Wednesday, 17 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Rauf Klasra
  3. Hum Ke Thehre Ajnabi

Hum Ke Thehre Ajnabi

ہم کہ ٹھہرے اجنبی

سوموار کا دن عموماََ لوگوں کو برا لگتا ہے۔ مجھے بھی لگتا ہے۔ جو لوگ کام کرتے ہیں انہیں ویک اینڈ اچھا لگتا ہے نہ کہ ویک کا پہلا دن۔ لیکن صبح سویرے ایک پیکٹ کھول کر دل ہشاش بشاش ہوگیا۔ اندر سے مشہور لکھاری طارق محمود کا نیا ناول برآمد ہوا جو سنگ میل لاہور کے افضال صاحب نے چھاپا ہے اور خوب چھاپا ہے۔

کچھ عرصے قبل شاید ڈاکٹر انوار احمد نے اپنی کسی تحریر میں ذکر کیا تھا کہ طارق محمود مشرقی پاکستان/بنگلہ دیش کے پس منظر میں ناول لکھ رہے ہیں۔

دوبیوروکریٹس کی تحریریں مشرقی پاکستان یا بنگلہ دیش کے بارے ہمارے ہاں اہم سمجھی جاتی ہیں۔ ایک طارق محمود اور دوسرے اظہارالحق ہیں اور دونوں اکثر ان ایشوز کے بارے لکھتے رہتے ہیں۔

دونوں وہیں یونیورسٹی پڑھے یا وہیں سروس کی اور بنگالیوں کو بڑے قریب سے سمجھا اور جانا بلکہ بنگلہ دیش بننے کے بعد انہوں نے پاکستانیوں کو بنگالیوں سے آشنا کرنے کی خوب کوشش کی اور ان کا مقدمہ بھی لڑا۔ بنگالیوں کو ان دونوں کی تحریروں سے بھی جانا جاسکتا ہے۔

ڈاکٹر ظفر الطاف بھی سول سروس کا امتحان پاس کرنے کے بعد مشرقی پاکستان میں سروس کرتے رہے۔ انہیں تو بنگالی بولنی بھی آتی تھی۔ اپنے ایک بیچ میٹ کا واقعہ سناتے تھے جسے انہوں نے ایک دفعہ اس کی کسی نازیبا حرکت پر بنگالیوں سے بچایا تھا اور پاکستان واپسی پر وہ ساری عمر ان کے خلاف سازشیں کرتا رہا۔

طارق محمود نے ڈپٹی کمشنر/کمشنر سے زیادہ" اللہ میگھ دے" لکھ کر نام کمایا اور پھر ان کی کہانیاں سامنے آئیں۔ دو تین برس پہلے ان کی خودنوشت دام خیال آئی تو پوری پڑھی تو ان کی شخصیت کے بارے پورا اندازہ ہوا۔ وہ بھی پڑھنے کے لائق ہے۔

ناول آج رات شروع کروں گا لیکن جو مجھے دو تین باتیں پسند آئیں کہ اس ناول کو ناول کی طرح ہی چھاپا گیا ہے۔ اس پر دیباچہ یا فلیپ یا طارق محمود کا کوئی بڑا تعارف نہیں دیا گیا۔ بیک کور پر بھی طارق محمود کی ادبی کتابوں کا نام دے کر یہی تاثر دیا گیا ہے کہ آپ کسی سابق بیوروکریٹ کو نہیں پڑھ رہے بلکہ ایک ادیب کا ناول پڑھنے جارہے ہیں۔ میرے لیے یہ نئی بات تھی کہ انہوں نے راجندرسنگھ بیدی کی شہرہ آفاق کہانی "ایک چادر میلی سی" کا بھی انگریزی ترجمہ کیا ہوا ہے۔ میں ہمیشہ کہتا ہوں ترجمہ لہو مانگتا ہے چاہے انگریزی سے اردو میں کریں یا اردو سے انگریزی۔

ابھی بیٹھے بٹھائے ناول کھول کر ویسے ہی پڑھنا شروع کیا تو پڑھتا ہی چلا گیا۔ کہانی ہوتی بھی وہی ہے جو آپ کو شروع میں پکڑ لے۔ مشرقی پاکستان سے شروع ہونے والی کہانی پاکستان کے موجودہ نظام اور کرداروں تک آتے آتے دلچسپ ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

طارق محمود کو طویل سروس میں جو تجربات ہوئے اور اصلی زندگی کے جن کرداروں سے ان کا واسطہ پڑا ان کی جھلکیاں بھی اس ناول میں آپ کو ملتی ہیں اور مختلف ادوار کو بھرپور انداز میں سمایا گیا ہے۔

پاکستان میں شاید ہی اب ناول لکھے جاتے ہوں۔ افسانے لکھ کر جان چھڑا لی جاتی ہے۔ ناول لکھنا بھی ماہ و سال کے ساتھ ساتھ لہو مانگتا ہے۔

کبھی کبھار سال میں ایک آدھ ناول چھپ کر آتا ہو۔ ناول نگار حفیظ خان مسلسل لکھ رہے ہیں اور اچھا لکھ رہے ہیں۔ میں ان کے ناول "نواسی" کے رومانس میں ہوں حالانکہ اسے پڑھے کئی برس گزر گئے ہیں۔

طارق محمود نے اس ناول میں ماضی اور حال کو جوڑ دیا ہے۔ انہوں نے اب کھل کر بہت سارے متنازعہ موضوعات کو بھی چھیڑا ہے۔۔ انہوں نے حقیقی زندگی کے تکلیف دہ سالوں کو نئی زبان دی ہے۔ شیخ مجیب، جنرل نیازی سے جنرل مشرف تک دور تک کئی کردار آپ کو پڑھنے کو ملیں گے۔

بعض ناول نگار تاریخ کو خوبصورت کہانی بنانے کا فن خوب جانتے ہیں، طارق محمود کے اس نئے ناول میں وہ جھلک نظر آتی ہے۔

ابھی تو شروع کیا ہے، دیکھیں آگے کیا رکھا ہے۔

About Rauf Klasra

Rauf Klasra is a Pakistani journalist and Urdu language columnist. He files stories for both the paper and television whereas his column appears in Urdu weekly Akhbr-e-Jahaan and Dunya newspaper. Rauf was earlier working with The News, International where he filed many investigative stories which made headlines.

Check Also

Hum Ke Thehre Ajnabi

By Rauf Klasra