Khubsurat Khel Par Badnuma Dagh
خوبصورت کھیل پر بدنما داغ

فٹبال ورلڈکپ کو سب سے بڑا اسپورٹس ایونٹ سمجھا جاتا ہے، جہاں مختلف نسلوں، مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے کروڑوں افراد ایک کھیل کے گرد جمع ہوجاتے ہیں۔ فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا برسوں سے یہ نعرہ دیتی آئی ہے کہ یہ کھیل لوگوں کو جوڑتا ہے، لیکن 2026 کے ورلڈکپ میں رونما ہونے والے متعدد واقعات نے اس کی کوششوں پر سوال اٹھایا ہے۔ اس بار صرف اسٹیڈیموں میں نہیں بلکہ سوشل میڈیا، سیاست اور عوامی بیانات میں بھی نسل پرستانہ رویوں نے ورلڈکپ کی فضا کو متاثر کیا ہے۔ اس کے بعد فیفا کو تحقیقات شروع کرنا پڑیں جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
سب سے بڑا واقعہ دفاعی چیمپین ارجنٹینا اور مصر کے درمیان میچ میں پیش آیا جب مصری کوچ نے میچ کے دوران ریفری پر نسل پرستی کا الزام لگایا۔ ارجنٹینا کے بعض شائقین پر بھی مصری اور کیپ ورڈیئن مداحوں کے خلاف بدسلوکی، تشدد اور نسل پرستانہ رویے اپنانے کے الزامات سامنے آئے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق مصر کے خلاف ناک آؤٹ میچ میں ارجنٹینا کے بعض شائقین نے مصری مداحوں پر بیئر پھینکی، اشتعال انگیز نعرے لگائے اور انھیں ہراساں کیا۔ کیپ ورڈے کے خلاف میچ کے بعد بھی وہاں کے شائقین نے شکایت کی تھی کہ ہر گول کے بعد ان پر بوتلیں پھینکی گئیں۔ اگرچہ یہ الزامات تمام ارجنٹائن مداحوں کے خلاف نہیں تھے، لیکن ان واقعات سے پتا چلا کہ بڑے ٹورنامنٹس میں ہجوم کے رویوں کو کنٹرول کرنا پہلے سے زیادہ مشکل ہوتا جارہا ہے۔
مصر کے خلاف میچ میں ایک اور پہلو نے تنازع کو بڑھایا۔ رپورٹ کے مطابق ارجنٹینا کے چند شائقین نے مصر کے کوچ حسام حسن کے سامنے اسرائیلی پرچم لہرائے۔ حسام حسن اس سے پہلے میدان میں فلسطینی پرچم لائے تھے اور غزہ کے عوام کے حق میں بیانات دے چکے تھے۔ اس لیے کئی مبصرین نے اس عمل کو محض کھیل کا جذبہ نہیں بلکہ سیاسی اشتعال انگیزی قرار دیا۔ اس سے یہ بحث بھی شروع ہوگئی کہ بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں سے عالمی سیاسی تنازعات کو الگ رکھنا چاہیے۔
اسی دوران یوٹیوبر آئی شو اسپیڈ بھی نسل پرستی کے ایک واقعے کا مرکز بن گئے۔ وہ ارجنٹینا اور کیپ ورڈے کے میچ میں لائیو اسٹریمنگ کررہے تھے کہ ایک ویڈیو میں ایک شائق پر ان کے خلاف نسل پرستانہ جملہ کہنے کا الزام سامنے آیا۔ اس واقعے کے بعد فیفا نے فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا اور اپنے بیان میں کہا کہ نسل پرستی، نفرت اور امتیازی سلوک کی کھیل میں کوئی جگہ نہیں۔ اس واقعے کو لاکھوں افراد نے سوشل میڈیا پر دیکھا، جس کی وجہ سے اس نے عالمی توجہ حاصل کی۔
ورلڈکپ کے دوران نسل پرستی صرف شائقین تک محدود نہیں رہی بلکہ سیاست بھی اس میں شامل ہوگئی۔ فرانس کے اسٹار کھلاڑی کیلیان ایمباپے کے خلاف پیراگوئے کی سینیٹر سیلیسٹے امارییا نے نہایت توہین آمیز اور نسل پرستانہ الفاظ استعمال کیے۔ انھوں نے ایمباپے کو کیمرونی نسل سے جوڑتے ہوئے تحقیر آمیز تبصرے کیے، جس پر شدید عالمی ردعمل سامنے آیا۔ پیراگوئے کے سینیٹ نے خود ایک قرارداد منظور کرکے ان بیانات کو "نسل پرستانہ اور امتیازی" قرار دیا اور واضح کیا کہ یہ خیالات پارلیمان کی نمائندگی نہیں کرتے۔
فیفا کی اپنی تحقیقات بھی صورتحال کی سنگینی ظاہر کرتی ہے۔ تنظیم کے سوشل میڈیا پروٹیکشن سسٹم نے ٹورنامنٹ کے ابتدائی مرحلے میں تقریباً 89 ہزار توہین آمیز پوسٹوں کی نشاندہی کی، جن میں تقریباً 11 فیصد براہ راست نسلی تعصب پر مبنی تھیں۔ یہ تناسب قطر میں ہونے والے 2022 کے ورلڈکپ سے بھی زیادہ بتایا گیا۔ اسی بنیاد پر فیفا نے کہا کہ نسلی نفرت مسلسل خطرہ بنتی جارہی ہے اور اسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
برطانوی اخبار گارڈین نے اس مسئلے کو صرف کھیل تک محدود رکھنے کے بجائے وسیع تر سماجی اور سیاسی تناظر میں دیکھا ہے۔ اس کی رپورٹ میں انسداد نسل پرستی کی تنظیم کک اٹ آوٹ کے سربراہ سیموئل اوکافور کے حوالے سے کہا گیا کہ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی تقسیم، نفرت انگیز سیاسی بیانیے اور سوشل میڈیا کی بے لگام فضا نے لوگوں کو پہلے سے زیادہ کھل کر نسل پرستانہ رویے اختیار کرنے کا حوصلہ دیا ہے۔ ان کے مطابق جو نفرت پہلے نجی گفتگو تک محدود تھی، اب وہ کھلے عام اسٹیڈیموں اور آن لائن پلیٹ فارمز پر نظر آرہی ہے۔
اس رپورٹ میں فیف پرو نے بھی خبردار کیا کہ کھلاڑیوں کو آن لائن اور میدان کے اندر مسلسل بڑھتی ہوئی بدسلوکی کا سامنا ہے۔ تنظیم کے مطابق یہ الگ الگ واقعات نہیں بلکہ ایک منظم رجحان کی شکل اختیار کرتے جارہے ہیں۔ نیدرلینڈز کی ایراسمس یونیورسٹی کے پروفیسر جیکو فان سٹرکن برگ نے بھی کہا کہ معاشروں میں نسل پرستی کی "نرم" یا پوشیدہ شکلیں عام ہونے سے کھلی نسل پرستی کے لیے ماحول تیار ہوتا ہے۔ ان کے مطابق کھیل دراصل معاشرے کا عکس ہوتا ہے، اس لیے اگر معاشرے میں نفرت بڑھے گی تو وہ میدان میں بھی نظر آئے گی۔
حقیقت یہ ہے کہ نسل پرستی کے خلاف جدوجہد صرف فیفا یا کسی ایک تنظیم کی ذمے داری نہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، قومی فٹبال فیڈریشنز، حکومتیں اور شائقین سب اس مسئلے میں شریک ہیں۔ اگر آن لائن نفرت انگیز مہم جاری رہیں، اسٹیڈیموں میں تعصب پر مبنی نعرے لگتے رہیں اور سیاست دان بھی ایسی زبان استعمال کریں تو کھیل کا اصل مقصد، یعنی مختلف قوموں کو قریب لانا، پس منظر میں چلا جاتا ہے۔

