Barhti Abad Nahi, Sukarti Tadbeer
بڑھتی آبادی نہیں، سکڑتی تدبیر
"اور ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ اس نے آنے والے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے"۔
"وَلُتَنظُرُ نَفُسٌ مَّا قَدَّمَتُ لِغَدٍ" (سورۃ الحشر: 18)
ذرا ایک لمحے کے لیے پاکستان کا نقشہ اپنے ذہن میں لائیے۔
ایک طرف ایک سرکاری سکول ہے جہاں ایک استاد کے سامنے درجنوں بچے محدود سہولتوں کے ساتھ بیٹھے ہیں۔ دوسری طرف ایک ہسپتال ہے جہاں مریضوں کا ہجوم علاج کے محدود وسائل سے کہیں زیادہ ہے۔ کہیں ایک شہر پانی کی قلت سے پریشان ہے، کہیں ایک نوجوان ہاتھ میں ڈگری لیے روزگار کی تلاش میں دربدر ہے اور کہیں زرعی زمینیں بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے تیزی سے تعمیرات کی نذر ہو رہی ہیں۔
ہم ان سب مسائل کو الگ الگ دیکھتے ہیں، لیکن ان سب کے پس منظر میں ایک مشترک حقیقت موجود ہے۔۔ ہماری آبادی کی رفتار اور ہماری قومی منصوبہ بندی کی رفتار میں بڑھتا ہوا فاصلہ۔
پاکستان کا اصل مسئلہ صرف آبادی کا بڑھنا نہیں، بلکہ آبادی کے مطابق منصوبہ بندی نہ کرنا ہے۔ قومیں صرف زیادہ لوگوں کی وجہ سے ترقی نہیں کرتیں۔ قومیں اس وقت ترقی کرتی ہیں جب ان کے لوگ تعلیم یافتہ، صحت مند، ہنرمند اور پیداواری قوت بن سکیں۔ انسانی تعداد اسی وقت قومی طاقت بنتی ہے جب ریاست اسے مواقع فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
بدقسمتی سے پاکستان نے کئی دہائیوں تک آبادی کے مسئلے کو ایک اعداد و شمار کے مسئلے کے طور پر دیکھا، حالانکہ یہ دراصل معاشی، سماجی اور قومی سلامتی کا مسئلہ ہے۔
ہم نے سڑکیں بنائیں، عمارتیں تعمیر کیں، ترقیاتی منصوبے شروع کیے، لیکن اکثر یہ نہیں سوچا کہ ان سب سہولتوں کے استعمال کرنے والوں کی تعداد کتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہماری بہت سی ترقیاتی کوششیں چند ہی برسوں میں ناکافی محسوس ہونے لگتی ہیں۔
ایک نیا ہسپتال بنتا ہے، مگر چند سال بعد مریضوں کی تعداد اس کی گنجائش سے تجاوز کر جاتی ہے۔ نئے سکول تعمیر ہوتے ہیں، مگر بچوں کی تعداد اس رفتار سے بڑھتی ہے کہ معیارِ تعلیم متاثر ہونے لگتا ہے۔ روزگار کے کچھ نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں، مگر نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد انہیں نگل لیتی ہے۔
یہ ترقی کی ناکامی نہیں، بلکہ منصوبہ بندی کے فقدان کی علامت ہے۔
آبادی اور معیشت کا خاموش تصادم
پاکستان کی معیشت پہلے ہی محدود وسائل، قرضوں، توانائی کے مسائل اور کمزور صنعتی بنیاد جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ ایسے میں آبادی میں مسلسل اضافہ ان تمام مشکلات کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔
معاشی ترقی کا مقصد صرف قومی آمدنی میں اضافہ نہیں بلکہ فی فرد یعنی فردی زندگی کے معیار کو بہتر بنانا ہونا چاہئے۔ اگر قومی پیداوار میں اضافہ ہو، مگر آبادی اس سے زیادہ رفتار سے بڑھے، تو عام شہری تک ترقی کے ثمرات نہیں پہنچ پاتے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ترقی کے باوجود غربت، بے روزگاری اور عدم مساوات جیسے مسائل برقرار ہیں۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر بچہ صرف ایک عدد نہیں بلکہ ایک مکمل انسانی زندگی ہے۔ اس زندگی کو عزت، تعلیم، صحت اور مواقع فراہم کرنا ریاست اور معاشرے دونوں کی ذمہ داری ہے۔
وسائل پر بڑھتا ہوا دباؤ
پاکستان کا سب سے قیمتی مگر محدود وسیلہ پانی ہے۔ آج پانی کی قلت ایک بڑھتا ہوا قومی خطرہ بن چکی ہے۔ آبادی میں اضافہ، موسمیاتی تبدیلی، پانی کے غیر مؤثر استعمال اور کمزور منصوبہ بندی نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
زرعی زمین محدود ہے، مگر اسے استعمال کرنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ شہروں کا پھیلاؤ جاری ہے، مگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی اسی رفتار سے نہیں بڑھ رہی۔ زیرِ زمین پانی کم ہو رہا ہے، جبکہ طلب میں اضافہ جاری ہے۔
یہ سوال ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا کہ اگر آج ہمارے پاس محدود وسائل ہیں تو کیا ہمیں آنے والی نسلوں کے لیے ان کا دانشمندانہ استعمال نہیں کرنا چاہیے؟
قرآن مجید ہمیں اعتدال اور ذمہ داری کا درس دیتا ہے: "کھاؤ، پیو، لیکن اسراف نہ کرو، بے شک اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا"۔ (سورۃ الاعراف: 31)
یہ حکم صرف کھانے پینے تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے تمام معاملات میں توازن اور ذمہ دارانہ رویے کی تعلیم دیتا ہے۔
اسلام اور ذمہ دارانہ منصوبہ بندی
بعض اوقات آبادی کے موضوع پر گفتگو کو غیر ضروری طور پر مذہبی بحث بنا دیا جاتا ہے، حالانکہ اسلام کی بنیادی تعلیمات تدبر، حکمت اور ذمہ داری پر مبنی ہیں۔
حضرت یوسفؑ کا واقعہ اس کی روشن مثال ہے۔ جب آنے والے قحط کا خطرہ سامنے آیا تو خوشحالی کے سات برسوں میں ذخیرہ کرنے اور منصوبہ بندی کا انتظام کیا گیا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مستقبل کے خطرات کو نظر انداز کرنا اسلامی حکمت نہیں۔
اگر آنے والے برسوں کے قحط کے لیے منصوبہ بندی ضروری تھی تو آنے والی نسلوں کی تعلیم، صحت اور روزگار کے لیے منصوبہ بندی کیسے غیر ضروری ہو سکتی ہے؟
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا"۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
یہ تعلیم ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ذمہ داری صرف بچوں کو دنیا میں لانے تک محدود نہیں بلکہ ان کی اچھی پرورش، تعلیم اور بہتر مستقبل کی کوشش بھی اس کا حصہ ہے۔
اسلام تعداد سے زیادہ معیار اور دعوے سے زیادہ ذمہ داری کا دین ہے۔
نوجوان آبادی: موقع یا خطرہ؟
پاکستان کی نوجوان آبادی ایک بہت بڑا اثاثہ بن سکتی ہے۔ دنیا کے کئی ممالک نے نوجوان آبادی کو تعلیم، ہنر اور روزگار کے ذریعے معاشی طاقت میں تبدیل کیا ہے۔ لیکن اگر یہی نوجوان تعلیم سے محروم، روزگار سے بے نیاز اور مستقبل سے مایوس ہو جائیں تو یہی قوت ایک بڑے سماجی چیلنج میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
کوئی بھی معاشرہ صرف قانون اور طاقت کے ذریعے امن قائم نہیں رکھ سکتا۔ پائیدار امن اس وقت پیدا ہوتا ہے جب لوگوں کو انصاف، تعلیم، روزگار اور امید ملے۔
قومی قیادت کی ذمہ داری
اس مسئلے کا سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ہماری سیاسی قیادت نے اسے ہمیشہ نظر انداز کیا۔ ایسے موضوعات جو طویل المدت سوچ کا تقاضا کرتے ہیں، اکثر انتخابی سیاست کی نذر ہو جاتے ہیں۔
ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ قومی مسائل صرف اگلے انتخابات تک نہیں دیکھے جاتے۔ پانی، تعلیم، صحت اور آبادی جیسے معاملات پر بیس یا تیس سالہ منصوبہ بندی درکار ہوتی ہے۔
قومیں اس وقت کمزور نہیں ہوتیں جب انہیں مسائل کا سامنا ہو، قومیں اس وقت کمزور ہوتی ہیں جب وہ مسائل کو پہچاننے کے باوجود ان کا سامنا کرنے سے انکار کر دیں۔
اب کیا کرنا ہوگا؟
پاکستان کو ایک جامع قومی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے جس میں چند بنیادی ترجیحات شامل ہوں:
اول: تعلیم، خصوصاً بچیوں کی تعلیم کو قومی ترجیح بنایا جائے۔ دنیا بھر کا تجربہ ثابت کرتا ہے کہ تعلیم یافتہ خواتین خاندان، صحت اور بچوں کے مستقبل کے بارے میں زیادہ بہتر فیصلے کرتی ہیں۔
دوم: بنیادی صحت اور آگاہی کی سہولتیں ہر شہری تک پہنچائی جائیں۔
سوم: آبادی کے مسئلے کو سیاسی یا جذباتی بحث کے بجائے قومی منصوبہ بندی کے طور پر دیکھا جائے۔
چہارم: نوجوانوں کو ہنر، روزگار اور مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ آبادی بوجھ نہیں بلکہ طاقت بنے۔
پنجم: مذہبی رہنماؤں، دانشوروں، حکومت اور سول سوسائٹی کو مل کر ایک متوازن مکالمہ شروع کرنا ہوگا جس میں ذمہ دار خاندان، بہتر تربیت اور انسانی وقار کو مرکز بنایا جائے۔
آخری سوال
پاکستان کے سامنے آج اصل سوال یہ نہیں کہ ہمارے کتنے لوگ ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم ان لوگوں کو کس معیار کی زندگی دے سکتے ہیں۔
اولاد یقیناً اللہ کی نعمت ہے، لیکن ہر نعمت کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے۔
ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم آنے والی نسلوں کے لیے ایک ایسا پاکستان چھوڑنا چاہتے ہیں جہاں انہیں مواقع، تعلیم اور امید ملے، یا ایسا ملک جہاں ہر نئی نسل پہلے سے زیادہ مشکلات کا بوجھ اٹھائے۔
تاریخ قوموں کو بار بار موقع نہیں دیتی۔
پاکستان کے پاس اب بھی وقت ہے۔
لیکن وقت ہمیشہ باقی نہیں رہتا۔
مسئلہ ہماری آبادی نہیں، مسئلہ ہماری بے تدبیری ہے۔
اور اگر ہم نے آج تدبیر نہ کی، تو کل ہماری آنے والی نسلیں ہماری خاموشی کا حساب مانگیں گی۔

