Wednesday, 17 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Shahid Nasim Chaudhry
  4. Wonder Boy Se Yakam July Tak: Sohail Warraich Ki Flop Filmein

Wonder Boy Se Yakam July Tak: Sohail Warraich Ki Flop Filmein

ونڈر بوائے سے یکم جولائی تک: سہیل وڑائچ کی فلاپ فلمیں

کالم نگاری نہایت ذمہ داری والا پیشہ ہے۔ بعض لوگ موسم کی پیش گوئی کرتے ہیں، بعض معیشت کا تجزیہ کرتے ہیں اور بعض ایسے ہوتے ہیں جو ہر دوسرے تیسرے مہینے حکومت کے رخصتی گیت گا کر قوم کو ذہنی ورزش کرواتے رہتے ہیں۔ ہمارے محترم سہیل وڑائچ صاحب بھی بلاشبہ اسی قبیلے کے ایک ممتاز فرد ہیں۔

ان دنوں ان کا ایک کالم زیرِ بحث ہے جس میں یکم جولائی کے بعد حکومت کے لیے خطرات کی گھنٹیاں بجائی گئی ہیں۔ اب یہ گھنٹیاں کہاں نصب ہیں، کون بجاتا ہے اور ان کی بیٹری کہاں سے آتی ہے، اس بارے میں کالم خاموش ہے۔ کالم نگار بھی لاعلم ہے۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ ہر چند ماہ بعد قوم کو ایک نیا الارم سننے کو مل جاتا ہے اور وہ ٹولہ جو اس خواہش کی امید لگائے بیٹھا ہے ان کو ایسا چورن ہنسی خوشی بیچ دیا جاتا ہے۔

خیر، سہیل وڑائچ صاحب کی پیش گوئیوں کا بھی اپنا ہی لیول ہے۔ قوم اب سیاسی تجزیوں کو سنجیدگی سے کم اور موسم کی پیش گوئی کی طرح زیادہ لیتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ محکمۂ موسمیات کبھی کبھار درست نکل آتا ہے! یکم جولائی آئے گا، گزر جائے گا، حکومت بھی شاید وہیں ہوگی، اپوزیشن بھی وہیں ہوگی اور سہیل صاحب اگلے کالم میں شاید اگست، ستمبر یا دسمبر کا کوئی نیا "خطرہ" دریافت کر چکے ہوں گے۔ بہرحال پاکستانی سیاست اور سہیل صاحب کی پیش گوئیوں میں ایک قدر مشترک ہے: دونوں اپنی غیرحقیقی تجزیاتی شعبدہ گری پر بھی شرمندگی محسوس نہیں کرتے۔ ، صرف نئی قسط کے ساتھ واپس آ جاتے ہیں! وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے فرمایا کہ سہیل وڑائچ صاحب کو اب ریٹائرمنٹ لے لینی چاہیے اور اپنی صحت پر توجہ دینی چاہیے۔

سہیل صاحب کا مسئلہ شاید یہ ہے کہ وہ سیاسی موسم کا حال بتاتے بتاتے خود موسم بن گئے ہیں۔ کبھی آندھی، کبھی بادل، کبھی دھند اور کبھی گرہن۔ ان کے بعض کالم پڑھ کر لگتا ہے کہ حکومتیں نہیں بلکہ دودھ کے پیکٹ ہیں جو ہر دوسرے دن ایکسپائر ہونے والے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر واقعی ہر پیش گوئی درست ہوتی تو پاکستان میں حکومتوں سے زیادہ کالم زندہ نہ ہوتے؟ لیکن عجیب اتفاق ہے کہ حکومتیں چلتی رہتی ہیں اور پیش گوئیاں اگلے کالم تک ملتوی ہو جاتی ہیں۔

مجھے بچپن کا وہ لڑکا یاد آتا ہے جو ہر صبح محلے میں اعلان کرتا تھا: "آج بارش ضرور ہوگی!"

اگر بارش ہو جاتی تو وہ اپنی کامیابی کا ڈھنڈورا پیٹتا اور اگر نہ ہوتی تو کہتا: "بادل تو آئے تھے، ہوا کا رخ بدل گیا"۔

سیاست میں بعض تجزیے بھی کچھ ایسے ہی ہوتے ہیں۔

شہباز شریف کی حکومت کے بارے میں بھی عرصے سے مختلف اندازے سننے کو مل رہے ہیں۔ لیکن حکومت کا حال اس مسافر جیسا ہے جو بس اسٹینڈ پر کھڑا ہو اور ہر پانچ منٹ بعد کوئی اسے بتائے کہ "ابھی تمہاری بس الٹنے والی ہے"، جبکہ بس مسلسل اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہو۔

ادھر عالمی سطح پر دنیا بھر کے 195 ممالک میں سےصرف اور صرف پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں، اقتصادی مذاکرات اور علاقائی معاملات پر گفتگو جاری ہے۔ دنیا بھر میں ایران امریکہ جنگ میں ثالثی پر پاکستان کے کردار کی تعریفیں ہو رہی ہیں اور یہ عزت صرف پاکستان کو حاصل ہوئی ہے۔۔ بہرحال حکومت اپنے انداز میں کام کر رہی ہے، اپوزیشن اپنے انداز میں تنقید کر رہی ہے اور ہمارے بعض تجزیہ نگار مستقبل کی ایسی خبریں سنا رہے ہیں جو ابھی مستقبل کو بھی معلوم نہیں۔

سہیل وڑائچ صاحب کے بعض کالم پڑھ کر یوں لگتا ہے جیسے وہ سیاسی تاریخ نہیں بلکہ سسپنس ناول لکھ رہے ہوں۔ ہر صفحے پر ایک نیا راز، ہر پیراگراف میں ایک نیا اشارہ اور ہر اختتام پر ایک نئی پیش گوئی۔

قاری بھی بیچارہ عجیب کشمکش میں رہتا ہے۔

وہ سوچتا ہے: "اگر یہ سب درست ہے تو پھر حکومت قائم کیوں ہے؟"

اور اگر حکومت قائم ہے تو پھر اگلا کالم کس بارے میں ہوگا؟

یہی وہ سوال ہے جس نے برسوں سے پاکستانی قاری کو مصروف رکھا ہوا ہے۔

محسن نقوی کے بیان کے بعد ایک اور دلچسپ بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا واقعی عمر کے اس حصے میں انسان کو صحافت پر کم اور صحت پر زیادہ توجہ دینی چاہیے؟

اس سوال کا جواب شاید ڈاکٹر ہی بہتر دے سکتے ہیں، لیکن اتنا ضرور ہے کہ سیاسی تجزیہ ایک ایسا شعبہ ہے جس میں نوجوانی میں آدمی پرجوش ہوتا ہے، ادھیڑ عمر میں محتاط ہو جاتا ہے اور بڑھاپے میں بعض اوقات اسے ہر سایہ انقلاب اور ہر افواہ تبدیلی محسوس ہونے لگتی ہے۔

بزرگوں نے کہا ہے کہ عمر کے آخری حصے میں انسان بچپن کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ بچہ کھلونوں سے کھیلتا ہے اور بعض بزرگ سیاسی امکانات سے۔ بچے کو لگتا ہے کہ اس کی کھلونا گاڑی چاند تک جا سکتی ہے اور بعض تجزیہ نگاروں کو لگتا ہے کہ ان کی پیش گوئی اگلے ہفتے پوری ہو جائے گی۔ دونوں اپنی اپنی جگہ خوش رہتے ہیں۔

یہ بھی ممکن ہے کہ سہیل صاحب آئندہ کالم میں لکھ دیں کہ حکومت خطرے میں نہیں بلکہ خطرہ حکومت میں ہے، یا حکومت خطرے کے قریب ہے، یا خطرہ حکومت کے قریب ہے، یا خطرہ خود خطرے میں ہے۔

آخر سیاسی تجزیے کی خوبصورتی ہی یہی ہے کہ اس میں ہر دروازہ کھلا رہتا ہے۔

شہباز شریف کے ناقدین اپنی جگہ موجود ہیں اور حامی اپنی جگہ۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ حکومتوں کے بارے میں پیش گوئیاں کرنا پاکستان کا سب سے محفوظ کاروبار ہے۔

اگر پیش گوئی درست نکل آئے تو آپ عظیم دانشور۔ اگر غلط نکل آئے تو حالات بدل گئے اور اگر بالکل الٹ ہو جائے تو "میرے ذرائع یہی بتا رہے تھے"۔

کیا ہی خوب پیشہ ہے!

میں تو سمجھتا ہوں کہ اگر پیش گوئیوں پر ٹیکس لگ جائے تو قومی خزانے کے کئی مسائل حل ہو جائیں۔

آخر میں سہیل وڑائچ صاحب کے لیے دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت، خوشی اور مزید کالم عطا فرمائے۔ کیونکہ پاکستانی سیاست اور سہیل وڑائچ کے تجزیے کا رشتہ بھی پرانے ریڈیو اور کرکٹ کمنٹری جیسا ہے، کبھی آواز صاف آتی ہے، کبھی شور زیادہ ہوتا ہے، مگر لوگ پھر بھی سنتے ضرور ہیں۔

البتہ یکم جولائی جب آ جائے گا تو قوم حسبِ روایت کیلنڈر پلٹے گی، چائے پئے گی، خبروں پر بحث کرے گی اور اگلے کالم کا انتظار شروع کر دے گی۔ کیونکہ پاکستان میں حکومتوں سے زیادہ مستقل چیز اگر کوئی ہے تو وہ سیاسی پیش گوئیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔

"ونڈر بوائے کی تلاش" سے لے کر یکم جولائی کے سیاسی زلزلے تک، سہیل وڑائچ صاحب کی پیش گوئیوں کا سفر خاصا مایوس کن رہا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ونڈر بوائےکی تلاش والی "فلم" بری طرح فلاپ ہوئی اور یکم جولائی کا خطرہ بھی دوربین سے نظر نہیں آ رہا۔۔ اس لئے محسن نقوی کی ریٹائرمنٹ والی بات میں کافی وزن ہے۔۔!

Check Also

Aik Nanhi Qabar Aur Bare Bare Jawaz

By Javeria Aslam