Friday, 10 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Sarfraz Saeed Khan
  4. Pakistan Mein Barhte Hue Khandani Masail Aur Unka Mumkina Hal (4)

Pakistan Mein Barhte Hue Khandani Masail Aur Unka Mumkina Hal (4)

پاکستان میں بڑھتے ہوئے خاندانی مسائل اور اُن کا ممکنہ حل (4)

اوماہا، نبراسکا ہمارا امریکہ میں پہلا گھر تھا۔ سپرنگ ایکڑز نامی بڑا شاندار اور دلکش اپارٹمنٹ کامپلکس تھا جس میں بہت سے میڈیکل اسٹوڈنٹس یا ریزیڈنٹس رہتے تھے۔ کرئیٹین یونیورسٹی میڈیکل سینٹر دس بارہ منٹ کی ڈرائیو پر تھا۔ انہی دنوں میں ایک نوجوان اور خوبصورت نو بیاہتا جوڑے سے ملاقات ہوئی۔ اُن کا نام جم اور ماریا سمجھ لیجئیے۔ بہت جلد ماریا امبر سے بہت گُھل مل گئیں اس میں اُن کی ملنسار طبیعت کا بھی ہاتھ تھا لیکن امبر بھی اپنے ہمسائیوں کو بنا ہوا کھانا بھیجنے میں بہت فراخ دل تھیں۔ جم ملازمت کر رہے تھے بہت نفیس طبیعت کے نوجوان تھے۔ ماریا ابھی پڑھ رہی تھیں۔ ہمارے اپارٹمنٹ کامپلکس کی کار پارکنگ ہمارے گھر کے بالکل ساتھ ہی تھی اور ماریا کار پارک کرکے واپس گھر جاتے ہوئے ہمارے گھر کے سامنے سے ہی گزرتی تھیں اور رُک بھی جاتی تھیں۔ امبر کھانا آفر کرتیں اور وہ بخوشی قبول کر لیتیں اور امبر کو جب اندازہ ہوتا کہ جب وہ بہت تھکی ہوئی ہوتی ہیں تو جم کیلئے کھانا ساتھ کر دیتیں۔

جم کے ماں باپ ملنے آتے تھے اور ماریہ کا خاندان بھی آتا جاتا۔ ایک دن جم کے ماں باپ اُن کے پاس آ کر ٹھہرے اور گھر میں کچھ تلخی ہوگئی۔ سب سے پہلے جم کی والدہ تیز قدموں سے چلتے ہوئے جا کر کار میں بیٹھ گئیں اور چند منٹوں کے بعد والد صاحب بھی جاتے ہوئے دیکھا۔ رات اوماہا میں ہوٹل میں ٹھہرے۔ اگلے دن دونوں واپس آئے اور آ کر بہو سے تعلقات ٹھیک کئیے اور واپس چلے گئے۔ یہ ساری باتیں ماریا نے امبر کو بتائیں۔ انا ہار گئی۔ رشتہ بچ گیا اور دل جیت لئیے گئے۔ آخری جیت کسی انسان کی نہیں تھی بلکہ اس خاندان کی بحثیت خاندان جیت ہوئی۔ اب بھی جم اور ماریا کا ہر سال اپنے خاندان کی تصویر کے ساتھ ایک کاغذ لکھا ہوا آتا ہے کہ اس سال کیا ہوا اور یہ امریکہ بھر میں ایک عموم ہے کہ سال کے اختتام پر اپنے قریبی دوستوں کو ایک تصویری کارڈ اور سال بھر کی مصروفیات لکھ بھیجتے ہیں۔ اگر اس دن والدین بہو کے سامنے کھڑے ہو جاتے تو شاید تلخی جم اور ماریہ کے رشتے کو تہس نہس کر ڈالتی۔

آپ اگر مسلمان ہیں تو آپ کو دین پر یقین رکھنا ہے اور یہ جاننا ضروری ہے کہ سارے انسانی رشتوں میں صرف ایک رشتے کا سوگ تین دن سے زیادہ بڑھا دیا گیا اور وہ رشتۂ عروس ہے جس میں شوہر کیلئے عدت کی عزت اور احترام رکھا گیا۔ زیادتی وہاں بھی روا نہیں لیکن احترام واجب ہے۔

اس رشتے میں شانہ بشانہ چلنا اہم ہے۔ مرد ضرور قوام ہیں اور ان کو ایک درجہ فضیلت ہے لیکن رشتہ عروس میں داخلے کے وقت بھی دونوں ہی کی مرضی اہم ہے اور دونوں کو ہی یہ جاننا چاہییے کہ اُن کی سرخ لکیر کہاں ہے۔ نہ شوہر کو بدتہذیبی کا حق ہے اور نہ ہی اہلیہ کو۔ نہ شوہر گھر سے باہر رکھیل تلاش کر سکتا ہے اور نہ ہی اہلیہ بعد از رشتہ ازدواج دوست ڈھونڈ سکتی ہیں۔

شرعی طور پر شادی کے بعد شوہر اور اہلیہ کو ایک گھر بنانا ہے اور اُن کو یہ مکمل حق حاصل ہے کہ وہ الگ رہیں لیکن معاشرتی طور پر یہ ہر وقت ممکن نہیں ہوتا۔ بعض علماء کے نزدیک گھر کا ایک حصہ مختص کر دینا کافی ہے لیکن یہ میرا آج کا موضوع نہیں ہے لہذا آپ میں سے بہت جذباتی لوگ فی الحال جھگڑا موقوف کر سکتے ہیں۔

ایک دن آپ کے والدین بوڑھے بھی ہوں گے اور آنے والے سالوں میں آپ بھی عمر رسیدہ ہوں گے۔ شوہر یا اہلیہ میں سے دونوں ہی محبت سے اپنے والدین کی خدمت کی ضرورت محسوس کریں گے۔ اس وقت لامحالہ طور پر اُن کو آپ کے ہاں رہنا ہوگا اور کوئی بھی محبت کرنے والی اہلیہ اپنے شوہر کو تکلیف میں دیکھنا پسند نہیں کرتیں۔ اگر آپ نہیں رکھیں گے تو وہ تکلیف اٹھائیں گے اور آپ ثواب سے محروم ہوں گے۔

حیران کُن طور پر خاتون کے والدین جب بھی اپنی بیٹی کے گھر رہیں وہ خوشگوار اور پرسکون ماحول رکھنے کی کوشش کرتے ہیں البتہ وہی والدین صاحبزادے کے گھر بہو کے ساتھ لنکا ڈھا دیتے ہیں۔ یہ گفتگو ساری اولاد، رسان سے کرنے کی اہلیت رکھتی ہے اور یہ بات خوشدلی سے کی جا سکتی ہے۔ اگر مسئلہ حل نہ ہو تو پیشہ ورانہ "فیملی کاؤنسلنگ" یہاں ہی کام آتی ہے۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ ہمارے پاس کیا کرنے کے مواقع ہیں۔ سب سے پہلی فارسی کی ایک کہاوت ہے کہ "زهر افعی بر لبهایشان است۔ اُن کے ہونٹوں کے پیچھے سانپ کا زہر ہے"۔

اپنی زبان کو خوشگوار بنائیے۔ یاد رکھئیے کہ دنیا میں زیادہ تر لوگ ردعمل بھی دیتے ہیں اور نرمی سے پگھل بھی جاتے ہیں۔ جہاں والدین کو آنے والی بہو کا خوش مزاجی سے استقبال کرنا ہے وہاں نوبیاہتا جوڑے پر بھی کچھ اخلاقی ذمہ داریاں ہیں اور اس میں سب سے پہلی ذمہ داری رحمت سے ایک ایسے ماں باپ کو دیکھنا ہے جو اپنی زندگی کی آخری حدوں پر ہیں۔ آگے بہت کچھ دکھائی بھی نہیں دیتا اور جسم کی طاقتیں رفتہ رفتہ ساتھ چھوڑ رہی ہیں۔

اُن کی کچھ باتیں غیرمناسب بھی ہوں گی لیکن ہر نیکی کا ثواب بھی بہت ہے۔ وہ آپ کے بالواسطہ رشتہ دار ہیں لیکن آپ کے بچوں کے اُن رشتہ داروں میں آتے ہیں جن کا خیال کرنے پر بہت سے اجر کے ساتھ ساتھ مالی خوشحالی اور لمبی عمر کے وعدے ہیں۔ یاد رکھئیے کہ آپ کے لئیے آپ کے بچوں کی کامیابی سے بڑھ کر کچھ نہیں اور یہ آسان راستہ آپ کے بچوں کو لمبی زندگی اور کھلا رزق دے سکتا ہے۔

انس بن مالکؓ نے کیا کہ میں نے سنا رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے کہ جو شخص اپنی روزی میں کشادگی چاہتا ہو یا عمر کی درازی چاہتا ہو تو اسے چاہئیے کہ صلہ رحمی کرے۔ (صحيح البخاری۔ کم و بیش مفہوم)

سیکھنے کے بھی مختلف ذریعے ہیں اور دیکھ بھال کر سیکھنا بھی اس میں ہی آتا ہے۔ آپ کے بچے بھی آپ کو دیکھ اخلاقیات اور صلۂ رحمی سیکھ رہے ہیں۔ پاپا مرحوم کی طبیعت جب بہت بگڑ گئی تو بھی وہ ہمارے ساتھ تھے اور میرے گھر سے ہی وفات پائی۔ ایک دن میں اور امبر کہیں بڑے بوڑھوں کے نرسنگ ہوم میں جانے کا عمومی ذکر کر رہے تھے اور ہمارا بڑا صاحبزادہ محمد جو مشکل سے گیارہ بارہ برس کا تھا، گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہنے لگا کہ پاپا آپ نے دادا کو نرسنگ ہوم نہیں بھیجا۔ ہم بھی آپ کو نرسنگ ہوم نہیں جانے دیں گے۔ یقین جانئیے میں دنگ رہ گیا۔

کیا آپ کا اچھا رویہ آپ کے بُرے رشتوں کو بہتر کر سکتا ہے؟ practicing Muslims کیلئے قران کی ایک آیت ہے سورۂ فصلت۔ آیت نمبر 34

وَ لَا تَسۡتَوِی الۡحَسَنَۃُ وَ لَا السَّیِّئَۃُ ؕ اِدۡفَعۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ فَاِذَا الَّذِیۡ بَیۡنَکَ وَ بَیۡنَہ، عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہ، وَلِیٌّ حَمِیۡمٌ

نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی برائی کو بھلائی سے دفع کرو پھر وہی جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی ہے ایسا ہو جائے گا جیسے دلی دوست۔

اپنے میں دانش مندی اور برداشت لے کر آئیے۔ ہر عمل کا رد عمل ضروری نہیں ہوتا۔ نیک لوگوں اور احسان کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ کے وعدے ہی اور ہیں اور بدتہذیب اور احمقوں کے معاملے بھی مختلف ہیں۔

احمقوں کی کمی نہیں اے غالب
ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں

خوشگوار اور خوشیاں بانٹنے والا گھر بنائیے چاہے اس کی جو بھی قیمت دینی ہو۔ آپ کی اولاد آج آپ کے ایثار کو دیکھے گی اور کل آپ ہی کی اولاد آپ سے نیکی کی شکل میں اپنی ٹھنڈک سے آپ کے دل کو سیراب کر ڈالے گی۔

Check Also

Kashtiyan Jalao, Kitab Uthao

By Saeed ur Rehman