Karvi Goliyan
کڑوی گولیاں

مجھے بچپن میں بار بار بخار ہو جاتا تھا تو میری امی جان فوراََ رات کو کونین کی نہایت کڑوی دو گولیاں زبردستی کھلا دیتی تھیں اور اگر پھر بھی آرام نہ آتا تو ڈاکٹر بدر صاحب سے بخار کا انجکشن لگواتی تھیں جس کی سوئی کا درد اس انجکشن کے لگنے سے قبل ہی محسوس ہونے لگتا تھا۔ وہ تلخ اور کڑوی گولیاں اور تکلیف دہ انجکشن جب ہماری ماں خود ہمیں لگواتی تھی تو ان کے چہرئے تاثرات بتاتے تھے کہ گولی یا انجکشن تو مجھے لگ رہا ہے مگر تکلیف انہیں ہو رہی ہے۔ بعض اوقات تو انجکشن لگتے وقت وہ اپنا منہ دوسری جانب پھیر لیتی تھیں کیونکہ ان سے میری تکلیف دیکھی نہ جاتی تھی۔
آج جب میں اپنے بچوں کو انجکشن یا ڈرپ لگواتا ہوں یا کوئی سخت کڑوی گولی دیتا ہوں تو مجھے اب بھی اس تکلیف کے احساس سے بےاختیار اپنی ماں کے چہرئے پر پھیلا ہوا وہ درد یاد آجاتا ہے۔ بخار یا کسی تکلیف میں ماں کے نرم اور شفقت بھرئے ہاتھوں میں کونین کی گولی دیکھتے ہی ہم منہ پھیر لیتے، آنکھیں بند کر لیتے، روتے، ضد کرتے مگر ہماری ماں جانتی تھی کہ اس ایک لمحے کی تلخی آنے والے کئی دنوں کی راحت کا باعث ہوگی اس لیے وہ ہماری آنکھوں کے آنسو تو دیکھ لیتی تھی مگر ہماری بیماری کو بڑھتے نہیں دیکھ سکتی تھی۔
آج احساس ہوتا ہے کہ محبت کبھی کبھی نرمی نہیں بلکہ کڑواہٹ کا روپ بھی دھار لیتی ہے۔ وقت گزرا تو معلوم ہوا کہ ماں کی دی ہوئی گولیوں کی کڑواہٹ تو کچھ بھی نہ تھی زندگی میں تو بڑے بڑے کڑوئے گھونٹ پینے پڑتے ہیں۔ گو اس وقت ہمیں اپنی ماں پر غصہ بھی آتا تھا مگر وہ ہمارے غصے کی پرواہ کئے بغیر یہ گولیاں ہماری صحت یابی تک دیتی رہتی تھی۔
زندگی میں صرف بیماریاں ہی کڑوی گولیوں کی محتاج نہیں ہوتیں، ہمارے اباجی کہا کرتے تھے کہ کڑوئے گھونٹ اور کڑوی گولیاں چبائی نہیں جاتیں بلکہ نگل لی جاتی ہیں۔ زندگی کی بعض تلخ حقیقتیں بھی کونین کی طرح کڑوی ہوتی ہیں اگر ہم انہیں بار بار یاد کرکے دہرا کر اپنے ذہن میں چباتے رہیں تو ان کی کڑواہٹ پوری زندگی میں گھل جاتی ہے۔ دانائی یہی ہے کہ ماضی کی تلخیوں سے سبق لیا جائے مگر انہیں ہر لمحہ جینے کی سزا نہ بنایا جائے ورنہ چند تلخ لمحے پوری زندگی میں کڑواہٹ بکھیر دیتے ہیں۔
پھر زندگی نے ایک اور سبق دیا۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو کسی آزمائش، کسی محرومی، کسی ناکامی، کسی بیماری، کسی جدائی یا کسی ایسے دکھ سے گزارتا ہے جس کی وجہ ہماری سمجھ میں نہیں آتی، تو ہم بھی اسی بچے کی طرح شکوہ کرنے لگتے ہیں۔ ہم صرف اس لمحے کی تلخی محسوس کرتے ہیں، مگر وہ رب ہمارے کل کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کون سی آزمائش ہمیں ٹوٹنے سے بچا لے گی، کون سی محرومی ہمیں گناہ سے روک دے گی، کون سا نقصان کسی بڑے نقصان کے مقابلے میں رحمت بن جائے گا اور کون سا آنسو ہمارے دل کو ایسا پاک کر دے گا کہ ہم اس کے پہلے سے زیادہ قریب ہو جائیں۔ اکثر زندگی کی سب سے کڑوی گھڑیاں ہی انسان کی شخصیت کا سب سے خوبصورت باب لکھتی ہیں۔ جن راستوں پر ہم حسرت سے کھڑے رہ جاتے ہیں، کبھی انہی بند دروازوں کے پیچھے اللہ تعالیٰ نے ہماری حفاظت رکھی ہوتی ہے۔
بعض اوقات ہمارے باہمی رشتے بھی کڑوی گولی مانگتے ہیں۔ آج کے دور میں کسی بہن، بھائی، بیٹے، بیٹی یا کسی عزیز کو اس کے اپنے بھلے کے لیے کوئی ایسی بات کہنا جو اسے ناگوار گزرے، آسان کام نہیں ہوتا۔ محبت صرف میٹھی باتوں کا نام نہیں، بلکہ بعض اوقات سچ کی وہ کڑوی گولی بھی ہے جو وقتی طور پر دل کو دکھاتی ہے، مگر مستقبل کو سنوار دیتی ہے۔ تجربے کی روشنی میں دیا گیا تلخ مشورہ اکثر سننے والے کو تنقید محسوس ہوتا ہے، حالانکہ اس کے پیچھے برسوں کی ٹھوکریں، ناکامیاں، آنسو اور زندگی کے حاصل شدہ تلخ سبق چھپے ہوتے ہیں۔ جو شخص خود کانٹوں پر چل چکا ہو، وہ اپنے پیاروں کو اسی راستے پر بے خبر چلتے نہیں دیکھ سکتا۔
افسوس یہ ہے کہ آج کا انسان نصیحت کی مٹھاس اور اس کی مصلحت نہیں، صرف اس کی تلخی محسوس کرتا ہے۔ وہ یہ نہیں سوچتا کہ جو شخص اسے روک رہا ہے، وہ اس کی آزادی چھیننے نہیں بلکہ اسے کسی گڑھے میں گرنے سے بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسی لیے بڑوں بزرگوں کی ذمہ داری صرف محبت کرنا نہیں، بلکہ ضرورت پڑنے پر وہ کڑوی گولی بھی دینا ہے جو وقتی طور پر ناگوار لگے، مگر عمر بھر کے پچھتاوے سے بچا لے اور چھوٹوں کی سعادت یہ ہے کہ وہ ہر تلخ نصیحت کو دشمنی، تنقید یا طنز نہ سمجھیں، کیونکہ اکثر وہی باتیں، جو جوانی میں سب سے زیادہ بری لگتی ہیں، بڑھاپے میں سب سے زیادہ سچی ثابت ہوتی ہیں۔ آخرکار کڑوی گولی کا مقصد تکلیف دینا نہیں، شفا دینا ہوتا ہے اور مخلص نصیحت کا مقصد دل توڑنا نہیں، زندگی سنوارنا ہوتا ہے۔ جن خواہشوں کے پورا نہ ہونے پر ہم دل گرفتہ رہتے ہیں، کبھی وہی نامراد خواہشیں ہمارے ایمان، عزت اور مستقبل کی محافظ بن جاتی ہیں۔ یاد رکھیں کہ سچ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے کیونکہ اس کی کڑواہٹ ہی تریاق ہے۔
اس لیے زندگی کی ہر تلخی کو فوراََ سزا نہ سمجھیں۔ بعض اوقات یہ ربِ کریم کی وہ کڑوی دوا ہوتی ہے جو وہ اپنے محبوب بندوں کو اس لیے پلاتا ہے کہ وہ انہیں کسی ایسی بیماری، کسی ایسے زخم یا کسی ایسے انجام سے محفوظ رکھ سکے جسے انسان اپنی محدود نگاہ سے دیکھ ہی نہیں سکتا۔ یاد رکھیے، ماں کڑوی گولی محبت سے دیتی ہے اور ربِ کریم آزمائش بھی رحمت کے ساتھ دیتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ماں کی دوا کا اثر چند دن بعد ہی نظر آجاتا ہے۔ جبکہ بزرگوں کی نصیحت و ہدایت اور اللہ تعالیٰ کی حکمت کا راز کبھی چند مہینوں، کبھی کئی برسوں بعد کھلتا ہے۔ تب انسان بے اختیار کہہ اٹھتا ہے: اے میرے رب! جسے میں مصیبت سمجھتا رہا، وہ تو تیری رحمت کا ایک خاموش انداز تھا۔ سخت اور مشکل فیصلے پریشان تو ضرور کرتے ہیں لیکن ان کی افادیت ہمیشہ زندگی سنواردیتی ہے۔ جھوٹ بول کسی کو وقتی طور پر خوش کر دینے سےایسا سچ بول کر اسےناراض ہونے دینا بہتر ہوتا ہے جو اس کی زندگی سنوار دئے۔
اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں بیگانے بھی ناخوش
میں زہر ہلال کو کبھی کہہ نہ سکا قند

