Muhabbat Verb Hai
محبت verb ہے

حامد پاکستان کے کارپوریٹ سیکٹر کا ایک معروف اور انتہائی مصروف بزنس مین ہے، جس کے دن کا بیشتر حصہ بڑی بزنس میٹنگز اور کاروباری فیصلوں میں گزرتا ہے۔ اس کی شادی کو پندرہ سال ہو چکے ہیں اور اس کی لائف پارٹنر معصومہ ایک باوقار ہاؤس وائف ہے۔ عام طور پر لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ پندرہ سال بعد اور اتنی کاروباری مصروفیت میں زندگی روٹین کا حصہ بن جاتی ہے، لیکن میں نے جب بھی ان کے نجی معاملات کو قریب سے ابزرو کیا، تو مجھے ان کے درمیان آج کے دور کی نوجوان نسل جیسا ایک جدید ترین، کلاسی اور فیشن ایبل رومانس دکھائی دیا۔
موسمِ بہار کی ایک دلنشین شام، جب وہ دونوں اپنے خوبصورت لان میں شام کی چائے پر بیٹھے ہوتے ہیں، تو میں اکثر دور سے ان کی محبت کو دیکھتا ہوں۔ وہ دونوں ایک دوسرے سے لاڈ بھری اٹکلیاں کر رہے ہوتے ہیں، ہنستے ہیں اور مسکراتے ہیں۔ اس دوران معصومہ جس کپ سے کافی یا چائے کا گھونٹ لیتی ہے، تھوڑی دیر بعد وہ دونوں محبت اور شرارت سے اپنے کافی کپس کو آپس میں ایکسچینج کر لیتے ہیں اور حامد بالکل اسی جگہ اپنے لب رکھ کر کافی پیتا ہے جہاں معصومہ کے لبوں کے نشان بنے ہوتے ہیں اور معصومہ بھی حامد کے کپ سے اسی طرح پیتی ہے۔ شام کے اسی دھندلکے میں جب حامد گھر لوٹتا ہے، تو وہ لاؤنج میں داخل ہوتے ہی اپنا مہنگا کوٹ اتارتا ہے، گھڑی سائیڈ پر رکھتا ہے، آستینیں چڑھاتا ہے اور کچن میں پاستا بناتی ہوئی معصومہ کے پاس جا کر مسکراتے ہوئے اس کا ہاتھ بٹانے لگتا ہے۔
گھر کے اندر ہی وہ دونوں اکثر اپنے لیے ایک نجی کینڈل لائٹ ڈنر کا اہتمام کرتے ہیں، جہاں دھیمی روشنی میں بیٹھ کر ان کے درمیان کوئی روایتی یا مصنوعی تکلف نہیں ہوتا، بلکہ وہ دونوں ہنستے ہوئے اور لاڈ سے ایک دوسرے کو اپنے ہاتھ سے نوالے کھلاتے ہیں۔ جب وہ کبھی باہر اکھٹے جاتے ہیں، تو حامد خود آگے بڑھ کر معصومہ کے لیے گاڑی کا دروازہ کھولتا ہے، اسے بٹھاتا ہے اور خود انتہائی احتیاط اور پیار سے گاڑی چلاتا ہے اور اگر کبھی مصروفیت کی وجہ سے وہ معصومہ کو اپنے پرسنل ڈرائیور کے ساتھ بھیجے، تو خود پیچھے رہ جانے پر ڈرائیور کو بڑی بے چینی اور فکر مندی سے سخت انسٹرکشنز دیتا ہے کہ "باہر سڑک پر بہت رش ہے، گاڑی کو بہت خیال، سکون اور احتیاط سے چلانا، میری بیوی کو سفر میں ذرا برابر بھی جھٹکا یا تکلیف محسوس نہ ہو"۔
ان دونوں کا ایک مشترکہ شوق گھڑ سواری بھی ہے۔ جب وہ ویک اینڈ پر فارم ہاؤس جاتے ہیں اور معصومہ کے لیے اونچے گھوڑے پر سوار ہونا مشکل ہوتا ہے، تو حامد بنا کسی جھجک کے زمین پر جھک کر اپنا گھٹنا آگے بڑھا دیتا ہے اور اپنے کندھے کا مضبوط سہارا دیتا ہے تاکہ معصومہ اس کے گھٹنے پر پاؤں رکھ کر آرام سے سوار ہو سکے۔ سفر کی تھکن یا کسی بات پر اگر معصومہ کا موڈ خراب ہو جائے اور وہ چڑچڑی ہو کر رونے لگے، تو حامد غصہ کرنے کے بجائے اسے محبت سے گلے لگا لیتا ہے اور اپنے ہاتھوں سے اس کے آنسو پونچھتا ہے۔
وہ گھر میں اسے اس کے اصل نام سے نہیں پکارتا، بلکہ اکثر وہ معصومہ کے چہرے کی رنگت کی وجہ سے کبھی اسے "پنکی" کہتا، کبھی اسے پیار سے کوئی اور نام کہتا اور خوبصورت ناموں سے بلاتا۔ کبھی وہ "میری پیاری" کہہ کر بات کرتا۔ وہ ہمیشہ اس کا وہ نام رکھتا جو اسے پیارا لگتا، جس سے وہ اور شرما جاتی اور اس کا روپ مزید نکھر جاتا۔ ان دونوں کو دیکھ کر یہ بالکل نہیں لگتا تھا کہ ان کی شادی کو اتنا عرصہ ہوگیا ہے، بلکہ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے کل ہی کی بات ہو۔ شام کو جب وہ دونوں سوسائٹی کے واکنگ ٹریک پر ہوتے ہیں، تو ایک دوسرے کو چیلنج کرکے باقاعدہ ریس (دوڑ) لگاتے ہیں اور پندرہ سال پرانی یادیں تازہ کرکے کھلکھلا کر ہنستے ہیں۔
ایک دن جب میں اپنے لان کے پودوں کی کٹائی اور کانٹ چھانٹ میں مصروف تھا، تو میری نظر ساتھ والے لان پر پڑی جہاں شام کی ایک آؤٹ ڈور سٹنگ (بیٹھک) کی تیاری ہو رہی تھی۔ حامد دن بھر کی تھکن کے باوجود معصومہ کا ہاتھ بٹانے کے لیے وہاں موجود تھا، وہ خود آگے بڑھ کر لان کی میز اور کرسیاں ترتیب دے رہا تھا اور شام کے اس خوبصورت سیٹ آپ کو فائنل کرنے میں مگن تھا۔ میں نے ابزرو کیا کہ معصومہ نہایت پیار اور فرطِ جذبات سے اسے دیکھ رہی تھی۔ وہ حیرت اور مان سے دیکھ رہی تھی کہ اتنا بڑا بزنس مین بھی اس کی خوشی کی خاطر یہ چھوٹے چھوٹے گھریلو کام اتنے چاؤ سے کر رہا ہے، جس کی وجہ سے حامد کے ماتھے پر پسینے کے چند قطرے موتیوں کی طرح چمک رہے تھے۔ حامد کے اس والہانہ پن کو دیکھ کر معصومہ کی آنکھوں میں ایک انوکھی چمک آ گئی اور وہ گہری محبت سے کہنے لگی: "حامد! تم کتنے پیارے ہو۔۔ اگر آج مرزا غالب یہاں ہوتے، تو میں ان کا یہ شعر خاص تمہارے لیے گنگناتی:
جان تم پر نثار کرتا ہوں
میں نہیں جانتا دعا کیا ہے!
معصومہ کے منہ سے اس رومانوی انداز میں یہ شعر سن کر حامد کو اس پر اتنا پیار آیا کہ میں نے دیکھا اس نے اپنا سارا کام وہیں چھوڑ دیا۔ وہ آگے بڑھا اور نہایت نرمی سے معصومہ کے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں کے پیالے میں تھاما، اس کی پیشانی کو چوما اور محبت میں ڈوبے لہجے میں کہا: "معصومہ! تمہارے اس خوبصورت شعر اور محبت بھری بات سے مجھے اتنی خوشی ہوئی ہے کہ میرے پورے دن کی ساری تھکن پل بھر میں مٹ گئی ہے"۔
اور میں نے اکثر ان دونوں کو دیکھا کہ وہ سردیوں کی شاموں میں ایک ہی کمفرٹر(کمبل) میں لپٹے ہوئے لاؤنج میں بیٹھ کے ٹی وی کا کوئی پسندیدہ پروگرام دیکھ رہے ہوتے یا آپس میں خوش گپیوں اور باتوں میں مصروف ہوتے اور پھر حامد دن بھر کی فکری ٹینشنز اور تھکن کو بھلا کر اپنا سر معصومہ کی گود میں رکھ دیتا اور سکون سے اپنی آنکھیں موند لیتا۔ پندرہ سال بعد بھی ان کی محبت کا لمس ایک نئے نویلے جوڑے کی طرح بالکل تازہ اور اچھوتا محسوس ہوتا ہے۔
میں اپنے پڑھنے والے نوجوانوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہ جو پوری کہانی میں نے اوپر لکھی ہے، یہ میں نے احادیثِ مبارکہ سے روایت لی ہے تاکہ میں آج کے دور کی انسانیت کو بتا سکوں کہ اگر آج کے دور میں ان احادیث پر عمل ہو تو کیسا سیناریو یا منظر نامہ بنے گا۔ ذیل میں، میں آپ کو ان جتنی باتیں میں نے اس پیراگراف میں کہی ہیں، ان سے منسلک احادیث تفصیل سے بتاتا ہوں:
کھانے پینے میں بے تکلفی اور ایک برتن کا استعمال:
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں جب کسی برتن سے پانی پیتی، پھر وہی برتن رسول کریمﷺ کو دیتی تو آپﷺ اپنا منہ مبارک بالکل اسی جگہ رکھتے جہاں سے میں نے پیا ہوتا تھا۔ اسی طرح جب میں ہڈی سے گوشت نوچ کر کھاتی، پھر وہ ہڈی آپﷺ کو دیتی تو آپﷺ اپنا لبِ مبارک اسی جگہ لگاتے جہاں میں نے لگائے ہوتے تھے۔ (صحیح مسلم)
گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹانا:
حضرت عائشہؓ سے پوچھا گیا کہ رسول کریمﷺ گھر میں کیا کرتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ آپﷺ اپنے گھر والوں کی خدمت (گھر کے کام کاج) میں مصروف رہتے تھے، اپنے کپڑوں پر خود پیوند لگا لیتے، اپنا جوتا خود گانٹھ لیتے اور اپنے گھر کا کام خود کر لیا کرتے تھے۔ (صحیح بخاری)
بیوی کو اپنے ہاتھ سے نوالہ کھلانا:
رسول کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم جو کچھ بھی اللہ کی رضا کے لیے (اپنے اہل و عیال پر) خرچ کرتے ہو، اس پر تمہیں اجر دیا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ نوالہ بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتے ہو، اس پر بھی تمہیں ثواب ملتا ہے۔ (صحیح بخاری)
سفر میں سواری پر بٹھانا اور پردے کا خیال رکھنا:
غزوہ خیبر سے واپسی پر رسول کریمﷺ نے حضرت صفیہؓ کو اپنے اونٹ پر اپنے پیچھے بٹھایا۔ آپﷺ نے اپنی مبارک عبا (چادر) ان کے گرد لپیٹ دی اور انہیں اپنے ساتھ اس طرح محفوظ فرما کر سواری چلائی۔ (صحیح بخاری)
سفر میں آرام کا خیال اور ساربان کو ہدایت:
ایک سفر میں جب اونٹ تیز چل رہے تھے اور ان پر ازواجِ مطہرات سوار تھیں، تو رسول کریمﷺ نے ساربان (حداں) سے فرمایا کہ ان شیشوں (عورتوں) کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرو۔ آپﷺ نے عورتوں کی نزاکت کو شیشے سے تشبیہ دی۔ (صحیح بخاری)
سواری پر چڑھنے کے لیے گھٹنا مبارک پیش کرنا:
جب حضرت صفیہؓ اونٹ پر سوار ہونے لگیں، تو رسول کریمﷺ نے زمین پر جھک کر اپنا مبارک گھٹنا آگے بڑھا دیا تاکہ حضرت صفیہؓ اپنا پاؤں آپﷺ کے مبارک گھٹنے پر رکھ کر اونٹ پر سوار ہو سکیں۔ (صحیح بخاری)
بیوی کے آنسو پونچھنا اور دلاسا دینا:
ایک سفر کے دوران حضرت صفیہؓ پیچھے رہ جانے کی وجہ سے رو رہی تھیں، تو رسول کریمﷺ خود ان کے پاس تشریف لائے، اپنے مبارک ہاتھوں سے ان کے آنسو پونچھے اور ان کی دلجوئی فرمائی۔ (سنن نسائی)
خوبصورت اور پیار بھرے ناموں سے پکارنا:
رسول کریمﷺ حضرت عائشہؓ کو محبت سے ان کا نام چھوٹا کرکے "عائش" پکارتے تھے اور کبھی ان کے حسنِ جمال اور چہرے کی رنگت کی وجہ سے انہیں "حمیراء" (سرخی مائل گوری) کہہ کر پکارتے تھے۔ (صحیح بخاری / سنن نسائی)
تفریح اور دوڑ کا مقابلہ کرنا:
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک سفر کے دوران رسول کریمﷺ نے میری دلجوئی کے لیے میرے ساتھ باقاعدہ دوڑ کا مقابلہ فرمایا، جس میں پہلی بار میں آگے نکل گئی اور کچھ سال بعد جب میرا وزن بڑھ گیا تو آپﷺ جیت گئے اور مسکرا کر فرمایا کہ عائشہ! یہ اس پہلی بار کا بدلہ ہے۔ (سنن ابی داؤد)
بیوی کی تعریف پر خوش ہونا اور پیشانی چومنا:
جب حضرت عائشہؓ نے چہرہِ انور پر چمکتے پسینے کے قطروں کو دیکھ کر رسول کریمﷺ کی تعریف میں عرب کا مشہور خوبصورت شعر پڑھا، تو آپﷺ اتنے خوش ہوئے کہ اپنا کام چھوڑ کر ان کے پاس تشریف لائے، ان کی پیشانی کو چوما اور فرمایا کہ عائشہ! جتنا تم مجھے دیکھ کر خوش ہوئیں، اس سے کہیں زیادہ میں تمہاری یہ باتیں سن کر خوش ہوا ہوں۔ (دلائل النبوۃ للبیہقی)
ایامِ مخصوصہ میں بھی آغوش میں سر رکھنا:
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں جب مخصوص ایام سے ہوتی، تب بھی رسول کریمﷺ محبت کا اظہار فرماتے ہوئے میری گود میں سر مبارک رکھ کر آرام فرماتے اور قرآن کی تلاوت کرتے تھے۔ (صحیح بخاری)
رات کے وقت ایک ہی چادر یا لحاف کا استعمال:
حضرت میمونہؓ فرماتی ہیں کہ رات کو آرام کے وقت رسول کریمﷺ میرے ساتھ ایک ہی لحاف یا چادر میں تشریف فرما ہوتے اور قربت اختیار فرماتے۔ (صحیح مسلم)
رسول کریمﷺ کو قرآن مجید نے فرمایا ہے کہ آپﷺ کا خلق سب سے اعلیٰ ہے اور آپﷺ نے خود فرمایا کہ میں اخلاق کی تکمیل کے لیے آیا ہوں۔ تو اخلاق سب سے پہلے گھر اور خاندان سے شروع ہوتا ہے۔ اگر آپ کا اخلاق آپ کی اپنی بیوی اور آپ کے بچوں کے لیے نہیں ہے، تو پھر آپ دنیا میں جتنے بھی اخلاق والے ہوں، آپ نے کچھ نہیں کمایا۔
آج بھی یہ سنتیں جو میاں بیوی کے درمیان محبت بڑھاتی ہیں، مکمل طور پر عمل کے قابل ہیں اور ان پر عمل کرکے ہی آپ اپنی زندگی کو خوشنما اور خوبصورت بنا سکتے ہیں اور اپنے گھر کے ماحول کو تروتازہ رکھ سکتے ہیں۔
میں آپ سب دوستوں سے، اپنے تمام پڑھنے والے مرد اور خواتین سے ایک سوال پوچھتا ہوں: آپ نے آخری مرتبہ اپنے خاوند یا بیوی کو "میں تم سے پیار کرتا ہوں" یا "مجھے تم سے محبت ہے" کب کہا تھا؟ آپ نے ایک دوسرے کو اپنے ہاتھ سے کھانا کب کھلایا تھا؟ اور جس کپ سے آپ کی بیوی یا خاوند چائے پی رہا تھا، اس کپ میں بالکل اسی جگہ پر منہ لگا کر آپ نے کب چائے یا پانی پیا؟ جب آپ باہر سے تھکے ہارے لوٹے ہوں، تو آخری مرتبہ آپ نے یہ کب کیا تھا کہ دنیا بھر کی فکری ٹینشنز کو بھلا کر اپنی بیوی کی گود میں سر رکھ دیا ہو؟ یا جب کوئی خاتون دن بھر کے کاموں سے تھک کر واپس لوٹی ہو، تو اس نے اپنے خاوند کی گود میں سر رکھ کر سکون سے اپنی آنکھیں موند لی ہوں؟
اگر آپ نے زندگی کی گہما گہمی میں اب تک ایسا نہیں کیا، تو میری آپ سے گزارش ہے کہ ایک مرتبہ بطورِ سنت اس پر عمل کرکے دیکھیں، آپ کا گھرانہ محبت اور سکون کا گہوارہ بن جائے گا۔
یاد رکھیے کہ محبت (Love) ایک ورب (Verb) ہے نہ کہ کوئی ناؤن (Noun)۔ یہ متواتر، مسلسل اور عملاً کرکے دکھانے کا نام ہے، جو صرف زبانی جمع خرچ یا یہ سوچنے سے کبھی مکمل نہیں ہوتا کہ سالہا سال اس کا اظہار نہ کیا جائے اور بس دل میں یہ سوچ کر بیٹھ رہا جائے کہ ہم دونوں کو ایک دوسرے سے محبت ہے۔ محبت تو اپنے ماتھے کے پسینے، ہاتھوں کے نوالے اور آغوش کے لمس سے بار بار ثابت کرنے کا نام ہے۔
آپ کہیے اگر تم اللہ سے محبت کے دعویدار ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تمہیں اپنا محبوب بنا لے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم فرمانے والا ہے۔۔ (آل عمران ایت 31)

