Satluj
ستلج

دو تین دنوں سے دلجیت دسانجھ کی نئی فلم "ستلج" خبروں میں ہے۔ فلم بین دوستوں کی اس فلم سے متعلق تحریروں سے پتہ چلا کہ چمکیلا کی طرح یہ فلم بھی معروف انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ کھالڑا کی زندگی پر مبنی ہے۔
پہلے فلم کی شوٹنگ کی راہ میں روڑے اٹکائے جاتے رہے پھر تین سال تک انڈین سینسر بورڈ نے اسے ریلیز کی اجازت نہیں دی۔ ایک نہیں دو نہیں فلم سے پورے 120 سین نکالنے یا بدلنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ بالآخر تین سال بعد یہ فلم او ٹی ٹی پلیٹ فارم زی فائیو پر فلم کا نام "پنجاب 95" سے بدل کر "ستلج" کے نام سے نشر کی گئی مگر دوسرے ہی دن حکومتی ہدایات پر اسے پلیٹ فارم سے ہٹا دیا گیا۔
دلجیت دسانجھ نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ انہیں اس بات کی فکر نہیں کہ فلم ہٹا دی گئی لوگ اسے ڈاونلوڈ کر چکے ہیں اور انٹرنیٹ کے دور میں کسی مواد کو مکمل طور پر مٹانا ممکن نہیں۔ اس فلم کے ڈائریکٹر ہنی تہران کے مطابق دلجیت نے اس فلم کے لیے کوئی معاوضہ نہیں لیا کیونکہ ان کا ماننا تھا کہ جسونت سنگھ کھالڑا کی جدوجہد کو دنیا تک پہنچانا ایک سماجی ذمہ داری ہے۔
دلجیت کی فلم چمکیلا ہمیں بہت پسند آئی تھی اور ستلج کے متعلق یہ سب پڑھ کر ہم نے کل یہ فلم ڈاونلوڈ کر لی۔ اتفاق سے رات کو نیند نہیں آ رہی تھی تو سوچا فلم دیکھ لیتی ہوں اور دوستو یقین کریں مکمل فلم دیکھنے کے بعد مجھے پوری رات نیند نہیں آئی۔۔
فلم کی کہانی جسونت سنگھ کھالڑا کے گرد گھومتی ہے جو ایک بینک آفیسر ہیں اور خوشحال زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں تبھی انہیں علم ہوتا ہے کہ پنجاب میں ہزاروں افراد کو لاپتہ کر دیا ہے اور ان میں سے اکثریت نوجوانوں کی ہے۔ اپنی جان خطرے میں ڈال کر وہ تحقیقات شروع کرتے ہیں اور انہیں پتہ چلتا ہے کہ پنجاب پولیس ان ہزاروں افراد کو ماورائے عدالت قتل کرکے لاوارث لاشوں کے طور پر جلا یا دریا برد کر چکی ہے۔ وہ اس معاملے کو نہ صرف اپنے ملک میں بلکہ عالمی سطح پر بھی اٹھانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ انسانی حقوق کی اس جنگ میں ان کی جان بھی جا سکتی ہے وہ کسی دھمکی سے نہیں ڈرتے اور پیچھے نہیں ہٹتے اور بالآخر انہیں بھی لاپتہ کر دیا جاتا ہے کئی روز کے اذیت ناک تشدد کے بعد ان کا پیٹ چاک کرکے لاش دریا میں بہا دی جاتی ہے جو آج تک نہیں ملی۔
جسونت سنگھ کھالڑا کی زندگی اور جدوجہد سے ہمیں یہ سیکھنے کو ملتا ہے کہ ایک عام انسان بھی اگر چاہے تو بڑے سے بڑے نظام کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہو سکتا ہے۔
دلجیت دسانجھ کی اکثر فلموں میں ہم انہیں مزاحیہ یا رومانوی کرداروں میں دیکھتے ہیں لیکن چمکیلا اور ستلج جیسی فلم میں ان کی سنجیدہ اداکاری یہ ثابت کرتی ہے کہ وہ ایک ورسٹائل اداکار ہیں۔
میری رائے میں اس فلم کا ریلیز کے فوراً بعد ہٹایا جانا خود اس بات کا ثبوت ہے کہ فلم کا موضوع آج بھی کتنا طاقتور اور حساس ہے۔ ایک ایسی فلم جسے ریلیز کرنے کے لیے 120 کٹس کا سامنا کرنا پڑے اس کا مطلب ہے کہ اس میں دکھائے گئے حقائق ان لوگوں کے لیے اب بھی ناگوار ہیں جو ماضی کی غلطیوں سے سیکھنے کی بجائے انہیں چھپانا چاہتے ہیں۔
وقت نکال کر یہ فلم ضرور دیکھیں کیونکہ پاکستان میں جہاں جبری گمشدگیاں عروج پر ہیں اور ان کے لیے آواز اٹھانے والے جیلوں میں، یہ بہت ریلوینٹ اور اہم موضوع پر بنی فلم محسوس ہوگی۔
ریٹنگ: 9۔ 7/10

