Wednesday, 15 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Fazal Qadeer
  4. Qurbani Ka Ehteram, Magar Ehsan Nahi

Qurbani Ka Ehteram, Magar Ehsan Nahi

قربانی کا احترام، مگر احسان نہیں

وطن کا دفاع ہر ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اسی مقصد کے لیے فوج جیسے ادارے قائم کیے جاتے ہیں۔ جو شخص فوج میں بھرتی ہوتا ہے، وہ یہ جانتے ہوئے اس پیشے کا انتخاب کرتا ہے کہ اس کی ذمہ داری سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے اور اس راہ میں شہادت بھی ہو سکتی ہے۔ اگر وہ وطن کے دفاع میں اپنی جان قربان کرتا ہے تو اس کی قربانی یقیناً قابلِ احترام ہے اور پوری قوم اسے سلام پیش کرتی ہے۔ لیکن ایک سوال اپنی جگہ موجود ہے کیا اپنے فرض کی ادائیگی عوام پر احسان بن جاتی ہے؟

اگر یہی معیار ہو تو پھر ایک ڈاکٹر، جو وباؤں اور مہلک بیماریوں کے دوران اپنی جان خطرے میں ڈال کر مریضوں کا علاج کرتا ہے، کیا وہ قوم پر احسان کرتا ہے؟ ایک پولیس اہلکار، جو جرائم پیشہ افراد کا مقابلہ کرتے ہوئے جان دے دیتا ہے، کیا وہ احسان کرتا ہے؟ ایک فائر فائٹر، جو آگ کے شعلوں میں کود کر دوسروں کی جان بچاتا ہے، یا ایک ڈرائیور، جو ہزاروں میل سفر کرکے لوگوں اور سامان کو محفوظ منزل تک پہنچاتا ہے، کیا وہ بھی قوم پر احسان جتاتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص اپنے شعبے کے خطرات کو جانتے ہوئے ہی اس پیشے کا انتخاب کرتا ہے اور اسی ذمہ داری کو نبھانا اس کا فرض ہوتا ہے۔

دوسری طرف پاکستان کی عام عوام کو بھی دیکھیے۔ وہ عوام جو مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات کے باوجود ریاستی نظام کو چلانے کے لیے ہر روز ٹیکس ادا کرتی ہے۔ بجلی کے بل میں ٹیکس، گیس کے بل میں ٹیکس، پٹرول پر ٹیکس، موبائل ریچارج پر ٹیکس، اشیائے خوردونوش پر ٹیکس، حتیٰ کہ روزمرہ استعمال کی بیشتر چیزوں پر بھی مختلف صورتوں میں ٹیکس ادا کیا جاتا ہے۔ ان ٹیکس دہندگان میں وہ مزدور بھی شامل ہے جو دن بھر محنت کے بعد بمشکل اپنے بچوں کا پیٹ بھرتا ہے، وہ کسان بھی شامل ہے جو قرض لے کر فصل اگاتا ہے اور وہ سفید پوش ملازم بھی جو ہر ماہ مہنگائی کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔

اسی عوام کے ٹیکس سے فوج کی وردی، اسلحہ، تربیت، تنخواہیں، رہائش اور دیگر تمام اخراجات پورے ہوتے ہیں۔ اس لیے عوام کا ریاستی اداروں سے یہ مطالبہ کرنا کہ وہ اپنی آئینی ذمہ داری پوری کریں، کوئی ناجائز بات نہیں، بلکہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔

اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ شہداء کی قربانی کی قدر نہ کی جائے۔ شہداء اس قوم کا سرمایہ ہیں اور ان کی قربانی ہمیشہ عزت و احترام کی مستحق رہے گی۔ لیکن قربانی کا احترام اور عوام پر احسان جتانا دو الگ باتیں ہیں۔ ایک جمہوری اور آئینی ریاست میں عوام اور ریاستی اداروں کا رشتہ باہمی ذمہ داری، اعتماد اور خدمت پر قائم ہوتا ہے، نہ کہ احسان کے تصور پر۔

شہداء کی قربانی کو سلام، عوام کی قربانیوں کو بھی سلام۔ ایک مضبوط ریاست وہی ہوتی ہے جہاں عوام اپنے محافظوں کی عزت کریں اور ریاستی ادارے عوام کو اپنا اصل مالک سمجھتے ہوئے خدمت کو فرض جانیں، احسان نہیں۔

Check Also

Silent Spring, Fitrat Ki Khamosh Cheekh

By Asif Masood