Wednesday, 15 July 2026
  1.  Home
  2. Hameed Ullah Bhatti
  3. Jharpein Aur Arab Maeeshat

Jharpein Aur Arab Maeeshat

جھڑپیں اور عرب معیشت

امریکہ و ایران لڑائی کو حقیقت سمجھنا مشکل ہوگیا ہے آثار و قرائن سے نوراکُشتی لگتی ہے۔ دلیل یہ کہ دونوں ہی حملے سے قبل ایک دوسرے کو آگاہ کرتے ہیں تاکہ زیادہ نقصان نہ ہو۔ اِس میں کوئی ابہام نہیں کہ امریکہ اور ایران دونوں ہی عربوں کو معاشی طور پر تباہ کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ مت بھولا جائے کہ آبنائے ہُرمز کی بار بار بندش سے ایران کو حاصل عالمی حمایت میں بتدریج کمی آئی ہے جس کی وجہ پاسدارانِ انقلاب ہیں۔ لہذا جائزہ لیں کہ ضد و ہٹ دھرمی سے وہ کہیں اپنا ہی نقصان تو نہیں کررہے۔ موجودہ حالات میں اقوامِ عالم کی غالب اکثریت کا خیال ہے کہ خلیج کی تازہ جھڑپوں کا ذمہ دار ایران ہے اور وہ تیل کی فراہمی میں خلل ڈال کردنیا اور عربوں کو بلیک میل کر رہا ہے اسی بنا پر امریکی نکتہ نظرکے ہم خیالوں میں اضافہ ہوا ہے۔

امریکہ و ایران دونوں عربوں کے دوست نہیں دونوں ہی اُنھیں دباؤ میں رکھنا چاہتے ہیں۔ تیل کی تجارت ڈالر میں ہونے کی وجہ سے امریکہ بظاہر عرب ممالک کا دوست ہے لیکن عرب ممالک نے امریکہ و اسرائیل کے ایران پر حملوں میں فریق بننے کی بجائے الگ رہنا بہتر سمجھا حالانکہ ایران نے لڑائی کو فروغ دینے اور عرب ممالک کو شامل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ امریکہ کی بھی یہی دیرینہ آرزو تھی کہ عرب و ایران جنگ ہو لیکن پاکستان، ترکیہ، سعودیہ اور مصر کے مصالحانہ کردار سے جنگ محدود رہی۔ جنگ بندی کی مفاہمتی یاداشت پر دستخط کے باوجود قطر اور سعودی عرب کے تیل بردار جہازوں پر میزائل برسانا ایک سنگین ایرانی غلطی ہے۔ مزید یہ کہ جب قطر کے لوگ سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کی رحلت پر سوگوار تھے تو پاسدارانِ انقلاب نے قطر پر میزائل برسادیے حالانکہ قطرنے ایران سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے کئی ایک اچھے فیصلے کیے۔

اول۔ منجمد ایرانی رقوم جاری کرنے پر رضامندی دوم۔ ایرانی سپریم رہنما کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے وفد کی قیادت شوریٰ کونسل کے اسپیکر حسن بن عبداللہ جیسی اہم شخصیت کوسونپنا جس میں وزارتِ خارجہ کے مزید اعلیٰ اہلکار بھی شامل تھے مگر خلوص کے جواب میں ایک ہفتے کے اندرہی حملہ کر دیا گیا۔ سعودیہ جس نے ایران کے خلاف حملوں کے لیے اپنی فضائی حدود کے استعمال پر پابندی لگا رکھی ہے اُس کے تیل بردار جہاز کو نشانہ بنانا مزید فاش غلطی ہے اور حوثیوں کے زریعے بھی سعودیہ پر راکٹ فائر کردیے۔ یہ ایسے واقعات ہیں جس سے عرب ممالک اور ایران میں دوریاں بڑھ سکتی ہیں جس کے ذمہ دارکوئی اور نہیں پاسدارانِ انقلاب ہیں جو ایران کا فائدہ کرنے کی بجائے نقصان کر رہے ہیں۔ حماقتوں سے دوستوں میں اضافہ نہیں ہوتا تعجب تو اِس پر ہے کہ یہ بات پاسداران سمجھ نہیں پارہے اور اب تو فیصلے کرنے کا اختیار بھی سیاسی قیادت سے حاصل کرلیا ہے یہ فیصلہ مزید غلطیوں کا موجب بن سکتا ہے۔

عرب ممالک کو دباؤ میں رکھنے کی امریکہ و ایران کوششوں سے کوئی تیسرا فریق فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔ اسرائیلی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حتمی معاہدے کا امکان کم ہے جس کے ذمہ دار پاسدارانِ انقلاب ہیں۔ ایسی اطلاعات منصہ شہود پر آچکیں کہ لڑائی بڑھانے کے لیے تل ابیب متحرک ہے اور علاقائی محاز آرائی کے پھیلنے یا تہران کی جانب سے کسی براہ راست حملے کے خدشے کے پیشِ نظر عسکری تیاریوں میں مصروف ہے۔ اسرائیلی عسکری قیادت کے بھی غالب اندازے ہیں کہ امریکہ و ایران میں جاری مزاکراتی عمل کی کامیابی کی توقع کم ہے اسی لیے ایران کے کسی بھی حملے کا جواب ایسے بڑے پیمانے کی صورت میں دینا چاہتی ہے کہ ایرانی حملہ کرنے کی طاقت ہمیشہ کے لیے محدود یا ختم ہو جائے۔ اسرائیل کے نئے حملوں کی تیاری سے ظاہر ہے کہ عربوں کو دباؤ میں رکھنے پرسہ فریقی کام ہو رہا ہے۔ صورتحال کی سنگینی ایران سمجھ نہیں اور نہ صرف ثالثوں کی کوششیں سبوتاژ کر رہا ہے بلکہ آبنائے ہُرمز پر غلبے کی چپقلش کو فروغ دے رہا ہے لیکن یہ ہرگز مت بھولے کہ عمان اگر غلبے کی کوششوں سے الگ ہوتا ہے تو ایران عضو معطل بن کررہے جائے گا۔

ایرانی دعویٰ ہے کہ وہ خطے میں امریکی اڈوں پر حملے کررہا ہے لیکن کیا اِن حملوں سے امریکہ کو نقصان ہورہا ہے؟ شاید بہت کم۔ مگر ایران و عرب چپقلش کے آثار قوی تر ہونے لگے ہیں جس کا نتیجہ ٹکراؤ کی صورت میں آ سکتا ہے۔ ماضی میں عالمی طاقتوں کی ایما پر ہی عراقی صدر صدام حسین نے تیل چوری کرنے اور قرضے معاف نہ کرنے کے جواز پر دو اگست 1990 کو کویت پر حملہ کر دیا۔ یاد رہے کہ کویت پر عراقی حملے سے قبل امریکی سفیر ایپرل گلاپی نے صدر صدام حسین سے ملاقات کی اور موقف اختیار کیا کہ عرب ممالک کے تنازعات جیساکہ عراق و کویت تنازعہ میں امریکہ شامل نہیں ہوگا۔ جسے امریکی خاموش حمایت سمجھ لیا گیا مگر کویت پر عراقی قبضہ سات ماہ ہی رہ سکا امریکی قیادت میں اتحادی افواج نے فروری 1991 کو آپریشن ڈیزاسٹر سٹارم کا آغاز کر دیا اور نہ صرف کویت سے عراقی افواج 26 فروری کو نکال باہر کیں بلکہ اُس کی عسکری طاقت ہی ختم کردی یاد رہے کویت پر حملے کے وقت عراقی فوج دنیا کی چوتھی سب سے بڑی فوج تھی۔

ایران و عراق جنگ کاشمار بیسویں صدی کی طویل ترین اور خونریز جنگوں میں ہوتا ہے جو 22 ستمبر 1980 سے 20 اگست 1988 تک لڑی گئی جس میں مجموعی طور پر دونوں طرف سے دو ملین افراد رزقِ خاک ہوئے۔ آج کے ایران مخالف اسرائیل نے اُس وقت ایران کا ساتھ تربیت اور ہتھیار فراہم کرنے کی صورت میں دیا۔ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد اور ایرانی سپاہ میں اچھے اور اعتماد پر مبنی تعلقات قائم ہوئے۔ ایران میں غداری کے بڑھتے واقعات اُسی دور کا شاخسانہ ہیں۔ ایرانی قیادت غور کرے کہ کہیں اُنھیں بھی اپنے ہی تو تختہ دار پر نہیں لیجا رہے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو ابھی وقت ہے کہ حماقتیں نہ کرے ملک کو مستحکم اور خوشحال بنائے اور قوم کو مہنگائی کی دلدل سے نکالے۔ جنگیں مسائل کا حل نہیں تصفیہ طلب مسائل کاحل مزاکرات سے ممکن ہے جب عرب ممالک ایران کو نقصان نہیں پہنچا رہے تو امریکیوں کا غصہ اُن پر نکالنے میں کون سی حکمت و دانائی ہے؟

عالمی گزرگاہیں کسی ایک ملک کی ملکیت نہیں آبنائے ہُرمز پر ٹرمپ کا بیس فیصد ٹیکس وصول کرنے کا فیصلہ اُسی طرح غلط ہے جس طرح ایران کا محصول دینے کا مطالبہ ہے۔ امریکہ و ایران جھڑپوں سے عربوں کی معیشت تباہ ہورہی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب اِس سازش میں استعمال ہورہے ہیں۔ عالمی حمایت سے محروم ہوتا ایران یہ مت بھولے کہ عالمی طاقتیں غیر جانبداری کی یقین دہانیاں کرانے کے بعد ہی خطرناک ہوتی ہیں عراق کی تباہی اور صدام حسین کے انجام کا یہی سبق ہے۔

Check Also

Zehni Tashadud: Khamosh Tashadud Ki Aik Khatarnak Shakal

By Komal Shahzadi