Monday, 27 July 2026
  1.  Home
  2. Nusrat Javed
  3. Bharti Gen Z Ke Hathon Modi Sarkar Ki Paspai

Bharti Gen Z Ke Hathon Modi Sarkar Ki Paspai

بھارتی "جین زی" کے ہاتھوں مودی سرکار کی پسپائی

گزشتہ چند دنوں سے بھارتی دارلحکومت میں دورِ حاضر میں جین-زی کہلاتے نوجوانوں نے مظاہروں کا سلسلہ شروع کررکھا تھا۔ رواں برس کے مئی میں ہوئے Neet(نیٹ)نام کے امتحان نے انہیں گھروں سے نکلنے کو مجبور کیا۔ مذکورہ امتحان سرکاری طورپر چلائے میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لئے میسر ایک لاکھ دس ہزار نشستوں کے حصول کی خاطر دیا جاتا ہے۔ 2026ء کے مئی میں 20لاکھ سے زیادہ طلباء نے اس میں حصہ لیا تھا۔ دوران امتحان سنسنی خیز انکشاف یہ ہوا کہ راجستھان کے علاوہ مہاراشٹر کے کئی شہروں میں بھی امتحانی پرچے لیک ہوچکے تھے۔

مذکورہ امتحان کے لئے سوالات مرتب کرنے والے چند اساتذہ نے "گیس پیپر" تیار کرکے مارکیٹ میں فروخت کئے۔ ان میں وہی سوالات پوچھے گئے تھے جو امتحانی پرچوں میں عیاں ہوئے۔ امتحانی سوالات مرتب کرنے والے چند اساتذہ پونہ جیسے شہروں میں بھاری بھر کم فیسوں کے ساتھ "کوچنگ سینٹر" بھی چلارہے تھے۔ "نیٹ" امتحان کی تیاری کے نام پر انہوں نے منافع کا بھرپور سیزن لگایا۔ امتحانی پیپرز لیک ہونے کی خبر نے لہٰذا پورے بھارت کے متوسط طبقے کو نسلی، مذہبی اور صوبائی تقسیم بھلاتے ہوئے بوکھلادیا۔

سرکاری میڈیکل کالجوں میں ایم بی بی ایس کی تیاری کرتے ہوئے طالب علموں کو سالانہ پانچ سے دس لاکھ بھارتی روپے خرچ کرنا ہوتے ہیں۔ نجی طورپر چلائے کالجوں میں اس ڈگری کے حصول کے لئے کم از کم دس گنا زیادہ رقم خرچ کرنا پڑتی ہے۔ اسی باعث ایک لاکھ دس ہزار نشستوں کے لئے 20 لاکھ سے زیا دہ طلبہ نے داخلے کے امتحان میں حصہ لیا۔ اس میں اکثریت ایسے طلبہ کی تھی جو یہ امتحان دوسری یا تیسری بار دے رہے تھے اور اس کی تیاری کے لئے انہوں نے وقت کے علاوہ اپنے ماں باپ کی محدود آمدنی کا کافی حصہ "کوچنگ سینٹروں " کی نذر کیا۔

امتحانی پیپر لیک ہوجانے کی خبروں سے وہ دل برداشتہ ہوگئے۔ ان کے والدین بھی خود کے ساتھ دھوکا دہی کی واردات کا صدمہ برداشت کرتے بلبلا اٹھے۔ سب نے یک زبان ہوکر مرکزی وزیر تعلیم کے استعفیٰ کے بعد صاف، شفاف تحقیقات کے ذریعے امتحانی سوالات لیک کرنے کے ذمہ داروں کی نشاندہی اور ان کے لئے عبرت ناک سزائوں کا مطالبہ کیا۔ مودی حکومت اپنے وزیر تعلیم کے دفاع میں ڈٹ گئی۔ 3مئی کے روز ہوئے امتحان کے نتائج منسوخ کرنے کے بعد نیا امتحان لیا گیا۔ محض چند افراد کے خلاف امتحانی سوالات لیک کرنے کے الزامات کے تحت رسمی انکوائری کا اعلان ہوا۔

دریں اثناء بھارتی سپریم کورٹ کے ایک جج نے اپنے روبرو پیش ہوئی ایک اپیل کی سماعت کے دوران بیروزگار نوجوانوں کو "کاکروچ(لال بیگ)" پکارا جو سوشل میڈیا پر بقول اس کے واہی تباہی پھیلاتے رہتے ہیں۔ اس کے حقارت بھرے الفاظ نے امریکہ کی ہوسٹن یونیورسٹی میں "ذہن سازی" کی تعلیم حاصل کرتے ایک بھارتی نوجوان کو انٹرنیٹ کے پلیٹ فارم استعمال کرتے ہوئے "کاکروچ جنتاپارٹی" کے قیام کے اعلان کو اُکسایا۔ اسے سی جے پی (CJP) پکارا جارہا ہے۔ اپنی بنائی جماعت کی پذیرائی سے متاثر ہوکر اس کا بانی امریکہ چھوڑ کر بھارت لوٹ آیا اور نوجوانوں کو پارلیمان کے گھیرائو کے لئے تیار کرنا شروع کردیا۔

نئی دلی میں پارلیمان کی جانب بڑھنے والے احتجاجی جلوس عموماََ جنترمنتر نامی ایک چوراہے سے شروع ہوتے ہیں۔ گزشتہ پیر کے روز بھارتی پارلیمان کا مون سون سیشن شروع ہوا تو دلی کے تقریباََ مرکز میں واقع جنتر منتر کو پولیس کی بے پناہ نفری نے گھیرے میں لے لیا۔ اس مقام کو پہنچانے والی میٹرو سروس معطل کردی گئی۔ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود ہزاروں طلباء احتجاج کے لئے وہاں پہنچ گئے تو پولیس نے انہیں گھیرکر بے دردی سے پیٹنا شروع کردیا۔ پولیس گردی کے انتہائی مراحل میں نوجوان بچیوں کو کئی پولیس والوں نے غلیظ گالیاں دیتے ہوئے جنسی درندوں کی زبان استعمال کی۔

آبادی کے اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے دعوے دار بھارت کے "24/7باخبر رکھتے" ٹی وی چینلوں کو مظاہرے کی رپورٹنگ سے روک دیا گیا۔ سوشل میڈیا مگر پل پل کی خبر دیتا رہا۔ اس پر قابو پانے کے لئے دلی کے تقریباََ70فی صد علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت معطل کردی گئی۔ تمامتر پابندیوں کے باوجود مگر مظاہرین نے حوصلہ نہ ہارا۔ پولیس گردی سے مشتعل ہوکر ایم بی بی ایس کے داخلے کے امتحان میں ہوئی ہیراپھیری کے خلاف ابھری یہ تحریک جین-زی کی اجتماعی تحریک بن گئی۔ جو نظامِ کہنہ سے اکتائی ہوئی ہے۔

مذکورہ تحریک پر نگاہ رکھتے ہوئے مجھے "عرب تحریک" یاد آگئی۔ 2011ء میں ابھری اس تحریک نے مگر بالآخر مصر اور تیونس جیسے ممالک میں آمرانہ نظام کو مزید سخت گیر بنادیا۔ مذکورہ انجام کو ذہن میں رکھتے ہوئے میں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر سادہ اور مختصر سوال فقط یہ پوچھا کہ بھارت کی حالیہ تحریک کا انجام عرب بہار جیسا تو نہیں ہوگا۔

میرا سوال ایکس پر پوسٹ ہوتے ہی نوجوانوں کی کثیر تعداد نے مجھ "بڈھے لفافے" کو یاد دلایا کہ کئی برسوں سے میں "ہائی برڈ نظام کا کارندہ" بن چکا ہوں۔ مجھ "بے ضمیر" کے خدشات کے برعکس بھارتی جین زی مودی حکومت کو بنگلہ دیش کی حسینہ واجد کی طرح فرار کو مجبور کردے گی۔ چند ماہ قبل نیپال کی جین-زی بھی انقلاب لاچکی ہے۔ بھارت کے بعد پاکستان کی باری ہے۔ اپنی عزت وجان محفوظ رکھنے کے لئے مجھے خاموشی اختیار کرنا ہوگی۔

میرے خاموش ہونے سے قبل ہی مگر بھارت کی جین زی کے کئی نامور حامی-مثال کے طورپر ارون دھتی رائے- خبردار کرنا شروع ہوگئے تھے کہ لوگوں پر کڑی نگاہ رکھنے کے جدید ترین آلات سے لیس مودی سرکار کاکروچ پارٹی کی چلائی تحریک کو عرب بہار کے انجام کی جانب دھکیلنے کو تلی بیٹھی ہے۔ ارون دھتی رائے کے علاوہ نوجوانوں کے پرخلوص ہمدرد مگر تجربہ کار صحافی مسلسل متنبہ کرتے رہے کہ بھارتی حکومت جنترمنتر کو مکمل گھیرے میں لینے کے بعد وہاں تک موبائل اور انٹرنیٹ کی رسائی ناممکن بناچکی ہے۔ مظاہرین کو کھانے پینے کی اشیاء فراہم کرنے والی دوکانیں بند کروانے کے ارادے ہیں۔ جنتر منتر میں جمع ہوئے مظاہرین کو اس علاقے تک محدود کرنے کے بعد روایتی اور سوشل میڈیا سے "غائب" کیا جارہاہے۔ دہلی کے70فیصد علاقوں میں انٹرنیٹ کام نہیں کررہا۔

مجھ "بڈھے لفافے" کے برعکس بھارتی صحافیوں اور لکھاریوں کی اکثریت مصر رہی کہ کاکروچ جنتا پارٹی کے چلائے احتجاج کی توانائی برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ اسے جنتر منتر تک محدود رکھنے کے بجائے پورے بھارت کے اہم شہروں تک پھیلایا جائے۔ سی جے پی کی قیادت نے ان کی پرخلوص رائے کا احترام کرتے ہوئے "بڈھوں " پر مایوسی پھیلانے کے الزامات لگانے کے بجائے پورے بھارت میں ایک روز بھرپور عوامی احتجاج کی کال دے دی۔ بھارت کے تقریباََ ہر شہر سے ملک گیر احتجاج میں شرکت پر آمادگی کا اظہار ہوا تو مودی حکومت جھکنے کو مجبور ہوگئی۔ وزیر تعلیم نے کئی ہفتوں تک مزاحمت دکھانے کے بعد مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔

وزیر تعلیم کے استعفیٰ کے بعد حکومت نے یقین دہانی کروائی ہے کہ جن طالب علموں نے نیٹ کے امتحان میں پیپر لیک ہونے کی وجہ سے خودکشی کی تھی ان کے خاندانوں کو مناسب زرتلافی فراہم ہوگا۔ دلی پولیس کے ان افسران کے خلاف بھی کارروائی ہوگی جنہوں نے مظاہرین پر وحشیانہ تشدد کا حکم دیا۔ مودی حکومت نے لچک دکھائی تو سی جے پی نے ملک گیر ہڑتال کی کال واپس لے لی۔ بھارتی جین زی "انقلاب" تو نہیں لاپائی مگر اپنے تمام مطالبات منوانے میں کامیاب ہوگئی اور مودی سرکار نے بھی خود کو بچالیا ہے۔ دونوں فریقین کی جانب سے دکھائی لچک نے ٹھوس پیغام یہ دیا ہے کہ پرخلوص مذاکرات ہی جمہوری نظام برقرار رکھنے کی واحد ضمانت ہے۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Doobta Hua Lahore

By Shahid Mehmood