Saturday, 20 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Arham Shafiq
  4. Khali Jaibain

Khali Jaibain

خالی جیبیں

بازار میں داخل ہوتے ہی ایک عام آدمی کو احساس ہو جاتا ہے کہ اس کی جیب پہلے جیسی نہیں رہی۔ روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور زندگی کا بوجھ ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید بھاری ہوتا جا رہا ہے۔ حالات اس قدر مشکل ہو چکے ہیں کہ بہت سے لوگوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی دشوار بنتا جا رہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 40 فیصد افراد خوراک کے عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

بجلی، گیس، پٹرول اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ آمدنی میں اس تناسب سے اضافہ نہیں ہو رہا۔ جو اشیاء چند سال پہلے آسانی سے خریدی جا سکتی تھیں، آج ایک غریب آدمی کے لیے ان تک رسائی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ حتیٰ کہ لوگوں کے لیے اپنا ماہانہ بجٹ سنبھالنا بھی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ ایسے حالات میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ غریب آدمی کہاں جائے؟ مہنگائی پر قابو پانا حکومت کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے، لیکن عوام کا ایک بڑا طبقہ محسوس کرتا ہے کہ ان کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان اکنامک سروے میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ماہانہ 8423 روپے کمانے والا شخص غریب نہیں ہے جس پر سوال اٹھانا بنتا ہےکہ آیا موجودہ مہنگائی کے دور میں کم آمدنی رکھنے والے افراد کو واقعی غربت سے باہر تصور کیا جا سکتا ہے۔

آخر مہنگائی ایک وائرس کی طرح تیزی سے کیوں پھیل رہی ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو آج ہر پاکستانی کے ذہن میں موجود ہے۔ اگرچہ اس مسئلے کی کئی وجوہات ہیں، لیکن میری رائے میں اس کی ذمہ داری صرف حکومت پر عائد نہیں ہوتی بلکہ عوام کا کردار بھی اہم ہے۔ اکثر لوگ اپنی ضرورت سے زیادہ خریداری کر لیتے ہیں، جس سے طلب میں غیر معمولی اضافہ ہو جاتا ہے۔ اگر لوگ صرف اپنی ضروریات کے مطابق خریداری کریں اور غیر ضروری اخراجات سے گریز کریں تو مارکیٹ میں اشیاء کی دستیابی بہتر ہو سکتی ہے۔ جب کسی چیز کی فراہمی زیادہ اور طلب متوازن ہو تو اس کی قیمتوں میں استحکام آ سکتا ہے، جس سے کم آمدنی والے افراد کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

یہ بڑھتی ہوئی مہنگائی نوجوانوں میں منفی سوچ اور بے چینی پیدا کر رہی ہے۔ جب گھر کے اخراجات پورے نہ ہوں تو خاندان مختلف مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ مالی تنگی کی وجہ سے گھروں میں جھگڑے بڑھ جاتے ہیں اور نوجوان ذہنی دباؤ محسوس کرنے لگتے ہیں۔ بعض نوجوان اپنے خاندان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے غلط راستوں کا انتخاب کر لیتے ہیں، جس کے نتیجے میں جرائم میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ مایوسی نہ صرف ایک فرد بلکہ پورے معاشرے کو متاثر کرتی ہے۔ اگر اس مسئلے پر بروقت توجہ نہ دی جائے تو اس کے منفی اثرات آنے والی نسلوں تک منتقل ہو سکتے ہیں اور ان کے مستقبل کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔

مہنگائی کے اس طوفان پر قابو پانے کے لیے حکومت اور عوام دونوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کے خلاف سخت اقدامات کرے، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو عوام کی پہنچ میں رکھنے کے لیے مؤثر پالیسیاں مرتب کرے۔ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ غیر ضروری اخراجات سے بچیں اور ذمہ دارانہ طرزِ زندگی اختیار کریں۔ اگر حکومت اور عوام مل کر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تو مہنگائی کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے اور پاکستان کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔

آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ مہنگائی صرف خالی جیبوں کا مسئلہ نہیں بلکہ خالی ہوتے خوابوں کی کہانی بھی ہے۔ جب ایک باپ اپنے بچوں کی ضروریات پوری نہ کر سکے، ایک نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں مایوس ہو جائے اور ایک خاندان روزمرہ اخراجات کے بوجھ تلے دب جائے تو یہ صرف معاشی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ ایک سماجی بحران بن جاتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت اور عوام دونوں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں تاکہ ہر پاکستانی باعزت اور پُرسکون زندگی گزار سکے۔

Check Also

Harf e Aghaz Ya Catharsis

By Saad Makki Shah