معاملہ برازیل کی اپ سیٹ شکست کا

رات برازیل کی ناروے کے ہاتھوں شکست کے بعد میں نے پوسٹ کی اور اس میں اسے آپ سیٹ لکھا تو کمنٹس میں کئی لوگوں نے اس پر احتجاج کیا، بعض نے سخت اختلاف کیا اور چند ایک کا تو بس نہیں چل رہا تھا کہ مجھے اپنی پوسٹ سے یہ الفاظ ڈیلیٹ کرا کر ہی دم لیں۔
دراصل مسئلہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر ہر کوئی قلم کار بنا ہوا ہے، ہر ایک کی رائے ہے اور وہ اسے دھڑلے سے دوسروں پر تھوپ رہا ہے۔ انہیں کسی کی بات سے اختلاف ہو تو سرے سے اسے نااہل قرار دے دیتے ہیں۔ کچھ سمجھے بوجھے بغیر۔
بھیا جی پہلی بات تو یہ ہے کہ برازیل صرف ایک فٹ بال ٹیم ہیں، دراصل یہ اپنے اندر فٹ بال کی جادوئی دنیا سموئے ہوئے ہے۔ یہ پانچ بار کی ورلڈ چیمپین ٹیم ہے، مگر یہ بھی اس کا اصل تعارف نہیں۔ دراصل برازیل ہی نے فٹ بال کو دنیا بھر میں اپنے مخصوص جارحانہ، سٹائل اور تخلیقی انداز سے پاپولر کیا، جسے برازیلی مداح سامبا سٹائل کہتے ہیں۔ فٹ بال میں انٹرٹینمنٹ کا تصور برازیلی ٹیم کے بغیر کرنا ممکن ہی نہیں۔
اس سے بڑی بدنصیبی کیا ہوسکتی ہے کہ برازیل جیسی ٹیم کوارٹر فائنل تک نہ پہنچے۔ یہ ورلڈ کپ کا سب سے بڑا آپ سیٹ ہے۔ دراصل برازیل کا ہارنا ہمیشہ آپ سیٹ ہی ہے بے شک پیپرز میں مخالف ٹیم کتنی ہی تگڑی کیوں نہ ہو۔ ویسے تو پیپرز میں برازیل کی موجودہ ٹیم ناروے سے کم ہرگز نہیں تھی۔
میرے جیسے لوگ جنہوں نے فٹ بال کا جادو دیکھا۔ جنہوں نے پیلے کو تو نہیں دیکھا، مگر زیکو کو دیکھا۔ رونالڈو نزاریو، رونالڈینو کا جادو دیکھا۔ رابرٹو کارلوس کی طوفانی کک دیکھی، کاکا کا کھیل دیکھا۔ جس نے نیمار کا جادو بھی دیکھا۔ ان سے پوچھیں کہ برازیل کیا ہے اور اس کا ہارنا کتنا بڑا سانحہ ہے۔ ہمارے لئے یہ ہر لحاظ سےاپ سیٹ ہے۔
پچھلی پوسٹ پر ایک بدبخت دریدہ دہن نے اپنی جانب سے طنز کیا کہ خاکوانی صاحب لگتا ہے پہلی بار ورلڈ کپ دیکھ رہے ہیں اور اپنی ریچ بڑھانے کے لئے پوسٹیں کر رہےہیں۔ سوشل میڈیا پر ایسے بدبخت، نابکار، ملعون، زہریلے لوگوں کی کمی نہں جو کمنٹ کرتے ہی اسی لئے ہیں کہ ان بدبختوں کے سر پر بلاک کا ڈنڈا رسید کر بلاک ستان میں پھینک دیا جائے۔ وہ منحوس الملک بھی اسی انجام کو پہنچا۔
ایک اور کو میں نے جواب دیا کہ تم تب شائد لنگوٹ میں پھرتے ہوگے جب سے میں فٹ بال ورلڈ کپ دیکھ رہا ہو۔ مجھے بیاسی کا ورلڈ کپ یاد ہے، چھیاسی کا ورلڈ کپ تو گویا ہر میچ حفظ رہا۔ تب سے ہر ورلڈ کپ کو دیکھا۔ پچھلے بیس پچیس برسوں سے تو ہر ورلڈ کپ پر لکھتا رہا ہوں۔ میں تین بڑے اخبارات کا میگزین ایڈیٹر رہا ہوں۔ ہر فٹ بال ورلڈ کپ سے پہلےخصوصی ایڈیشنز شائع کراتا رہا۔ بعد میں تو پورے پورے سنڈے میگزین کے سپیشل ایشو ورلڈ کپ پر تیار کئے۔ ہر ورلڈ کپ پر کئی کالم لکھتا رہا ہوں۔ جب فیس بک نہیں تھی، تب سے میرا یہ کام چل رہا ہے۔ فیس بک پر بھی بےشمار تحریریں اس حوالے سے ہیں۔ پچھلے ورلڈ کپ میں میسی کے حوالے سے لکھے کالم تو میری کتاب خیال سرائے میں بھی ہیں۔
البتہ میری مصروفیات بہت زیادہ ہیں، بہت زیادہ متنوع ہیں تو میں سال بھر لیگز کو اس طرح فالو نہیں کرتا، البتہ باخبر رہتا ہوں کہ کہاں کیا چل رہا ہے۔ چیمپینز لیگ کو البتہ دیکھ لیتا ہوں، خاص کر اہم میچز۔
فٹ بال ہم نے کھیلی بھی ہے، گلی محلے کی سطح پر، کلب لیول پر۔ فٹ بال سے مگر محبت ہے، یہ بہت پسند ہے۔ کرکٹ بھی پسند ہے۔ ان دونوں کھیلوں سے محبت ہے تو ان پر لکھتا رہتا ہوں۔

