر آنے والی صدیوں میں پاپائیت نے بھی وہی شکل و حربے اختیار کئے جو کسی بادشاہت کے ہوتے ہیں۔

اسلام بھی انسان کے ہاتھوں انسان کے استحصال کے خاتمے کا اعلان تھا۔ رسول اکرم ﷺ نے رنگ، نسل، قبیلے اور خاندان کے تمام بت توڑ دیے تھے۔ مگر آپ کے پردہ فرمانے کے چند عشروں بعد وہی عصبیتیں نئے لباس پہن کر واپس آ گئیں۔ اقتدار نے پھر تقدس کا لبادہ اوڑھ لیا اور مذہب کو پھر سیاست کے دسترخوان پر بٹھا دیا گیا۔ شاید اسی لیے ہر دور میں مذہبی اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی اسٹیبلشمنٹ ایک دوسرے کی ضرورت بن جاتی ہیں۔ ایک اقتدار کو جواز دیتی ہے اور دوسری اسے مراعات دیتی ہے۔ ایک فتوے مہیا کرتی ہے اور دوسری جاگیریں۔ یوں عوام کی مزاحمتی روح کو تھپک تھپک کر سلا دیا جاتا ہے تاکہ کوئی نیا حسین سر نہ اٹھا سکے۔

سوال یہ نہیں کہ ہم کتنے جلوس نکالتے ہیں، کتنی مجالس کرتے ہیں یا کتنے ختم شریف پڑھتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کربلا کو یاد رکھا ہے یا صرف کربلا کی یاد کو؟ کیونکہ کربلا اگر صرف آنسو کا نام ہے تو اس دور کا یزید اور ہر دور کا یزید جیت گیا ہے۔ کربلا اگر صرف سوگ کا نام ہوتی تو تاریخ اسے بھول چکی ہوتی۔ کربلا دراصل ضمیر کی بیداری کا نام ہے۔ ظلم سہنے سے انکار کا نام ہے۔ شاید اسی لیے امام حسین کے روضے پر آج بھی سرخ پرچم لہراتا ہے۔

تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ سرخ رنگ کو سیاہ میں بدلنا بہت آسان ہے لیکن سیاہی پر دوبارہ سرخی چڑھانا بہت مشکل۔ پروین شاکرنے شاید اسی کیفیت کے لیے دعا مانگی تھی

پہروں کی تشنگی میں بھی ثابت قدم رہوں
دشتِ بلا میں روح مجھے کربلائی دے

Check Also

Hum Kya Jawab Dein Ge?

By Kiran Arzoo Nadeem