Wednesday, 15 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Qurratulain Shoaib
  4. Betiyan, Bahu Aur Saas

Betiyan, Bahu Aur Saas

بیٹیاں، بہو اور ساس

بیٹیوں کو دیکھیں کتنی معصوم ہیں۔ کمپرومائز کرتی ہیں، سمجھ جاتی ہیں، ہمارے ساتھ تعاون کرتی ہیں۔ میری بیٹیوں کو کوئی کچھ کہہ دے، مجھ سے گوارا نہیں ہوتا۔ یہاں تک کہ میرے والد ہی انہیں ڈانٹ دیں تو میرے دل کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ وہ روتی ہیں تو میرے آنسو بھی بہنے لگتے ہیں۔ وہ کچھ مانگتی ہیں تو اسے پورا کرنے کو دل مچلنے لگتا ہے۔ ان کے تھکنے، ان کی تکلیف اور آرام کا کتنا احساس ہوتا ہے۔ ان کی پسند ناپسند کا کس قدر خیال رکھتے ہیں۔ کبھی تنہا کہیں نہیں جانے دیتے۔

اور پھر ایک دن ہم انہیں تنہا بھیج دیتے ہیں، ایک بھرے پورے گھر میں۔ جہاں کوئی بھی اسے کچھ بھی کہہ دے تو اس نے صبر کرنا اور سہنا ہے۔ جہاں اس کی پسند ناپسند کوئی معنی نہیں رکھتی۔ جہاں اس کے ہر عمل پر نظر ہو۔ جہاں اسے دوسروں کے مطابق جینا ہو۔ جہسں وہ بیماری کی حالت میں خدمت گزار بنے کھڑی دکھائی دے۔ کس قدر مشکل ہے۔

کیا معاشرتی رویوں میں تبدیلی ضروری نہیں؟ کیا ایک بچی کو جس طرح وہ ہے ویسے قبول کرنے میں کیا حرج ہے، جو کہ اس کا فطری حق ہے؟ اسے مکمل توڑ پھوڑ کر ایک نیا انسان بنانے سے بہتر نہیں؟ پھر سارے کمپرومائز اسی سے ڈیمانڈ کیے جائیں، مگر خود لوگ ٹس سے مس نہ ہوں۔ گو کہ سب لوگ ایسے نہیں، مگر اکثریت ایسے ہی لوگوں کی ہے۔ بظاہر پڑھے لکھے، سلجھے لوگ بھی اندر سے استحصالی سوچ کے مالک ہوتے ہیں۔

بیٹے بھی اسی محبت سے پالے گئے ہوتے ہیں اور بیٹیاں بھی۔ بلکہ بیٹیاں زیادہ توجہ اور محبت لیتی ہیں۔ کیا خوب ہو اگر ہم لائی گئی بہو کو اپنے بیٹے کے برابر سمجھیں۔ یہ سمجھیں کہ یہ بھی ہماری بیٹی ہے۔ اگر بیٹا دیر سے اٹھتا ہے تو بہو بھی اٹھ سکتی ہے۔ اگر بیٹا اپنی پسند ناپسند کا اظہار کر سکتا ہے تو بہو بھی کر سکتی ہے۔ مجھے حیرت ہے کہ آج اس دور میں بھی بہوئیں اپنی پسند کا کھانا تک نہیں بنا سکتیں، اپنی پسند کا لباس تو دور کی بات ہے۔

اور اس سب میں زیادہ قصور اس گھر کی عورتوں کا ہے، جو ساس کے روپ میں بیٹے کو غلط معلومات دیتی ہیں انھیں اکساتی ہیں کہ وہ بہو کے ساتھ غلط رویہ رکھیں اور نند کے روپ میں لڑائی جھگڑے ڈالتی ہیں۔ مرد فطرتاً گھریلو معاملات میں کمزور ہوتا ہے۔ وہ باریک بینی سے چیزیں نہیں دیکھ سکتا اور بہت سی چیزوں کے معنی اس طرح نہیں سمجھ سکتا جیسے عورت سمجھتی ہے۔

پھر وہ ماں پر اعتماد اور اعتبار نئی آنے والی عورت کی نسبت زیادہ کرتا ہے۔ معلوم نہیں عورتیں کب اپنے بیٹوں کو غلام سمجھنا چھوڑیں گی۔ میں تو اس بات پر لکھ لکھ کر تھک چکی ہوں کہ اس معاشرے کے مرد انہی عورتوں کی گود سے پرورش پا کر نکل رہے ہیں۔ باپ کا کردار بھی اہم ہے، مگر بچے سارا دن ماں کی تربیت میں گزارتے ہیں اور لڑکے تو ویسے بھی ماؤں کے زیادہ قریب ہوتے ہیں۔ شادی کے آغاز میں اختلافات ہر جوڑے میں ہوتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کے ساتھ جینا سیکھ رہے ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے کی عادات سے واقف ہو رہے ہوتے ہیں۔ کچھ اچھی تو کچھ بری عادات سب کی شخصیت کا حصہ ہوتی ہیں۔ مگر ان سب میں فیول کا کام ساس کرتی ہیں۔ اگر خاتون خانہ سمجھدار ہو تو وہ اپنے بچوں کی زندگی کو پرسکون بنانے میں ہر ممکن کوشش کرتی ہے اور خاتون خانہ کا سمجھدار ہونا انتہائی ضروری ہے۔

ہمیں شاید یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بہو کسی گھر میں صرف ایک رشتہ بن کر نہیں آتی، وہ اپنے ماں باپ کی برسوں کی محبت، تربیت، خواب اور اعتماد لے کر آتی ہے۔ جس طرح ایک ماں اپنی بیٹی کی عزت، سکون اور خوشی چاہتی ہے، اسی طرح کسی دوسری ماں نے بھی اپنی بیٹی کو انہی دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا ہوتا ہے۔ اگر ہم صرف اس ایک احساس کو دل میں جگہ دے لیں تو شاید ہمارے گھروں کی نصف تلخیاں خود بخود ختم ہو جائیں۔

گھروں میں سکون صرف بہو کو برداشت کرنا سکھائے جانے سے نہیں آتا، بلکہ وہاں ہوتا ہے جہاں ہر فرد برداشت کرنا سیکھے۔ جہاں احترام یک طرفہ نہ ہو بلکہ دو طرفہ ہو۔ جہاں محبت صرف لینے کا نام نہ ہو بلکہ دینے کا حوصلہ بھی ہو۔ جہاں رشتے اختیار سے نہیں بلکہ اعتماد سے چلیں۔ جہاں بہو اور بیٹا برابری کی سطح پر کھڑے ہوں نہ کہ احسان کی شکل میں کہ جی ہم نے رشتہ کے کر کوئی احسان کر دیا۔۔

ہم اکثر کہتے ہیں کہ آج کل کی بہوؤں میں برداشت نہیں رہی، مگر شاید ہمیں یہ سوال بھی خود سے کرنا چاہیے کہ کیا آج کے گھروں میں قبول کرنے کی صلاحیت باقی رہی ہے؟ کیا ہم کسی نئے آنے والے انسان کو اس کی شخصیت، عادات، پسند ناپسند اور انفرادیت کے ساتھ قبول کرنے کے لیے تیار ہیں؟ یا ہماری خواہش صرف یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی ہر شناخت مٹا کر ہمارے سانچے میں ڈھل جائے؟

ایک انسان کو بدلنے کی کوشش محبت نہیں، اختیار کا اظہار ہے۔ محبت تو وہ ہے جو خامیوں سمیت قبول کرنا سکھاتی ہے، جو اصلاح بھی عزت کے ساتھ کرتی ہے اور اختلاف میں بھی احترام کا دامن نہیں چھوڑتی۔

شاید وہ دن اس معاشرے کے لیے واقعی خوش قسمت ہوگا جب ہر ماں اپنے بیٹے کو صرف یہ نصیحت کرے کہ "جس طرح تم چاہتے ہو کوئی میری بیٹی کے ساتھ پیش آئے، اسی طرح تم بھی کسی کی بیٹی کے ساتھ پیش آنا" اور ہر ساس یہ سوچے کہ اگر آج اس گھر میں آنے والی لڑکی میری اپنی بیٹی ہوتی تو کیا میں اس کے ساتھ بھی یہی رویہ اختیار کرتی؟

شاید اسی ایک سوال کا ایماندار جواب ہمارے بہت سے گھروں کی تقدیر بدل دے۔

Check Also

Jharpein Aur Arab Maeeshat

By Hameed Ullah Bhatti