Friday, 10 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Zafar Syed
  4. Ghair Madari Zuban

Ghair Madari Zuban

غیر مادری زبان

ایک ایسی زبان کا تصور کیجیے جس کے لکھنے والے ادیبوں کی اکثریت کی مادری زبان کچھ اور ہو لیکن ذریعۂ اظہار یہ زبان ہو۔ یعنی وہ سوچتے کسی اور زبان میں ہیں، خواب کسی اور زبان میں دیکھتے ہیں، ماں سے بات کسی اور زبان میں کرتے ہیں، لکھتے اسی زبان میں ہیں جو انہوں نے بچپن میں آس پاس کے ماحول سے سن کر نہیں سیکھی، بلکہ کتابوں میں پڑھ کر اور میڈیا پر سن کر سیکھی ہے۔

ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ایسے لکھنے والے اس زبان کے تمام کونوں کھدروں، سایوں، کھنڈروں، ویرانوں، دشتوں، محفلوں، مجلسوں تک رسائی رکھتے ہیں؟

یہ زبان اردو ہے۔

18ویں اور 19ویں صدیوں میں اردو بڑی حد تک دلی اور لکھنؤ تک محدود رہی، پھر اس زبان نے آگے بڑھ کر پنجاب تک رسائی حاصل کی۔ سب سے پہلے اقبال نے جھنڈے گاڑے، پھر جلد ہی پنجاب کے دوسرے ادیبوں نے علم تھاما اور اردو ادب پر چھا گئے۔

پنجاب اور خاص طور پر لاہور کے اردو کا تیسرا بڑا دبستان بننے کی وجوہات تو سب کو معلوم ہیں۔ 57 کے ہنگاموں کے بعد جب دلی اجڑی تو محمد حسین آزاد اور الطاف حسین حالی کی طرح بہت سے ادیب شاعر یہاں اتر آئے۔ گورنمنٹ کالج کے پہلے پرنسپل ڈاکٹر گوٹلیب لائنٹر کی زیرِ نگرانی یہاں ادبی سرگرمیاں شروع ہوگئیں جنہوں نے اردو ادب کا دھارا موڑنے کی کوشش کی۔

ایک اور معاملہ یہ ٹھہرا کہ 1849 میں پنجاب کو غصب کرنے کے بعد چار پانچ برس کے اندر اندر انگریزوں نے یہاں کی سرکاری زبان فارسی کی بجائے اردو مقرر کر دی۔ اکثر انگریز انتظامی افسر یو پی کے علاقوں سے آئے تھے اور اردو سے واقف تھے، دوسری وجہ یہ کہ بہت سے انگریز یہ سمجھتے تھے کہ اردو دراصل پنجابی ہی کی ارتقا یافتہ شکل ہے۔

نتیجہ یہ نکلا کہ پنجاب میں اردو کا جو اکھوا پھوٹا وہ جلد ہی چھتنار کی شکل اختیار کر گیا۔ بیسویں صدی میں یہاں جو جو گل کھلے، ان کی مہک آج بھی پورے برصغیر میں پھیلی ہوئی ہے۔

شاعری میں علامہ اقبال، فیض احمد فیض، ن م راشد، میرا جی، مجید امجد، منیر نیازی، ساحر لدھیانوی، ظفر اقبال، احمد مشتاق، حفیظ ہوشیار پوری، حفیظ جالندھری، ابنِ انشا، باقی صدیقی، ضیا جالندھری، احمد فراز (ہندکو) وغیرہ ایسے نام ہیں، جو تازگی، تنوع اور جدت کے لحاظ سے اپنی مثال آپ ہیں۔

نثر میں تو کمال ہی ہوگیا۔ اگر پہلے پانچ افسانہ نگاروں کی درجہ بندی کریں تو ان میں سے کم از کم چار پنجابی نکلیں گے: منٹو، بیدی، غلام عباس، کرشن چندر۔ ان سے ایک سیڑھی نیچے احمد ندیم قاسمی، اوپندر ناتھ اشک، بلونت سنگھ، رام لعل، اشفاق احمد، بانو قدسیہ، اے حمید، انور سجاد، سریندر پرکاش، منشا یاد، رشید امجد، ممتاز مفتی، پطرس بخاری (ہندکو)، ابن انشا، کرنل محمد خان وغیرہ۔

ناول نگاروں میں عبداللہ حسین، بانو قدسیہ، اشفاق احمد، جمیلہ ہاشمی، اکرام اللہ، مستنصر حسین تارڑ، مرزا اطہر بیگ، علی اکبر ناطق، اختر رضا سلیمی وغیرہ اہم ادیب ہیں۔

ان سب مصنفوں کی اردو پہلی نہیں، دوسری زبان ہے۔ ان میں سے کسی کی ماں، نانی، دادی اردو نہیں بولتی تھی۔ ان کے محلے کے بچوں کی پہلی زبان اردو نہیں تھی۔ انہوں نے اردو سکول میں سیکھی، یا کتابوں میں پڑھی۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ لوگ اردو کی تمام نزاکتوں، لطافتوں اور کیفیتوں پر اہلِ زبان کی طرح حاوی ہو سکتے ہیں؟ کیا انہیں اردو پر ویسی ہی دسترس حاصل ہو سکتی ہے جیسی انہیں اپنی مادری پنجابی، ہندکو وغیرہ پر ہے؟

اس کا جواب ہے، نہیں۔

اور یہی وہ نکتہ ہے جس کی بنیاد پر اردو دنیا کی زبانوں میں انوکھی ٹھہرتی ہے، کہ پچھلی سوا صدی کے دوران اس زبان کے بیشتر بڑے ادیب وہ تھے جن کی یہ مادری زبان نہیں تھی۔ کیا کوئی تصور کر سکتا ہے کہ عربی، ہسپانوی، چینی، جاپانی، روسی یا انگریزی کے ساٹھ ستر فیصد بڑے ادیبوں کی پہلی زبان کچھ اور ہو؟

ایسا بھی نہیں ہے کہ مادری زبان کے علاوہ کسی اور زبان کو ذریعۂ تخلیق نہیں بنایا جا سکتا۔ بالکل بنایا جا سکتا ہے۔ ہمارے سامنے اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ انگریزی میں نباکوف بڑا سٹائلسٹ مانا جاتا ہے، کونریڈ نے عمدہ ناول لکھے، سلمان رشدی کی انگریزی نثر کمال کی ہے۔ لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ دوسری زبانیں بولنے والوں نے انگریزی پر اس طرح سے دو تہائی اکثریت، حاصل کر لی ہو، جیسے پنجابی بولنے والوں نے اردو کی قومی اسمبلی میں حاصل کی ہے۔

مادری زبان میں لکھنے والے ادیب کو ایسی کیا سہولت حاصل ہوتی ہے جو دوسری یا تیسری زبان میں لکھنے والے کو نہیں ہوتی؟

عام طور پر بچہ اپنی زندگی کے ابتدائی دس بارہ برس کے دوران بغیر کسی محنت کے، خودکار طریقے سے زبان پر مہارت حاصل کرکے تقریباً ہر قسم کے پیچیدہ خیالات پیش کرنے پر قادر ہو جاتا ہے، طنز، طعنے اور مزاح کو سمجھنے لگتا ہے اور سوائے تخصیصی شعبوں کے، اتنا ذخیرۂ الفاظ اکٹھا کر لیتا ہے جو زندگی بھر کے لیے کافی ہوتا ہے۔ عمومی طور پر یہی وہ عمر ہوتی ہے جس کے بعد وہ کسی دوسری زبان پر کامل مہارت حاصل نہیں کر پاتا اور چاہے کتنی بھی کوشش کرے، لہجے پر مکمل عبور حاصل نہیں کر سکتا۔ (شاید اس کے برعکس استثنائی مثالیں مل جائیں، لیکن ظاہر ہے کہ عمومی رجحان کی بات ہو رہی ہے۔)

میں نے اوپر رواروی میں خودکار طریقے سے زبان سیکھنے کا ذکر دیا، اسے کھولنے کی ضرورت ہے، جس سے یہ مقدمہ زیادہ وضاحت سے سامنے آ جائے گا۔

مادری زبان سیکھنے کا عمل فطری ہے، یہ پہاڑے یاد کرنے، ڈرائنگ سیکھنے یا سائیکل چلانے جیسا عمل نہیں ہے۔ زبان کے ماہرین اسے اکتساب اور سیکھنے، کا فرق قرار دیتے ہیں۔ گیارہ بارہ برس کی عمر تک بچہ زبان سیکھتا نہیں، بلکہ اس کا اکتساب کرتا ہے۔ یہ ایک جبلی، خودکار اور لاشعوری عمل ہے جس میں ذہن اردگرد کے ماحول سے زبان کی ساخت، صرف و نحو، محاورے، روزمرہ اور لہجے کو خود بخود سپنج کی طرح جذب کرتا جاتا ہے۔

البتہ بلوغت کے آس پاس ذہن کا یہ انجذابی دور ختم ہو جاتا ہے اور دماغ کی ساخت کچھ یوں بدلتی ہے کہ اس کے بعد زبان کا اکتساب نہیں کیا جا سکتا بلکہ پکی عمر میں زبان کو شعوری طور پر سیکھنا، پڑتا ہے، اس مقصد کے لیے ریاضت کرنا پڑتی ہے، گھٹنے موڑ کے بیٹھنا پڑتا ہے، گرامر کے اصول ذہن نشین کرنا ہوتے ہیں، الفاظ یاد کرنا ہوتے ہیں، وغیرہ۔ ایک چیز جبلی ہے، قدرتی ہے، دوسری اختیاری ہے، باہری ہے۔

ظاہر ہے یہ ارادی محنت جبلی اکتساب کی برابری نہیں کر سکتی۔ گویا، بچپن میں زبان سیکھنے کی سعادت بزورِ بازو نیست۔

بولنے والی زبانیں چھوڑیں، یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ اشاروں کی زبان بھی اگر بچپن میں سیکھی جائے تو بچے اہلِ زبان، بن جاتے ہیں اور اگر کوئی بڑی عمر میں اشاروں کی زبان سیکھے (مثلاً گویائی سے محروم بچوں کے والدین) تو اس کے اشاروں کے لہجے، میں اسی طرح کا اجنبی پن آ جاتا ہے، جیسا دوسری زبان سیکھنے والوں میں ہوتا ہے اور اہلِ زبان، اسے آسانی سے پہچان سکتے ہیں۔

کہنے کی ضرورت نہیں کہ دوسری زبان سیکھنے کا کشٹ اس وقت نسبتاً آسان ہو جاتا ہے جب مادری زبان اور دوسری زبان قریب قریب ہوں، جیسے پنجابی، ہندکو، ہریانوی، اودھی وغیرہ اردو سے قریب ہیں، اس لیے ان زبانوں سے آنے والے ادیبوں کو اردو سے نحوی اعتبار سے مختلف زبانوں (مثلاً پشتو والوں یا پھر جیسے انگریزوں) پر قدرتی فوقیت ضرور حاصل ہو جاتی ہے، لیکن ہم جن موشگافیوں کی بات کر رہے ہیں، وہ پھر بھی انہیں سیکھنا پڑتی ہیں۔

ایک اور بات کی وضاحت بھی ضروری ہے۔ ایسا ہرگز نہیں کہ ہر اہلِ زبان لازمی طور پر اچھا ادیب بھی بن سکے۔ اسے بہرحال اپنی منتخبہ صنف کے اصول، قواعد اور روایت سیکھنا پڑیں گے، فن کی مشق بہم پہنچانا پڑے گی، اس صنف کے ماہرین سے فیڈ بیک لینا ہوگی، غرض وہی پلیتھن نکالنا پڑے گا جو غیر اہلِ زبان کا نکلتا ہے۔ اس میں کوئی شارٹ کٹ نہیں۔ البتہ اسے بہرحال اہلِ زبان ہونے کے ناطے ایک قسم کی سبقت حاصل رہے گی۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے 26 میل کی میراتھان ریس میں ایک ایتھلیٹ کو سو گز کی برتری دوڑ شروع ہونے سے پہلے ہی دے دی جائے۔ یہ برتری ضرور ہے، مگر بقیہ کے 26 میل اسے بھی باقیوں کی طرح خود دوڑنا پڑیں گے۔

بیسویں صدی میں رہتے ہوئے آپ اشرف صبوحی، شاہد احمد دہلوی، مرزا فرحت بیگ، عصمت چغتائی، انتظار حسین، محمد حسن عسکری، نیئر مسعود، سید محمد اشرف وغیرہ کی اردو پڑھیے۔ آپ کو لگے گا کہ وہ عام سی بات میں بظاہر بغیر محنت کیے وہ چٹخارہ، وہ کھنک پیدا کر دیتے ہیں جو غیر اہلِ زبان کوشش کرکے بھی نہیں لا سکتا۔ لائے گا بھی تو بناوٹی لگے گا۔

وہ جو کہتے ہیں کہ ڈیمو دینا ضروری ہے تو ایک مثال دیکھ لیجیے۔ اشرف صبوحی اپنے خاکے میر باقر علی، میں لکھتے ہیں:

غدر کے بعد سے دلی پر کچھ ایسی ساڑھ ستی آئی کہ اول تو پرانے گھروں کا نام و نشان ہی مٹ گیا۔ نہ مکان رہے نہ مکیں۔ سارا شہر ہی بارہ باٹ ہوگیا اور جن کی نال نہیں اکھڑی، وہ پیٹ کی خاطر تتر بتر ہوئے۔ روٹی کی تلاش میں جس کو دیکھو خانہ بدوش۔ بارہ برس ہوئے ملازمت کے سلسلے میں دیس نکالا جو ملا تو دلّی کی صورت دیکھنی نصیب نہیں ہوئی۔ وہ تو خدا بھلا کرے بادشاہ سلامت کا، نہ وہ دلی میں دربار کرتے نہ میرا یہاں آنا ہوتا۔ تقدیر میں ایک مرتبہ پھر دلی دیکھنی تھی آ گیا ورنہ یوں ہی روزی کی اَلسیٹ میں ترستا ہوا مر جاتا۔۔

آپ کہیں گے یہ تو بہت پرانی بات ہوئی، تو اپنے زمانے سے قریب انتظار حسین کی نثر دیکھیے:

میری نانی اماں نے تو خیر مغلوں کا سکہ بھی دیکھا تھا مگر میں نے بچپن میں بس دو سکے دیکھے۔ ملکہ کی اکنی جو بہت گھس گئی تھی اور جارج پنجم کا روشن اور ابھری مورت والا پیسا۔ اب یہ دونوں سکے ٹکسال باہر ہیں۔ حالانکہ عظیم انسان، کی اصطلاح اب بھی چالو ہے۔ اصطلاحیں استعارے اور تصورات سکے ہوتے ہیں۔ اپنے وقت میں خوب چلتے ہیں۔ وقت کا سکہ بدلتا ہے توان کی بھی قیمت گر جاتی ہے۔ مگر وضع دار لکھنے والے اپنے لفظ، استعارے، ترکیبیں اور تصورات پتھر پہ بجا کے نہیں دیکھتے اور انہیں چالو سمجھ کر آخر دم تک استعمال کرتے رہتے ہیں۔۔

آپ دیکھیے کہ ان اقتباسوں کی اردو میں جو مٹھاس ہے، وہ ناقابلِ تقلید ہے۔ صرف لفظ نہیں، ان کی نشت و برخاست، جملوں کا آہنگ، صوتیات کی موسیقی، محاورے کا کرارا پن، یہ ساری چیزیں مل کر عجیب تاثیر پیدا کر دیتی ہیں۔

ان صاحبِ طرز، صاحبِ اسلوب ادیبوں کو پڑھ کر پتہ چلتا ہے کہ اچھی نثر صرف قواعد، الفاظ اور محاورے دہرانے کا نام نہیں۔ اچھی نثر لاتعداد غیر شعوری فیصلوں کا مجموعہ بھی ہے۔ کون سا لفظ کہاں بھاری محسوس ہوتا ہے، کہاں ہلکا، کس ترتیب میں جملہ زیادہ قدرتی لگتا ہے، کہاں طنز کا تناؤ پیدا ہوتا ہے، کہاں بےساختگی آتی ہے، کہاں تصنع سر اٹھانے لگتا ہے۔ اہلِ زبان یہ فیصلے عموماً سوچ کر نہیں کرتے، جیسے کوئی ماہر موسیقار ہر سر گن کر نہیں لگاتا بلکہ صحیح سر خود بخود وجدانی طور پر اختیار کر لیتا ہے۔

اس ساری صورتِ حال کو ذہن میں رکھ کر آپ اب دیکھیے کہ اردو کا مرکز جب دلی اور لکھنؤ کے گلی کوچوں سے ہجرت کرکے پنجاب کے شاداب میں پہنچا تو اس سے اردو ادب تو بلاشبہ ثروت مند ہوا، لیکن اردو محاورے اور روزمرہ پر زک پڑی۔ جب پنجابی بولنے والے ادیبوں نے اردو کو ذریعۂ اظہار بنایا تو اس کے ذخیرۂ الفاظ، قواعد، اسالیب اور اصناف پر عبور حاصل کر لیا، لیکن عمومی بات کی جائے تو اکا دکا استثنائی مثالوں کو چھوڑ کر زبان کی وہ مقامی اور گھریلو دھڑکن نہیں اپنا سکے، جو مادری زبان میں ہوتی ہے۔ کہاوتیں، ضرب الامثال، محاورے اور روزمرہ دالان، صحن اور گلی محلوں میں جنم لیتے ہیں اور یہ وہ جگہیں تھیں جہاں پنجابی ادیبوں نے اردو نہیں، پنجابی سنی اور بولی تھی۔

منٹو، بیدی اور غلام عباس نے جو کردار لکھے ان کی نفسیات کو تو پکڑ لیا، لیکن ان کرداروں سے جو اردو بلوائی وہ سیدھی، عملی اور کتابی اردو تھی، اس میں اہلِ زبان کے کرداروں کے لہجے کا کرارا پن قدرتی طور پر مفقود ہوگیا۔ یہ کمی خاص طور پر عورتوں کی زبان میں دیکھی جا سکتی ہے۔ عصمت چغتائی، واجدہ تبسم یا قرۃ العین حیدر کی خواتین چٹخارے دار زبان بولتی ہیں، ان کا مخصوص محاورہ و روزمرہ، ان کے رنگارنگ کوسنے، ان کے الجھاوے سلجھاوے آپ کو پنجابی ادیبوں کے ہاں نہیں ملے گی۔

یہ تو معاملہ ہوا اردو بولنے والے کرداروں کے ساتھ۔ جب یہی ادیب اپنے مقامی کرداروں سے اردو بلواتے تھے تو مزید مسائل سر ابھارنے لگتے تھے۔ مثال کے طور پر ٹوبہ ٹیک سنگھ کا جاٹ سکھ یا وادیِ سون سکیسر کا مالی جب اردو بولتا ہے، تو ادیب کے سامنے یہ مشکل ہوتی ہے کہ اس سے کس قسم کی زبان بلوائے۔ کردار لکھنوی اردو بولے تب مسئلہ ہے، سیدھی سادی زبان بولے تو مکالموں کی مدد سے کردار کو مصور کرنے کا موقع ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔

لیکن ایسا نہیں ہے کہ غیر اہلِ زبان ادیبوں نے اردو کو نقصان ہی نقصان پہنچایا۔ بلکہ عملی طور پر اس کے بالکل الٹ ہوا کہ غیر اہلِ زبان والوں کی وجہ سے اردو کی ثروت مندی میں اضافہ ہوا۔

وہ اس لیے کہ اردو جو صرف دو شہروں، یا ان کے آس پاس کے چند قصبوں کی اشرافیہ، کی زبان تھی، وہ لاکھوں مربع کلومیٹر پر پھیلے علاقوں، متنوع ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں اور بالکل مختلف پس منظر والوں کے فن کے اظہار کا وسیلہ بن گئی۔ یہ تمام لوگ اپنی مختلف حساسیت لے کر اردو ادب کے میدان میں آئے اور اس کے اسالیب میں اضافہ کرنا شروع کر دیا۔

اگر بیسویں صدی میں بھی اردو دو ڈھائی شہروں تک محدود رہتی تو اس میں کسی طور وہ پھیلاؤ، تنوع، رنگارنگی اور ہم مشربی پیدا نہ ہو سکتی جو آج اس کا خاصہ ہے۔

پنجابی ادیب ایک تو کردار نئے لے کر آئے جو اہلِ زبان ادیبوں کی پہنچ سے دور تھے (مثلاً منٹو کا بشن سنگھ، بلونت سنگھ کا جگا)، ساتھ ہی ساتھ انہوں نے نیا ماحول بھی تخلیق کیا (مثلاً قاسمی کا رئیس خانہ، بیدی کے ایک چادر میلی سی کا کوٹلہ، منشا یاد کی کچی پکی قبریں کا گاؤں، علی اکبر ناطق کے قائم دین کا اوکاڑہ)۔

اب زبان کا معاملہ دیکھیے۔ چونکہ غیر مقامی ادیبوں کا اردو ادب پر غلبہ ہوگیا، اس لیے انہوں نے ارادی یا غیر ارادی طور پر زبان بدلنا شروع کر دی۔ وہ پنجاب کی کھردری، کیچڑ سے اٹی اور دھوپ سے چکاچوند حقیقت کو بیان کرنے کے لیے ایک الگ قسم کی اردو لے کر آئے۔ پھر انہوں نے اپنے مادری محاورے اردو میں شامل کرنا شروع کر دیے، جس نے زبان کا رنگ ہی بدل دیا۔ شروع میں تو بہت ناک بھوں چڑھائی گئی۔ اقبال نے بندہ، آدمی کے معنی میں استعمال کر دیا ہے۔ پنجابی ادیبوں میں مجھے جانا ہے، کی بجائے میں نے جانا ہے، وغیرہ لکھنا شروع کر دیا ہے۔ لیکن رفتہ رفتہ یہ حرفِ جنوں سب کی زبان ٹھہر کر معیاری بنتا گیا۔

یہ غیر مقامی ادیب دلی کے گھروں کی کھری اور مقامی زبان کی نبض کبھی نہیں پکڑ سکتے تھے کیونکہ انہوں نے اس زبان کو جیا ہی نہیں تھا۔ لیکن مقامی روزمرہ سے آزاد ہونے کے بعد وہ اردو کو ایک ایسی مضبوط، معیاری اور جدید زبان بنا سکے جو عالمی ادب، جدید نظریات اور گہرے نفسیاتی کرب کا بوجھ اٹھا سکنے کے قابل ہو سکی۔

ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان غیر اہلِ زبان نے اردو میں نئی نئی تحریکوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ آپ دیکھیں کہ افسانہ مغرب سے آیا تو اسے شدت و حدت سے پنجابی ادیبوں نے اختیار کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے کہاں سے کہاں لے گئے۔ اسی طرح آزاد نظم نے لکھنؤ یا دلی میں جڑیں نہیں پکڑیں، اسے پنجاب کے زرخیز دریاؤں نے سینچا۔ روایتی غزل کہنے والوں نے شروع شروع میں اس نئے انداز پر کیا کیا پتھر نہیں برسائے، مگر یہ دیوانے اس شور کو نظر انداز کرکے اپنا راگ الاپتے رہے اور رفتہ رفتہ قبولِ عام حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

اسی طرح جدید غزل کے فروغ میں بھی لاہور کا جو حصہ ہے، وہ ڈھکا چھپا نہیں ہے۔

یہ معاملہ صرف پنجاب اور پنجابی تک محدود نہیں رہا۔ ہمارے پاس کئی دوسرے ایسے نام ہیں جہاں مصنف گھر میں کچھ اور زبان بولتے تھے، لکھتے اردو میں تھے۔ ان میں منشی پریم چند (اودھی)، فراق گورکھپوری (اودھی)، ناصر کاظمی (ہریانوی)، شفیق الرحمٰن (ہریانوی)، مشتاق احمد یوسفی (مارواڑی)، انور شعور (مالوی)، وارث علوی (گجراتی)، قتیل شفائی (ہندکو)، زیتون بانو (پشتو)، امیر حمزہ شنواری (پشتو)، مرزا قلیچ بیگ، شیخ ایاز، امر جلیل (سندھی) کو بھی شامل کر سکتے ہیں۔

اردو میں یہ خصوصیات اس لیے پیدا ہوئیں کہ وہ علاقائی زبان نہیں تھی، بلکہ قدیم ہی سے اسے لنگوا فرانکا کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ اسی وجہ سے غیر مقامی ادیبوں نے بھی اسے کھلے دل سے قبول کیا۔

دنیا کی سب سے بڑی لنگوا فرانکا ظاہر ہے کہ انگریزی ہے۔ اس میں بھی دوسری زبانوں والے دل کھول کر لکھ رہے ہیں۔ ہم نے اوپر ایسے ہی چند ادیبوں کا ذکر کیا تھا۔ ان میں آپ چنوا اچیبے، اینگوگی وا تھیونگو، ارندھتی رائے، اروند اڈیگا، محمد حنیف، وکرم سیٹھ، ہا جن، یی یون لی، جھمپا لاہڑی، خالد حسینی، ایلف شفق وغیرہ کے نام شامل کر سکتے ہیں۔

ظاہر ہے کہ ان سب ادیبوں نے مل کر انگریزی کو مزید مالامال کیا ہے۔ اب جس رفتار سے دنیا بھر انگریزی کو اختیار کیے جا رہی ہے اور یہ کروڑوں بلکہ اربوں لوگوں کی دوسری زبان بنتی چلی جا رہی ہے، مستقبل قریب اردو کی طرح انگریزی پر بھی غیر اہلِ زبان کا غلبہ ہو جائے تو تعجب نہیں ہونا چاہیے۔

***

آخر میں ہم گھوم پھر کر پھر اپنے پہلے سوال پر واپس آتے ہیں: کیا وہ لوگ جنہوں نے اپنی ماں سے اردو لوری نہیں سنی تھی، وہ اردو کی تمام نزاکتوں، لطافتوں، ذائقوں، کھٹاس مٹھاس تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں؟

جواب اب بھی وہی ہے: نہیں۔ منٹو کبھی وہ اردو نہیں لکھ سکتے تھے جو اشرف صبوحی نے لکھی۔ صبوحی کی برتری اپنے میدان میں مکمل تھی، مگر اس میدان کی حد بھی وہی تھی، دلی کے دالان، اس کے بھربھرے در و دیوار اور ان کے سائے میں رہنے والے زندہ کردار۔

لیکن اسی سکے کا دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ صبوحی بھی کبھی وہ نہیں لکھ سکتے تھے جو منٹو نے لکھا۔ منٹو نے اپنا اکھاڑا خود کھودا۔ دونوں اپنے اپنے میدان کے پہلوان تھے، دونوں دوسرے کے میدان میں کمزور تھے، لیکن اردو کو دونوں کی طاقت پوری کی پوری مل گئی۔

Check Also

Ghair Madari Zuban

By Zafar Syed