Tuesday, 23 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Kasb e Kamal Kun: Baba Sultan

Kasb e Kamal Kun: Baba Sultan

کسبِ کمال کُن: بابا سلطان

كسب كمال كُن كہ عزيزِ جہان شوى
كس بے كمال ہيچ نيرزد، عزيزِ من!

دیہات کے پرانے ویہڑوں میں بعض لوگ صرف انسان نہیں ہوتے، پورا عہد ہوتے ہیں۔ ان کی چال، ان کی آواز، ان کا طرزِ زندگی، ان کی خاموشیاں، حتیٰ کہ ان کے استعمال کی چیزیں بھی وقت گزرنے کے بعد ایک داستان بن جاتی ہیں۔ بابا سلطان بھی ایسی ہی ایک داستان تھے۔ بابا پھتہ کے سب سے چھوٹے اور تیسرے بیٹے۔ عجیب بات یہ تھی کہ اس پورے خاندان میں اکثر لوگوں کے نام وقت کے ساتھ بدل گئے، کسی کا عرف پڑ گیا، کسی کا نام بگڑ کر مشہور ہوگیا، کسی کو محبت سے کسی اور نام سے پکارا جانے لگا، مگر بابا سلطان صرف بابا سلطان ہی رہے۔ نہ کوئی تخلص، نہ کوئی دوسرا نام۔ جیسے ان کی شخصیت میں ایک سادگی تھی ویسی ہی ان کے نام میں بھی تھی۔ لوگ انہیں سلطان، چاچا سلطان یا بابا سلطان کہہ کر پکارتے اور یہی نام ان کی پوری شناخت بن گیا۔ آواز ذرا اونچی تھی اور گفتگو میں ایک خاص قسم کی جلدی۔ بعض اوقات بات پوری طرح سمجھ نہ آتی اور ابلاغ میں رکاوٹ پیدا ہو جاتی، لیکن ان کی نیت، ان کا خلوص اور ان کی محنت اتنی واضح تھی کہ الفاظ کی کمی کبھی محسوس نہ ہوتی۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جو گفتگو سے زیادہ اپنے عمل سے پہچانے جاتے ہیں۔ ہر وقت مصروف، ہر وقت کام میں جتے ہوئے، جیسے زندگی ان کے نزدیک رکنے کا نام ہی نہ ہو۔

ہم نے ان کے ساتھ ایک طویل عرصہ گزارا اور شاید زندگی کے چند بڑے سبق انہی سے سیکھے۔ انہوں نے کبھی بیٹھ کر نصیحتیں نہیں کیں، لیکن ان کی پوری زندگی ایک عملی درسگاہ تھی۔ محنت کیسے کی جاتی ہے، وقت کو کیسے استعمال کیا جاتا ہے، تھکن کو کیسے شکست دی جاتی ہے، یہ سب ہم نے بابا سلطان کو دیکھ کر سیکھا۔ بابا پھتہ کا وہ تاریخی کچا کوٹھا، جس کی شہرت پورے علاقے میں تھی، وراثت میں بابا سلطان کے حصے میں آیا تھا۔ ہمیں کئی بار اس عظیم تاریخی کوٹھے کے اندر جانے، بیٹھنے اور اسے غور سے دیکھنے کا موقع ملا۔ وہ محض ایک کوٹھا نہیں تھا، ایک عہد کی نشانی تھا۔ اس کی چھت شہتیروں، وَرگوں، میروں، سَتھَر اور گارے کے پلستر پر قائم تھی۔ اندر ایک دیہی زندگی کی پوری تہذیب سانس لیتی محسوس ہوتی۔ کھیتی باڑی کے آلات، ہل، پنجالی، مانجے، ترینگل، کراہی، ڈانگیں اور سوٹیاں استعمال کے بعد چھت کے ساتھ رسیوں میں لٹکا دی جاتیں۔ یوں لگتا تھا جیسے ہر چیز اپنی جگہ پر خاموش کھڑی وقت کی گواہی دے رہی ہو۔ اس کوٹھے کی مٹی میں بابا پھتہ کی مہمان نوازی کی خوشبو بھی باقی تھی اور بابا سلطان کی محنت کی حرارت بھی۔

بابا سلطان کا گھر شاید تمام بھائیوں میں سب سے خوبصورت تھا۔ اگر بابا آحمُند کے گھر سے طلوعِ آفتاب کا دلکش منظر دکھائی دیتا تھا تو بابا سلطان کے ویہڑے میں غروبِ آفتاب اپنی پوری رعنائی کے ساتھ اترتا تھا۔ شام کے وقت سورج جب اپنی سرخ اور سنہری چادر پھیلاتا تو درختوں سے چھن کر آنے والی روشنی کچے کوٹھوں پر ناچتی محسوس ہوتی۔ وہ منظر آج بھی ذہن کے کسی روشن گوشے میں محفوظ ہے۔ ہم اکثر شام کے وقت صرف اس منظر کو دیکھنے بابا سلطان کے ویہڑے میں چلے جاتے۔ اس وقت وہ اپنے مویشیوں کے لیے ٹوکے سے چارہ کاٹ رہے ہوتے۔ ہاتھ مسلسل حرکت میں، زبان پر گفتگو جاری اور چہرے پر محنت کی چمک۔ اپنے اکلوتے بیٹے اور بیٹی سے باتیں کرتے رہتے۔ اس دور کے دیہاتی مردوں کی طرح اپنی بیگم سے گفتگو بہت کم کرتے تھے۔ محبت تھی، فکر بھی تھی، مگر اظہار کا انداز سخت تھا۔ ہم نے کئی بار انہیں بیگم کو ڈانٹتے دیکھا لیکن پیار سے بات کرتے کم ہی دیکھا۔ اس زمانے کی مردانگی شاید جذبات کے اظہار کو کمزوری سمجھتی تھی۔ ان کے تین نواسے بھی ان کے ساتھ رہتے تھے اور بابا ان سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ ان کی سخت آواز کے پیچھے ایک نرم دل دھڑکتا تھا جسے سمجھنے کے لیے ان کے قریب رہنا ضروری تھا۔

بابا سلطان کی زندگی میں خوشیاں بھی تھیں اور خاموش دکھ بھی۔ ان کی تین اولادیں تھیں، ایک بیٹا اور دو بیٹیاں۔ سب کی شادیاں ہوئیں، بچے ہوئے، لیکن زندگی ہر کسی کے لیے ایک جیسی آسان نہیں ہوتی۔ وٹا سٹا کی شادیوں نے بعض رشتوں میں تلخیاں پیدا کر دیں۔ ایک بیٹی اپنے تین بیٹوں کے ساتھ واپس بابا سلطان کے گھر آ بیٹھی جبکہ بیٹے کے بچے اپنی ماں کے ساتھ ننھیال میں رہنے لگے۔ یقیناً یہ سب بابا سلطان کے لیے ایک بڑا دکھ ہوگا، مگر انہوں نے کبھی اپنے چہرے پر ملال کو نمایاں نہ ہونے دیا۔ اس زمانے کے مرد اپنے دکھ چھپانے کے عادی تھے۔ غم کو اندر دفن رکھنا ہی غیرت اور خودداری سمجھا جاتا تھا۔ بابا سلطان بھی انہی لوگوں میں سے تھے۔ ان کے وسیع ویہڑے میں بیل، گائیں، بھیڑیں، بکریاں، مرغیاں اور ایک کھوتی بھی موجود تھی۔ ایک کونے میں ہینڈ پمپ لگا تھا جہاں سے پانی نکالا جاتا۔ صبح سے شام تک وہ کبھی مویشیوں میں مصروف ہوتے، کبھی کھیت میں ہل چلا رہے ہوتے اور کبھی فصلوں کی فکر میں گم۔ ان کی پوری زندگی مسلسل حرکت کا نام تھی۔ آرام شاید ان کی لغت میں موجود ہی نہ تھا۔

وقت گزرنے کے ساتھ بیماری نے انہیں آہستہ آہستہ گھیرنا شروع کیا۔ وہ اکثر علاج کے لیے میانوالی کے مشہور حکیم عبدالرحیم کے پاس جاتے۔ حکیم صاحب انہیں دوا دیتے اور سختی سے آرام کا مشورہ بھی دیتے۔ مگر بابا سلطان کے لیے آرام شاید موت سے کم نہ تھا۔ حکیم صاحب انہیں دیکھتے ہی ڈانٹتے، "توں جتنے تک بھڈاں نے کَن نہ چھڑیسیں، ٹھیک کونا تھیسیں"۔ بابا سلطان کھسیانی سی مسکراہٹ کے ساتھ خاموش ہو جاتے۔ دل ہی دل میں شاید یہی سوچتے ہوں گے کہ اگر وہ کام چھوڑ دیں تو گھر اور کھیت کیسے چلیں گے، بیٹا اکیلا کیسے سب سنبھالے گا۔ چنانچہ وہ دوا تو استعمال کرتے لیکن آرام کبھی نہ کرتے۔ کچھ دن بہتر ہوتے، پھر دوبارہ بیمار پڑ جاتے، پھر حکیم صاحب کے پاس حاضر ہو جاتے۔ ان کی زندگی گویا مسلسل جدوجہد کا دوسرا نام تھی۔

آخر ایک دن وہ وقت بھی آ گیا جب بابا سلطان خاموشی سے اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ نہ کوئی شور، نہ کوئی فریاد، نہ کوئی چیخ و پکار۔ چند دن بان کی منجی پر بیماری کے عالم میں لیٹے رہے۔ لوگ عیادت کے لیے آتے تو مسکرا کر کہتے، "پُتر میں بالکل وَل آں، توں چِنتا نہ کر"۔ وہ اپنے دکھ کو آخری لمحے تک دوسروں پر بوجھ نہیں بننے دینا چاہتے تھے۔ شاید یہی ان کی اصل عظمت تھی۔ وہ خاموشی سے جئے، خاموشی سے محنت کی اور خاموشی سے اپنے رب کے حضور حاضر ہو گئے۔ آج جب ان جیسے لوگ یاد آتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ اصل عظمت دولت، شہرت یا اختیار میں نہیں، بلکہ اس خاموش وقار میں ہوتی ہے جس کے ساتھ انسان اپنی پوری زندگی دوسروں کے لیے جیتا اور خود کو مٹی میں ملا دیتا ہے۔ اللہ بابا سلطان کی قبر کو نور سے بھر دے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔

Check Also

Hum Kya Jawab Dein Ge?

By Kiran Arzoo Nadeem